column in urdu urdu literary conversation

اردو کے خاموش چراغ کامل جنیٹوی (انڈیا) کے ساتھ راقمہ یاسمین اختر طوبیٰ کی فکر انگیز نشست
بعض چراغ ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے کسی مینار کی بلندی ضروری نہیں ہوتی۔ وہ کسی شہر کے مرکزی چوراہے پر نصب نہیں کیے جاتے، نہ ان کے گرد تصویریں کھنچوانے والوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ وہ گاؤں کی کسی خاموش گلی، کسی شکستہ دریچے یا کسی بے نام کمرے میں جلتے ہیں مگر ان کی روشنی دور تک سفر کرتی ہے۔ ان چراغوں کی لو آنکھوں سے پہلے دلوں کو منور کرتی ہے۔

اردو بھی آج ایسے ہی چراغوں کی تلاش میں ہے۔

وقت کی تیز رفتار شاہراہ پر جہاں زبانیں بازار کی ضرورت بن رہی ہیں، وہاں اردو محبت کے چند کندھوں پر سفر کر رہی ہے۔ کبھی اس کے نصاب سکڑ جاتے ہیں، کبھی اس کی تختیاں اتر جاتی ہیں، کبھی اس کے بولنے والے کم ہو جاتے ہیں مگر ہر دور میں کہیں نہ کہیں، کوئی شخص خاموشی سے اس کی نبض پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہتا ہے جیسے کوئی درویش مسجد کے بجھتے چراغ میں تیل ڈالتا رہے۔

ایسے ہی چراغوں میں ایک نام محترم کامل جنیٹوی صاحب کا بھی ہے۔

وہ نہ شہرت کی دوڑ میں شامل ہیں، نہ اعزازات کی چکاچوند نے انہیں اپنی طرف کھینچا۔ ایک چھوٹے سے قصبے جنیٹہ میں رہتے ہوئے نصف صدی سے اردو کی آبیاری میں مصروف ہیں۔ رسمی تعلیم مکمل نہ ہونے کے باوجود مطالعہ، ریاضت، استاد کی تربیت اور مسلسل تخلیقی سفر نے انہیں حمد، نعت، منقبت، غزل، نظم، رباعی، قطعہ، تاریخی قطعات، اردو دوہا، ماہیہ، ہائیکو، رینگا اور تنکا جیسی اصناف میں معتبر شناخت عطا کی۔ ان کا کلام ہندوستان اور پاکستان کے متعدد ادبی جرائد میں شائع ہوا، آل انڈیا ریڈیو اور مختلف دوردرشن مراکز سے نشر ہوتا رہا لیکن ان سب کے باوجود ان کی شخصیت میں وہی انکسار ہے جو پھل دار درخت کی شاخوں میں ہوتا ہے۔

یہ گفتگو کسی ادبی کانفرنس کے شور میں نہیں ہوئی۔

نہ درمیان میں تالیوں کی آواز تھی، نہ اسٹیج کی چکاچوند۔

صرف ایک موبائل اسکرین تھی، دو سرحدوں کے درمیان پھیلا ہوا خاموش فاصلہ تھا اور اس فاصلے کے بیچ لفظوں کا ایک پل آہستہ آہستہ تعمیر ہو رہا تھا۔

اسکرین روشن ہوئی۔

چہرے پر برسوں کی ریاضت کا سکون، لہجے میں دیہات کی مٹی کی سادگی اور آنکھوں میں اردو کے لیے ایک ایسی محبت تھی جو کسی دعوے کی محتاج نہیں۔

یوں محسوس ہوا جیسے راقمہ کسی شاعر سے نہیں، ایک ایسے باغباں سے گفتگو کرنے جا رہی ہو جس نے عمر بھر پھولوں کی نہیں، زبان کی آبیاری کی ہو۔

حصہ اول۔۔۔ مٹی، چراغ اور لفظوں کی ابتدا

سوال: کامل صاحب! اگر آپ کی پوری زندگی کو ایک داستان کا کردار مان لیا جائے تو مجھے آپ کی ذات میں ایک ایسا چراغ دکھائی دیتا ہے جو اندھیروں سے لڑنے کا اعلان نہیں کرتا، صرف خاموشی سے جلتا رہتا ہے۔ کیا آپ اپنی زندگی کو بھی اسی استعارے میں دیکھتے ہیں؟

کامل جنیٹوی: شاید میری پوری زندگی اسی ایک بات میں سمٹ جاتی ہے۔ میں نے کبھی سورج بننے کی خواہش نہیں کی۔ میری کوشش صرف یہ رہی کہ میرے حصے کا اندھیرا کم ہو جائے۔ اگر میری وجہ سے کسی ایک نوجوان کے دل میں اردو کے لیے محبت پیدا ہو جائے تو یہی میرے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔

سوال: آج جب اردو مختلف چیلنجز سے گزر رہی ہے، ایسے وقت میں آپ کو سب سے زیادہ کس بات کی فکر رہتی ہے؟

جواب: مجھے زبان کے مستقبل سے زیادہ اہلِ زبان کی بے توجہی کی فکر ہے۔ زبانیں دشمنوں سے نہیں مرتیں، اپنے لوگوں کی غفلت سے کمزور ہوتی ہیں۔ جب گھروں میں اردو بولی جائے گی، بچے اردو پڑھیں گے اور کتابیں ہاتھوں میں آئیں گی تو زبان خود بخود زندہ رہے گی۔

سوال: قصبہ جنیٹہ آپ کے لیے صرف جائے پیدائش ہے یا آپ کی شاعری کی پہلی درسگاہ؟

جواب: میرے لیے جنیٹہ صرف ایک قصبہ نہیں، میری شناخت ہے۔ میری پہلی بارش، پہلی دھوپ، پہلی خوشبو، پہلی اذان، پہلی خاموشی، سب اسی مٹی سے وابستہ ہیں۔ شاعر اپنے ماحول سے الگ ہو کر کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔

سوال: آپ کی رسمی تعلیم مکمل نہ ہو سکی۔ کیا یہ احساس کبھی دل میں خلش بن کر رہا؟

جواب: ضرور رہا مگر میں نے اسے محرومی نہیں بننے دیا۔ کتابیں میری یونیورسٹی بن گئیں۔ مطالعہ، مشاہدہ اور اہلِ علم کی صحبت نے وہ خلا بڑی حد تک پر کر دیا۔ علم کا سفر کسی سند پر ختم نہیں ہوتا۔
میں نے انٹر میڈیٹ تک اردو کے ساتھ تعلیم حاصل کی، جامعہ اردو علیگڑھ کے امتحانات پاس کیے۔

سوال: استاد زوّار حسن شیدا سنبھلی کی شاگردی نے آپ کو سب سے بڑا سبق کیا دیا؟

جواب: انہوں نے مجھے صرف عروض نہیں سکھائی بلکہ انسان بننا سکھایا۔ کہتے تھے کہ اچھا شعر کہنے سے پہلے اچھا انسان بنو۔ لفظوں کی عزت کرنا سیکھو کیونکہ شعر زبان کی نہیں، کردار کی بھی پہچان ہوتا ہے۔ اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہوگا کہ استادِ محترم مجھے اپنا چوتھا بیٹا کہتے تھے۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، آمین۔

سوال: شاعری کا آغاز ۱۹۸۰ میں ہوا۔ پہلا شعر آج بھی یاد ہے؟

جواب: پہلا شعر بھلایا نہیں جا سکتا۔ فنی اعتبار سے شاید خام تھا مگر اس میں دل کی سچائی شامل تھی۔ وہی سچائی آج تک میرے ساتھ چل رہی ہے۔
پہلی نعت پاک اور غزل کا شعر آج بھی یاد ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روضۂِ فخرِ دوعالم کس قدر پُر نور ہے
ذرّہ ذرّہ ان کے کوچے کا چراغِ طور ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل ہی قبضے میں جب نہ ہو اپنے
دھڑکنوں کا شمار کون کرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال: کیا شاعر پیدا ہوتا ہے یا بنتا ہے؟

جواب: شاعر شاید احساس لے کر پیدا ہوتا ہے مگر شاعر بنتا مسلسل ریاضت سے ہے۔ صرف جذبات کافی نہیں ہوتے، مطالعہ، مشق اور وقت بھی ضروری ہیں۔

سوال: زندگی نے آپ کو سب سے بڑی تعلیم کیا دی؟

جواب: خاموشی۔ جو خاموشی کو سمجھ لیتا ہے، وہ لفظوں کو بھی سمجھنے لگتا ہے۔

حصہ دوم۔۔۔لفظوں کے موسم، مشاعرے اور سرحدوں سے آزاد ادب

وقت کی رفتار اب گفتگو کو ایک اور موڑ پر لے آئی تھی۔ اسکرین کے اُس پار بیٹھے شاعر کبھی مسکرا دیتے، کبھی کسی سوال پر چند لمحے خاموش رہتے، جیسے جواب لفظوں میں نہیں، یادوں میں تلاش کر رہے ہوں۔

سوال: آپ نے حمد، نعت، منقبت، غزل، نظم، رباعی، قطعہ، دوہا، ماہیہ، ہائیکو، رینگا اور تنکا تک میں طبع آزمائی کی۔ اتنی مختلف اصناف میں سفر کیسے ممکن ہوا؟

جواب: میرے نزدیک ہر صنف احساس کا الگ لباس ہے۔ خیال وہی رہتا ہے، اظہار بدل جاتا ہے۔ کبھی غزل مناسب لگتی ہے، کبھی نظم، کبھی تین مصرعوں میں پوری کیفیت سمٹ آتی ہے۔
یہاں میں دو شخصیات کا ذکر نہ کروں تو یہ سراسر احسان فراموشی ہو گی۔
اول میرے محترم دوست ڈاکٹر طاہر رزّاقی (مرحوم) جن کی قربتوں نے مجھے ‘رباعی’ اور ‘تاریخی قطعات کی طرف راغب کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، آمین۔
دوسری شخصیت محترم ڈاکٹر فراز حامدی صاحب (جے پور راجستھان) ہیں جنہوں نے مجھے جدید اصناف کی تحریک بخشی۔ اللہ تعالیٰ انہیں عمرِ دراز عطا فرمائے، آمین۔

سوال: آپ کے نزدیک شاعری کی اصل تعریف کیا ہے؟

جواب: شاعری میرے لیے لفظوں کی آرائش نہیں، احساس کی عبادت ہے۔ جب دل کسی سچائی کو خاموش نہیں رہنے دیتا تو شعر جنم لیتا ہے۔

سوال: آل انڈیا ریڈیو سے آپ کا تعلق چار دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ یہ سفر کیسا رہا؟

جواب: ۱۹۸۱ سے آل انڈیا ریڈیو رامپور سے وابستگی ہے۔ مختلف دوردرشن مراکز سے بھی کلام نشر ہوا۔ ہر نشریہ میرے لیے خوشی سے زیادہ ذمہ داری کا احساس لے کر آیا اور مسلسل چلتے رہنے کی تحریک بخشی۔

سوال: مشاعروں کی روایت میں سب سے بڑی تبدیلی کیا محسوس کرتے ہیں؟

جواب: پہلے مشاعرے تربیت گاہ ہوتے تھے، اب تفریح کا رنگ کچھ زیادہ نمایاں ہے۔ تاہم اچھے شعرا آج بھی موجود ہیں اور اچھی روایت بھی باقی ہے۔

سوال: آن لائن عالمی مشاعروں نے ادب کو کیا دیا؟

جواب: فاصلے ختم کر دیے۔ آج ایک شاعر اپنے گھر سے پوری دنیا کے سامعین تک پہنچ سکتا ہے بشرطیکہ معیار کو قربان نہ کیا جائے۔

سوال: آپ کے کلام کی اشاعت ہندوستان اور پاکستان ہر دو ممالک کے ادبی رسائل میں ہوتی رہی ہے۔ کیا ادب واقعی سرحدوں سے آزاد ہے؟

جواب: ادب کا وطن انسان کا دل ہے۔ زبانیں نفرت بانٹنے کے لیے نہیں، محبت جوڑنے کے لیے پیدا ہوئی ہیں۔ اگر ایک شعر سرحد پار کسی دل کو چھو لے تو یہی اس کی اصل کامیابی ہے۔

سوال: آپ اردو سے ناواقف دیہات میں تنہا اردو کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔ کبھی تھکن محسوس نہیں ہوتی؟

جواب: محبت میں تھکن نہیں ہوتی۔ اگر ایک بچہ بھی اردو سیکھ لے تو میں سمجھتا ہوں کہ میری محنت وصول ہو گئی۔
اللہ تعالیٰ کا خاص کرم یہ بھی ہے میرے اہلِِ خانہ اردو والے ہیں۔ خاص بات یہ کہ میرا بیٹا ‘وقار جنیٹوی’ (ایم ۔ اے۔ اردو / انگریزی) اچھے اشعار کہتا ہے اور وہ بھی ریڈیو اور دوردرشن سے نشر ہو رہا ہے۔

سوال: کیا کبھی ایسا لگا کہ آپ کی خدمات کا اعتراف کم ہوا؟

جواب: اعتراف مل جائے تو شکر، نہ ملے تو صبر۔ میرا اصل انعام یہ ہے کہ میں بساط بھر اردو کی خدمت کر رہا ہوں۔
آپ سرحد پار سے مجھ سے مخاطب ہیں، بھلا اس سے بڑا اعتراف کیا ہو گا۔

حصہ سوم۔۔۔ چراغ کی لو اور آنے والے کل کی امید

گفتگو اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی تھی مگر محسوس یہی ہو رہا تھا کہ جیسے ابھی کئی دریچے کھلنے باقی ہیں۔ اسکرین پر موجود چہرہ ایک شاعر کا تھا مگر اس کے پیچھے ایک معلم، ایک مبصر، ایک درویش، ایک کارکن اور ایک خاموش سپاہی بھی دکھائی دیتا تھا۔

سوال: شاعر کی سب سے بڑی ذمہ داری کیا ہے؟

جواب: شاعر کو دلوں میں روشنی پیدا کرنی چاہیے۔ نفرت کے بجائے محبت، نفاق کے بجائے اتفاق اور مایوسی کے بجائے امید لکھنی چاہیے۔

سوال: نئی نسل کے شعرا کے لیے آپ کا سب سے اہم مشورہ؟

جواب: مطالعہ کریں، کلاسیکی ادب سے رشتہ جوڑیں، سستی شہرت کے پیچھے نہ بھاگیں۔ اچھی شاعری وقت، صبر اور مسلسل ریاضت مانگتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہتر ہے خود تلاش کرو اپنی منزلیں
عزمِ سفر جواں ہے تو ہیں راستے بہت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں شہرت تو مل سکتی ہے وقفہ طور پر لیکن
کسی کی چاپلوسی دائمی عزّت نہ بخشے گی
کرو نوکِ قلم کی زد پہ خود پیدا مقام اپنا
تمہاری جانفشانی ہی تمہارے کام آئے گی
۔۔۔۔۔۔
سوال: اگر زندگی دوبارہ ملے تو کیا پھر یہی راستہ اختیار کریں گے؟

جواب: جی ہاں۔ یقیناً پھر بھی اردو ہی میرا انتخاب ہوگی۔

سوال: آپ کے نزدیک کامیابی کیا ہے؟

جواب: جب انسان اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو ہو جائے، وہی کامیابی ہے۔

سوال: کیا آپ کو مستقبل میں اردو کے لیے امید نظر آتی ہے؟

جواب: امید ہمیشہ رہتی ہے۔ جب تک ایک بھی شخص محبت سے اردو بولتا رہے گا، یہ زبان زندہ رہے گی۔

سوال: اگر آپ اپنی پوری زندگی کو ایک مصرعے میں سمیٹیں؟

جواب:
“میں اک چراغ ہوں جلنا ہی میری قسمت ہے۔”

سوال: آخر میں قارئین کے لیے کوئی پیغام؟

جواب: کتابوں سے دوستی کریں، زبانوں کا احترام کریں اور انسانوں کے درمیان محبت کے پل تعمیر کریں۔ یہی ادب کا اصل مقصد ہے۔

اسکرین خاموش ہو چکی تھی۔
رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
مگر گفتگو ختم نہیں ہوئی تھی
کیونکہ کچھ آوازیں رابطے ختم ہونے کے بعد بھی دل میں گونجتی رہتی ہیں۔ کامل جنیٹوی صاحب سے یہ گفتگو بھی ایسی ہی تھی۔ یوں محسوس ہوا جیسے کسی دور افتادہ گاؤں کی شام میں ایک پرانا چراغ اب بھی جل رہا ہو اور اس کی مدھم سی لو آنے والی نسلوں کو راستہ دکھانے کے لیے کافی ہو۔

ادب کی دنیا ہمیشہ بڑے ناموں سے نہیں چلتی بلکہ ان گمنام ہاتھوں سے ہی آباد رہتی ہے جو خاموشی سے لفظوں کی کھیتی تیار کرتے ہیں۔ کامل جنیٹوی انہی کسانوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے نہ شہرت کی فصل اگائی، نہ صلے کی تمنا کی, بس اردو کی خوشبو میں رچی مٹی کو اپنے خوب صورت احساسات سے سینچتے رہے۔

آنے والا وقت ان کے نام کو کس درجے پر رکھے، یہ تاریخ کا فیصلہ ہوگا لیکن آج کی اس گفتگو کے بعد اتنا یقین ضرور ہوا کہ زبانیں صرف کتابوں سے اپنا وجود برقرار نہیں رکھتیں، ان لوگوں سے بھی زندہ رہتی ہیں جو اپنی پوری زندگی کو ایک خاموش چراغ بنا دیتے ہیں۔

اور کامل جنیٹوی صاحب… انہی چراغوں میں سے ایک روشن چراغ ہیں۔

column in urdu urdu literary conversation

50% LikesVS
50% Dislikes

اردو کے خاموش چراغ کامل جنیٹوی (انڈیا) کے ساتھ راقمہ یاسمین اختر طوبیٰ کی فکر انگیز نشست

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں