پاکستان میں پٹرولیم پالیسی، عالمی مثالیں اور عوامی ریلیف . یاسر دانیال صابری
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں عوام ہر مشکل گھڑی میں ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ کبھی مہنگائی کے بوجھ کو برداشت کرتے ہیں، کبھی نئے ٹیکس قبول کرتے ہیں، کبھی بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو قومی مفاد کے نام پر سہہ لیتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب عالمی حالات عوام کے حق میں سازگار ہوتے ہیں تو کیا حکومت بھی اسی جذبے کے ساتھ عوام کو ریلیف فراہم کرتی ہے؟ یہ سوال آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوچکا ہے کیونکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، تیل کی ترسیل معمول پر آئی اور دنیا کے متعدد ممالک نے اس کمی کا فائدہ اپنے شہریوں تک پہنچانے کی کوشش کی، مگر پاکستان میں عوام کو خاطر خواہ ریلیف نہ ملنے پر تشویش پائی جاتی ہے۔
خام تیل کی قیمت دنیا کی معیشت میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی قیمت بڑھنے سے صرف پٹرول اور ڈیزل ہی مہنگے نہیں ہوتے بلکہ ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، بجلی کی پیداوار، تعمیرات اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح جب خام تیل سستا ہوتا ہے تو اس کے مثبت اثرات بھی معیشت کے مختلف شعبوں تک پہنچنے چاہییں۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہی اصول اختیار کیا جاتا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل کیا جائے تاکہ مہنگائی کم ہو، کاروبار کو سہولت ملے اور عوام کی قوتِ خرید بہتر ہو۔
پاکستان میں ایک مختلف رجحان دیکھنے کو ملتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو چند ہی دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ اس کے فوراً بعد ٹرانسپورٹر کرائے بڑھا دیتے ہیں، سبزی اور پھل مہنگے ہوجاتے ہیں، دودھ، آٹا، چینی، گھی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی اوپر چلی جاتی ہیں۔ صنعتیں اپنی پیداواری لاگت بڑھنے کا جواز پیش کرکے مصنوعات مہنگی کردیتی ہیں۔ لیکن جب عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہوتا ہے تو یہی رفتار کہیں نظر نہیں آتی۔ اشیائے خورونوش، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں عموماً اپنی سابقہ سطح پر برقرار رہتی ہیں، جس کا نقصان براہِ راست عام شہری کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، جاپان، کینیڈا، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں حکومتیں توانائی کی قیمتوں کو معاشی استحکام کا اہم ذریعہ سمجھتی ہیں۔ جب عالمی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو حکومتیں یا تو ایندھن کی قیمتوں میں کمی کرتی ہیں یا ٹیکسوں میں مناسب ردوبدل کرکے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نقل و حمل کے اخراجات کم ہوتے ہیں، کاروباری لاگت گھٹتی ہے اور کئی شعبوں میں صارفین کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ اگرچہ ہر ملک کا معاشی نظام مختلف ہوتا ہے، لیکن عوامی مفاد کو ترجیح دینا ایک مشترکہ اصول ہے۔
پاکستان میں حکومت اکثر مالی خسارے، قرضوں، محصولات کی ضرورت اور دیگر معاشی مجبوریوں کا حوالہ دے کر پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس اور لیوی برقرار رکھتی ہے۔ بلاشبہ ریاست کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر تمام مالی بوجھ صرف عام آدمی پر ڈال دیا جائے تو معاشی انصاف کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب متوسط طبقہ سکڑ رہا ہو، بے روزگاری بڑھ رہی ہو اور مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہو، حکومت کی اولین ذمہ داری عوام کو ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کرنا ہونی چاہیے۔
پٹرولیم لیوی ایک ایسا موضوع ہے جس پر عوام عرصہ دراز سے سوال اٹھاتے آرہے ہیں۔ اگر عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہورہا ہے تو کیا حکومت کو چاہیے کہ وہ اضافی محصولات کے ذریعے اسی فائدے کو جذب کرلے، یا پھر اس کا کچھ حصہ عوام تک بھی منتقل کرے؟ کئی ممالک نے مشکل معاشی حالات میں اپنے شہریوں کو سہارا دینے کے لیے ایندھن پر عائد بعض ٹیکسوں میں عارضی کمی کی، تاکہ مہنگائی کا دباؤ کم ہو سکے۔ پاکستان میں بھی ایسے اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ قیمتوں کے تعین میں شفافیت کا ہے۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو پرانا ذخیرہ بھی اکثر نئے مہنگے نرخوں پر فروخت ہوجاتا ہے، لیکن جب عالمی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو عوام کو فوری فائدہ نہیں پہنچایا جاتا۔ اس طرزِ عمل سے عوام میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ منافع تو فوری کمایا جاتا ہے، مگر ریلیف دینے میں تاخیر کی جاتی ہے۔ ایسی صورتحال اعتماد کو کمزور کرتی ہے۔
پاکستان کی آبادی کروڑوں افراد پر مشتمل ہے جن میں بڑی تعداد متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی ہے۔ یہ طبقہ پہلے ہی مہنگی بجلی، بڑھتے ہوئے کرایوں، تعلیمی اخراجات، صحت کی سہولیات اور روزمرہ ضروریات کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہے۔ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے حکومت کو مالی گنجائش ملتی ہے تو اس کا مناسب حصہ عوام تک ضرور پہنچنا چاہیے تاکہ ان کی زندگی میں حقیقی آسانی پیدا ہو۔
یہ بھی ضروری ہے کہ پٹرول سستا ہونے کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کو یقینی بنایا جائے۔ اسی طرح اشیائے خورونوش، زرعی پیداوار، صنعتی مصنوعات اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں پر بھی مؤثر نگرانی کی جائے۔ اگر صرف پٹرول کی قیمت کم ہو اور باقی تمام اشیاء مہنگی رہیں تو عام آدمی کو اس فیصلے کا حقیقی فائدہ نہیں ملے گا۔
حکومت کو ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔ متعلقہ اداروں کو صرف قیمتوں کے اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی نگرانی کرنی ہوگی تاکہ ہر سطح پر عوامی مفاد کا تحفظ ہوسکے۔ جدید ٹیکنالوجی، شفاف ڈیجیٹل نگرانی اور مؤثر مارکیٹ ریگولیشن کے ذریعے قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کو روکا جاسکتا ہے۔
طویل المدتی بنیادوں پر پاکستان کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ شمسی توانائی، ہوا سے بجلی، پن بجلی اور دیگر متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری سے نہ صرف درآمدی بل کم ہوگا بلکہ مستقبل میں عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے اثرات بھی محدود کیے جاسکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی ٹرانسپورٹ کے بہتر نظام، توانائی کے مؤثر استعمال اور مقامی وسائل کے فروغ پر بھی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کسی بھی مضبوط معیشت کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب عوام دیکھتے ہیں کہ مشکل وقت میں ان سے قربانیاں لی جاتی ہیں اور بہتر حالات میں انہیں ریلیف بھی دیا جاتا ہے تو ریاست پر ان کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن اگر قربانیاں صرف عوام دیں اور فوائد محدود حلقوں تک پہنچیں تو مایوسی بڑھتی ہے اور معاشی نظام پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
پاکستان کو ایک ایسی پٹرولیم پالیسی کی ضرورت ہے جو شفاف، منصفانہ اور عوام دوست ہو۔ قیمتوں کے تعین کا طریقہ واضح ہو، عالمی منڈی میں کمی کا مناسب فائدہ صارفین تک پہنچے، ٹیکسوں اور لیوی کا نظام متوازن ہو، اور متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا اثر معیشت کے ہر شعبے تک پہنچے۔
آخرکار ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو اپنے شہریوں کی مشکلات کو سمجھتی ہے، بروقت فیصلے کرتی ہے اور عوامی اعتماد کو اپنی سب سے بڑی طاقت بناتی ہے۔ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کم ہوتی ہے تو اس کا حقیقی فائدہ بھی عام آدمی تک پہنچنا چاہیے۔ یہی معاشی انصاف ہے، یہی اچھی حکمرانی ہے اور یہی ایک خوشحال اور مضبوط پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔
column in urdu Pakistan’s Petroleum Policy




