وقت بدلتے دیر نہیں لگتی. آمینہ یونس ،بلتستانی
یہ جو کانٹوں پر لگے پھل نظر آ رہے ہیں، ان کی عمر کتنی ہوگی؟ صدیوں سے یہ زمین کے سینے پر براجمان ہیں، مگر کسی نے کبھی انہیں اہمیت ہی نہیں دی۔ ان جنگلی کانٹوں کے پھل خزاں میں، جب زمین خالی ہونے پر جانور چھوڑے جاتے، تو ان کی خوراک بن جاتے تھے۔ مگر وقت بدلا، صدیاں گزریں تو وقت نے دیکھا کہ جنہیں لوگ بے وقعت سمجھتے تھے، جن پر ایک نظر ڈالنے کے بعد دوسری نظر ڈالنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے، آج وہی کانٹوں بھرے بظاہر چھوٹے چھوٹے دانے بڑے بڑے داموں میں بکنے لگے ہیں۔ ان کی مانگ روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ سنا ہے کہ یہ بعض دواؤں میں استعمال ہوتے ہیں اور مختلف بیماریوں کے علاج میں بھی ان سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ ہر چھوٹی اور بے حیثیت سمجھی جانے والی چیز جب وقت آتا ہے تو سونے کے بھاؤ بکنے لگتی ہے۔ قدرت کی شان دیکھیے، وہ کہاں، کیسے اور کس طرح کسی کی قسمت چمکا دیتی ہے۔
بلتستان کی زمین بھی سونا اگلتی ہے؛ کبھی جنگلی کانٹوں پر لگے پھل کی صورت، کبھی معدنیات کی صورت، تو کبھی خوبانی، فراس بین اور آلو کی صورت۔ قدرت نے اس خطے کے دامن میں نہ جانے کتنے خزانے چھپا رکھے ہیں، بس ضرورت انہیں پہچاننے اور ان کی قدر کرنے کی ہے۔ واقعی، وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔
عنوان: “ایک سپلی اور ایک زندگی ختم؟” محمد دلاور بلتستانی
Time Changes Everything




