فریبِ وقت. آمینہ یونس ،بلتستانی
صنف : افسانہ ، عنوان: فریبِ وقت. آمینہ یونس ،بلتستانی
دروازے سے ٹیک لگائے سلمیٰ گلی سے گزرتے بچوں کو دیکھ رہی تھی۔ اوپر سے موسلا دھار بارش برس رہی تھی، مگر بچوں کو نہ کپڑوں کے خراب ہونے کی فکر تھی، نہ کیچڑ کی۔ وہ بے فکری سے بارش کے پانی میں کھیل رہے تھے، ایک دوسرے پر پانی اچھال رہے تھے۔ ان کے چہروں پر سجی سچی مسکراہٹیں ایسے لگ رہی تھیں جیسے بارش میں کھلے گلاب کے پھول۔ سلمیٰ نے ایک لمبی سانس لی اور دل ہی دل میں ان چہروں کی شادابی کی دعا کرتے ہوئے اندر قدم رکھا۔ جونہی اس نے دروازہ بند کیا، اندر کا سناٹا اس کا استقبال کرنے لگا۔ اس نے سر اٹھا کر اس خوبصورت گھر کی در و دیوار کو دیکھا، جس کی ہر اینٹ میں کبھی محبت، خوشیاں اور قہقہے بستے تھے، مگر آج وہاں خاموشی کا راج تھا۔ اس سناٹے کو توڑنے کے لیے اس نے چند مرغیاں پال رکھی تھیں۔ انہی کی آوازیں اسے احساس دلاتی تھیں کہ زندگی ابھی باقی ہے۔ کبھی یہی گھر مہمانوں، بچوں کی ہنسی اور اپنے پن سے آباد رہتا تھا، مگر اب ہر کمرہ جیسے اس سے کوئی سوال کرتا تھا۔ خاموش دیواریں بھی ماضی کی یادیں دہراتی محسوس ہوتی تھیں۔ سلمیٰ نے آہستہ سے آنکھیں بند کیں تو یادوں کا دریچہ کھل گیا۔ سلمیٰ نازوں میں پلی بڑھی، تعلیم یافتہ، باوقار اور خوش مزاج لڑکی تھی۔ یونیورسٹی میں اس کی ملاقات اپنے کلاس فیلو نعیم سے ہوئی۔ ابتدا میں دونوں کے درمیان صرف تعلیمی تعلق تھا، مگر وقت کے ساتھ ایک دوسرے کی سادگی، کردار اور سوچ نے ان کے دلوں میں جگہ بنا لی۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد اپنے گھر والوں کی رضا سے نکاح کریں گے۔ نعیم متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا، مگر خوددار، محنتی اور باکردار نوجوان تھا۔ وہ ہمیشہ کہتا، “میں دولت کا وعدہ نہیں کرتا، مگر عزت اور وفا کا وعدہ ضرور کرتا ہوں۔” یہی الفاظ سلمیٰ کے لیے سب سے بڑی دولت تھے۔ انہی دنوں شہر کے معروف کاروباری شخصیت فرقان حمید ایک یونیورسٹی تقریب میں بطور مہمان شریک ہوئے۔ اسٹیج پر پراعتماد انداز میں نظامت کرتی سلمیٰ نے ان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ تقریب ختم ہوتے ہی انہوں نے اس کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور چند ہی دن بعد رشتہ بھجوا دیا۔ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ فرقان کا نام، شہرت، عالی شان گھر، قیمتی گاڑیاں اور بیرونِ ملک تک پھیلا کاروبار ہر کسی کو متاثر کر رہا تھا۔ بہنیں رشک کرنے لگیں اور سہیلیاں اسے اپنی خوش نصیبی قرار دینے لگیں۔ مگر سلمیٰ خاموش تھی۔ اس نے والدین کو صاف لفظوں میں بتایا کہ وہ نعیم کو پسند کرتی ہے اور اسی سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ والدین نے اسے سمجھایا کہ محبت سے زیادہ ضروری محفوظ مستقبل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، “بیٹی! محبت بعد میں بھی ہو جاتی ہے، مگر ایسا رشتہ بار بار نہیں آتا۔” سلمیٰ نے بہت کوشش کی کہ وہ ان کو اپنی بات سمجھا سکے، مگر دولت کی چمک نے ان کی سوچ پر پردہ ڈال دیا تھا۔ ادھر سلمیٰ نے نعیم کو بھی سب کچھ بتا دیا۔ نعیم پریشان ہو گیا اور اسی روز اپنے والدین سے بات کی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جلد ہی رشتہ لے کر جائیں گے، لیکن قسمت نے ایک اور موڑ لے لیا۔ ان کے قریبی عزیز کا انتقال ہو گیا، جس کی وجہ سے کئی ہفتے اسی غم اور مصروفیت میں گزر گئے۔ ادھر فرقان کے گھر والے دوبارہ رشتہ لے کر آ گئے۔ انہوں نے زیادہ انتظار نہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ سلمیٰ کے والدین نے بیٹی کے بہتر مستقبل، آسودہ زندگی اور سماجی حیثیت کو دیکھتے ہوئے اس کی خواہش کو نظر انداز کر دیا اور رشتے کے لیے ہاں کر دی۔ جب نعیم اپنے والدین کے ساتھ رشتہ لے کر پہنچا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ سلمیٰ کا نکاح طے ہو چکا تھا۔ وہ خاموشی سے واپس لوٹ آیا۔ اس نے نہ کوئی ہنگامہ کیا اور نہ ہی کسی پر الزام رکھا۔ صرف اتنا کہا، “شاید قسمت کو یہی منظور تھا۔” چند ہفتوں بعد سلمیٰ دل پر پتھر رکھ کر فرقان کی دلہن بن گئی۔ فرقان بے حد خوش تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس نے اپنی پسند حاصل کر لی ہے۔ وہ سلمیٰ کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتا، مہنگے تحفے دیتا، سیر و تفریح کراتا اور دنیا کی ہر آسائش اس کے قدموں میں رکھ دینا چاہتا تھا، مگر رشتے صرف آسائشوں سے نہیں، اعتماد سے زندہ رہتے ہیں۔ فرقان کی زندگی میں ایک ایسی لڑکی بھی تھی جو برسوں سے اس سے یک طرفہ محبت کرتی تھی۔ جب اسے فرقان کی شادی کا علم ہوا تو اس کی محبت نفرت اور انتقام میں بدل گئی۔ اس نے نہایت چالاکی سے جھوٹ، افواہوں اور سازشوں کا ایسا جال بچھایا کہ فرقان کے دل میں شکوک نے جگہ بنا لی۔ کبھی گمنام پیغامات، کبھی فرضی تصاویر، کبھی جھوٹی باتیں، ہر روز ایک نیا وار کیا جاتا۔ افسوس یہ تھا کہ فرقان نے ایک بار بھی سلمیٰ سے کھل کر بات نہ کی۔ اس نے دوسروں کی باتوں پر یقین کر لیا اور اپنی شریکِ حیات کی سچائی پر اعتماد نہ کیا۔ آئے دن جھگڑے ہونے لگے۔ بات چیت کم ہوتی گئی اور خاموشیاں بڑھتی گئیں۔ سلمیٰ ہر بار اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کرتی، مگر شک کی دیوار ہر دلیل سے اونچی ثابت ہوتی۔ آخرکار ایک دن غصے اور انا کے زیرِ اثر فرقان نے طلاق دے دی۔ صرف ایک سال میں وہ خواب، جنہیں سب نے مثالی زندگی سمجھا تھا، بکھر گئے۔ جب سلمیٰ باپ کی دہلیز پر واپس آئی تو اس کے ہاتھ خالی تھے، مگر دل زخموں سے بھرا ہوا تھا۔ اب اسے نہ دولت پر یقین رہا تھا اور نہ قسمت کے خوشنما وعدوں پر۔ اس کے والدین بھی اندر ہی اندر ٹوٹ چکے تھے۔ انہیں احساس ہو گیا تھا کہ انہوں نے بیٹی کی خوشی کے بجائے دنیا کی چمک دمک کو ترجیح دے کر بہت بڑی غلطی کی۔ ایک دن اس کے والد نے نم آنکھوں سے کہا، “بیٹی! ہمیں معاف کر دو، ہم نے تمہاری خاموشی کو ضد سمجھا اور وقت کے فریب میں آ گئے۔” سلمیٰ نے دھیرے سے جواب دیا، “ابا! قصور صرف آپ کا نہیں تھا، ہم سب نے وقت کے دکھائے ہوئے خوابوں پر یقین کر لیا تھا۔” بارش اب بھی ہو رہی تھی۔ باہر بچے پہلے کی طرح بے فکری سے کھیل رہے تھے۔ سلمیٰ نے کھڑکی سے انہیں دیکھا تو اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے دل ہی دل میں دعا کی کہ ان بچوں کی زندگیوں میں کبھی ایسا وقت نہ آئے جب دولت، شہرت یا ظاہری چمک ان کے فیصلوں پر غالب آ جائے۔ اس نے جان لیا تھا کہ محبت کی بنیاد اعتماد ہے، دولت نہیں؛ اور وقت کا سب سے بڑا فریب یہی ہے کہ وہ انسان کو چمکتی ہوئی چیزوں کے پیچھے دوڑاتا ہے، جبکہ اصل خوشی سچے رشتوں، اعتماد اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہی احساس اس کی زندگی کا سب سے قیمتی سبق بن گیا۔
بھارت میں نوجوانوں کی احتجاجی تحریک. سیدہ تسکین بخت
>مٹی کا قرض. مشی خان وسیر
fareb-e-waqt-aamina-younas-baltistani




