column in urdu Real Happiness of Freedom

آزادی کی اصل خوشی . آمینہ یونس، بلتستانی
چودہ اگست کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں۔ اسکول کے بچوں میں سے کوئی جھنڈیاں خرید رہا تھا اور کوئی جھنڈے کے ہم رنگ کپڑے بنوا رہا تھا۔ زبیر یہ سب خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ آج بھی کلاس میں بچے اپنی اپنی تیاریوں کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ استادِ محترم محمود قریشی کلاس میں آئے تو کسی نے توجہ نہ دی سوائے زبیر کے۔ انہوں نے دیکھا کہ زبیر الگ تھلگ اور خاموش بیٹھا ہے۔ انہوں نے پوچھا، “زبیر، کیا بات ہے؟ طبیعت ٹھیک ہے؟ تم ان سرگرمیوں میں حصہ کیوں نہیں لے رہے؟” زبیر نے آہ بھری اور کہا، “سر، کیا آزادی کی اصل خوشی صرف جھنڈا خریدنے اور قومی رنگوں کے کپڑے پہننے کا نام ہے؟” استاد نے جواب دیا، “بیٹا، آج کے دن جتنی خوشی منائی جائے کم ہے۔ اسی دن پاکستان ایک آزاد وطن کی حیثیت سے وجود میں آیا تھا۔” زبیر بولا، “سر، ہم تو خوشی منا رہے ہیں، مگر ان لوگوں کو کیا ملا جنہوں نے جان و مال کا نذرانہ دے کر یہ وطن ہمارے لیے بنایا؟ کیا اس دن اسکولوں، کالجوں اور ہر ادارے میں ان کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ نہیں ہونی چاہیے؟ ہم جھنڈیاں اور باجے خریدتے ہیں، پھر اگلے ہی دن وہی جھنڈے ہمارے قدموں تلے روندے جاتے ہیں۔ کیا یہی آزادی کا احترام ہے؟ میرا ضمیر یہ سب قبول نہیں کرتا۔ جب تک آزادی کی اصل روح کو نہیں سمجھا جائے گا، اس کی حقیقی خوشی بھی محسوس نہیں ہوگی۔” زبیر کی بات سن کر پوری کلاس خاموش ہوگئی۔ استادِ محترم بھی گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ انہوں نے سر جھکا لیا اور دل میں سوچنے لگے کہ زبیر ٹھیک کہہ رہا ہے۔ شاید ہم آزادی کی اصل روح سے دور ہو چکے ہیں اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ کہیں نہ کہیں صرف دکھاوے تک محدود ہو گیا ہے۔

ناہید اختر: خاموشی میں لپٹی ہوئی ایک لازوال داستان.سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا

ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز ” علی جعفر

column in urdu Real Happiness of Freedom

50% LikesVS
50% Dislikes

آزادی کی اصل خوشی . آمینہ یونس، بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں