امی. ابو کب آئیں گے؟ ایس ایم مرموی
(قسط اول)
ہر انسان کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جو اس کی پوری شخصیت کا رخ متعین کر دیتا ہے کچھ لوگوں کے لیے وہ لمحہ کامیابی ہوتا ہے کچھ کے لیے ناکامی، مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی زندگی کا رخ ایک ایسا سانحہ بدل دیتا ہے جسے وہ کبھی بھلا نہیں پاتے ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی ابتدائی زندگی بھی ایک ایسے ہی سانحے سے جڑی ہوئی ہے ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کا تعلق بلوچستان سے ہے وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں تعلیم اور سماجی شعور کو اہمیت دی جاتی تھی ان کے والد، ڈاکٹر عبدالغفار بلوچ پیشے کے اعتبار سے ایک ڈاکٹر تھے اور اپنے علاقے میں ایک معروف شخصیت سمجھے جاتے تھے لیکن جب ماہرنگ ابھی کم سن تھیں تو ان کے والد لاپتا ہوگئےاس واقعے نے ان کے خاندان کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ایک آٹھ سالہ بچی شاید سیاست، قانون یا ریاستی معاملات کو نہیں سمجھ سکتی لیکن وہ اپنے والد کی کمی ضرور محسوس کرتی ہے ماہرنگ بلوچ بھی بار بار یہی سوال کرتی تھیں میرے ابو کہاں ہیں؟ یہ سوال وقت کے ساتھ ان کی زندگی کا مرکزی سوال بن گیا
بعد ازاں ماہرنگ بلوچ کے پہ در پہ ریاست سے سوال کرنے پر ان کے والد کی لاش ملنے کی خبر سامنے آئی جس نے اس سانحے کو مزید گہرا کر دیا اس واقعے نے ماہرنگ بلوچ کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑا انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور تمام مشکلات کے باوجود میڈیکل کی تعلیم حاصل کی وہ ڈاکٹر بنیں لیکن ان کی شناخت صرف ایک معالج تک محدود نہ رہی بلکہ وہ لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کی آواز کے طور پر بھی سامنے آئیں۔
ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ نے مختلف مواقع پر پرامن احتجاج دھرنوں اور عوامی اجتماعات میں شرکت کی ان کا بنیادی مؤقف یہ رہا کہ اگر کسی فرد پر سنگین الزامات ہیں تو اسے آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ انصاف کا عمل شفاف انداز میں مکمل ہو ان کے مطابق لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کو اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات ملنی چاہییں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اسلام آباد میں ہونے والے ان کے احتجاج نے انہیں قومی سطح پر نمایاں کیا جہاں وہ دیگر خاندانوں کے ساتھ لاپتا افراد کی تصاویر اٹھائے نظر آئیں ان احتجاجی سرگرمیوں کے دوران ریاستی اداروں اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی جس کے بارے میں دونوں جانب سے مختلف مؤقف سامنے آئے آج ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ پاکستان کی متنازع مگر نمایاں سماجی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں ایک طرف ان کے حامی انہیں انسانی حقوق اور جبری گمشدگیوں کے متاثرہ خاندانوں کی آواز قرار دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کے ناقدین ان کے سیاسی مؤقف اور سرگرمیوں پر اعتراضات اٹھاتے ہیں ان مختلف آراء سے قطع نظر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ان کی ابتدائی زندگی کا سب سے بڑا واقعہ اپنے والد کی جدائی اور اس کے بعد کی جدوجہد تھا جس نے ان کی شخصیت، سوچ اور عوامی کردار کو گہرے طور پر متاثر کیا۔
اسلام آباد کی سردی عام سردی نہیں ہوتی دسمبر اور جنوری کی راتوں میں جب دھند زمین پر اترتی ہے تو لگتا ہے جیسے شہر سفید کفن اوڑھے سو گیا ہو ایسے میں لوگ گھروں کے اندر ہیٹر جلاتے ہیں گرم چائے پیتے ہیں اور کمبلوں میں دبک کر رات گزار دیتے ہیں مگر انہی سرد راتوں میں ڈی چوک کے قریب چند عورتیں، چند بوڑھے چند نوجوان اور چند بچے کھلے آسمان تلے بیٹھے تھے ان کے پاس نہ لحاف تھے نہ شعلہ زن الاؤ ان کے ہاتھوں میں صرف تصویریں تھیں کسی تصویر میں ایک نوجوان مسکرا رہا تھا کسی میں ایک سفید ریش بزرگ کسی میں یونیورسٹی کا طالب علم اور کسی میں ایک کم سن لڑکا۔
یہ لوگ کسی انقلاب کے لیے نہیں نکلے تھے نہ وہ اقتدار کا تختہ الٹنا چاہتے تھے نہ وزارت مانگ رہے تھے ان کا دعویٰ تھا کہ وہ صرف اپنے ان پیاروں کے بارے میں جواب چاہتے ہیں جن کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ برسوں سے لاپتا ہیں انہیں بتایا جائے کہ وہ کس جرم میں لاپتہ ہیں انہی چہروں کے درمیان ایک نوجوان خاتون کھڑی تھی اس کا نام ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ تھا مگر اس کہانی کا آغاز اسلام آباد سے نہیں ہوتا یہ کہانی اس دن شروع ہوتی ہے جب ایک آٹھ سالہ بچی نے پہلی بار اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اپنی ماں سے پوچھا تھا امی… ابو کب آئیں گے؟
شاید اس وقت کسی نے نہیں سوچا ہوگا کہ یہ ایک بچی کا سوال نہیں آنے والے برسوں کی سیاست، قانون انسانی حقوق اور ریاستی ذمہ داری پر اٹھنے والا سب سے کڑا سوال بن جائے گا کہتے ہیں کہ بچے بہت جلد بھول جاتے ہیں۔لیکن کچھ زخم عمر بھر یاد رہتے ہیں بعض بچے کھلونوں کے لیے روتے ہیں بعض عید کے کپڑوں کے لیے مگر جس بچی کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جائے اس کے حصے میں سوال آتے ہیں اور سوال کبھی بوڑھے نہیں ہوتے
سال گزرتے گئے بچی جوان ہوگئی اس نے طب کی تعلیم حاصل کی ڈاکٹر بنی مگر اس کے دل میں ایک خالی جگہ ویسے ہی موجود رہی وہ خالی جگہ کسی عہدے کسی شہرت یا کسی ڈگری سے نہیں بھری جا سکتی تھی کیونکہ وہ جگہ ایک باپ کی تھی یہاں اصل سوال صرف ایک فرد کا نہیں رہتا۔سوال یہ ہے کہ جب کوئی خاندان برسوں تک اپنے پیارے کی خبر کا منتظر رہے تو اس پر کیا گزرتی ہوگی؟ انتظار کی اذیت موت سے بھی زیادہ طویل ہوتی ہے موت کم از کم ایک حقیقت ہے مگر انتظار ایک ایسا عذاب ہے جس میں امید بھی زندہ رہتی ہے اور خوف بھی۔
تصور کیجیے، ایک ماں ہر دستک پر چونک اٹھتی ہو ایک بہن ہر آنے والے فون پر دل تھام لیتی ہو ایک بیٹا ہر آنے والے شخص کے چہرے میں اپنے باپ کو تلاش کرتا ہو یہ کیفیت ایک دن ایک مہینے یا ایک سال کی نہیں بلکہ برسوں پر محیط ہو تو انسان کے اندر کی دنیا بدل جاتی ہے اسی احساس نے ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو سڑکوں تک پہنچایا انہوں نے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر کسی شخص پر دہشت گردی یا کسی سنگین جرم کا الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ الزام اور دفاع دونوں کو سنا جا سکے ان کے ساتھ شریک متعدد خاندان بھی یہی کہتے رہے کہ انہیں اپنے لاپتا عزیزوں کے بارے میں قانونی اور شفاف جواب دیا جائے۔یہ مطالبہ پاکستان میں برسوں سے جاری ایک بڑے اور متنازع مسئلے سے جڑا ہوا ہے ریاستی اداروں کا مؤقف رہا ہے کہ ملک کو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بیرونی مداخلت جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے جبکہ انسانی حقوق کی مختلف تنظیمیں مسلسل یہ سوال اٹھاتی رہی ہیں کہ قومی سلامتی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ شہریوں کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اسلام آباد کے دھرنے میں جب سخت سردی اپنے عروج پر تھی تب مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا واٹر کینن چلائے گئے اور متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال پیدا کیا کہ ریاست اور شہری کے درمیان اختلاف کا حل مکالمہ ہونا چاہیے یا طاقت؟ میں ہمیشہ ایک بات سوچتا ہوں ریاست اور شہری کا تعلق باپ اور بیٹے جیسا نہیں ہوتا بلکہ ماں اور بچے جیسا ہونا چاہیے باپ کبھی کبھی سخت ہو جاتا ہے مگر ماں ناراض ہونے کے باوجود بچے کی آواز ضرور سنتی ہے اگر ریاست واقعی ماں ہے تو اسے اپنے ہر بچے کی فریاد سننے کا حوصلہ بھی رکھنا ہوگا خواہ وہ فریاد اس کی پالیسیوں سے اختلاف ہی کیوں نہ رکھتی ہو یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ریاست پر امن قائم رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اگر کسی فرد پر سنگین جرائم کے الزامات ہوں تو ان کی تحقیقات اور قانونی کارروائی بھی ضروری ہوتی ہے لیکن اسی کے ساتھ قانون کا بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ انصاف کا عمل شفاف ہو عدالتیں فیصلہ کریں اور ہر شہری کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہو یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کی طاقت اور قانون کی بالادستی کا امتحان شروع ہوتا ہے طاقت خاموشی پیدا کر سکتی ہے لیکن اعتماد نہیں اعتماد صرف انصاف سے پیدا ہوتا ہے اور جب انصاف پر سوال اٹھنے لگیں تو خاموش رہنے والے بھی ایک دن سوال پوچھنا شروع کر دیتے ہیں
جاری ہے۔۔۔
Mother, When Will Father Return
0



