urdu column Urgent Repairs Needed for the Shok River Bridge

دریائے شوک پر قائم پل کی خستہ حالی۔ فوری توجہ طلب مسئلہ. آمینہ یونس ،بلتستانی
وادیِ چھوربٹ کے حسن آباد اور مرچھا کے درمیان دریائے شوک پر تعمیر شدہ پل نہ صرف تینوں گاؤں کو آپس میں ملاتا ہے بلکہ اہل علاقہ کی آمدورفت کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ اس پل سے روزانہ گاڑیاں گزرتی ہیں، مگر اس سے بڑھ کر یہ پل طلبہ و طالبات کے لیے علم اور روشن مستقبل کی راہ ہے۔ مرچھا کے چھوٹے بڑے بچے اور بچیاں حسن آباد اور امیر آباد کے سکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور انہیں ہر صبح و شام اسی پل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح میٹرک، ایف اے اور دیگر امتحانات کے دوران حسن آباد، امیر آباد کے طلبہ بھی امتحانی مرکز پرتک جانے کے لیے اسی پل کا استعمال کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے دریائے شوک پر قائم یہ پل عرصۂ دراز سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اگرچہ لکڑی کے تختوں کی خرابی اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے، مگر سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ پل کو سہارا دینے والی اہم تار بھی ٹوٹ چکی ہے۔ یہ کسی بھی وقت ایک بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے مگر افسوس کہ آج تک کسی ذمہ دار ادارے یا متعلقہ حکام نے اس کی مرمت کی طرف توجہ نہیں دی۔ یہ صرف گاڑیوں کی آمدورفت کا مسئلہ نہیں بلکہ روزانہ درجنوں معصوم بچوں، خواتین، بزرگوں اور عام لوگوں کی جانیں بھی خطرے میں ہیں۔ یہی پل تینوں گاؤں کے لوگوں کے لیے تعلیم، علاج، روزگار اور ضروری اشیائے خورونوش کی ترسیل کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ میں اس تحریر کے ذریعے متعلقہ حکام اور ذمہ داران سے پُرخلوص اپیل کرتی ہوں کہ خدارا انسانی جانوں کو اتنا سستا نہ سمجھیں۔ جولائی سے دریائے شوک میں پانی کا بہاؤ تیز ہو جاتا ہے اور پانی پل کے قریب تک پہنچ جاتا ہے جس سے خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ خدارا کسی المناک حادثے کا انتظار نہ کریں، بلکہ بروقت اس پل کی مرمت اور مضبوطی کو یقینی بنائیں تاکہ آنے والی نسلوں سمیت ہر راہ گیر کی جان محفوظ رہ سکے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!
50% LikesVS
50% Dislikes

دریائے شوک پر قائم پل کی خستہ حالی۔ فوری توجہ طلب مسئلہ. آمینہ یونس ،بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں