کردار کا بحران معاشرے کا سب سے بڑا المیہ . انجینیئر علی رضوان چوہدری
آج کے جدید دور میں دنیا نے بہت ترقی کر لی ہر طرف ٹیکنالوجی کا دور ہے ۔ہر چیز اپ کے ایک کلک پر آپ کو میسر ہو جاتی ہے ۔ڈگریوں کی بھرمار ہے ۔لیکن اگر کسی چیز کا فقدان معاشرے میں پایا جا رہا ہے تو وہ ہے کردار کا دیانت داری امانت داری وعدوں کی پاسداری اخلاق کا کیا صرف ڈگریاں حاصل کر لینا ہی کامیابی ہے ؟
کہا جاتا ہے کہ قومیں عمارتوں، شاہراہوں اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے پہچانی جاتی ہیں ۔ اگر کسی معاشرے میں سچائی، دیانت، انصاف، امانت اور احساسِ ذمہ داری زندہ ہوں تو وہ معاشرہ ہر مشکل کا مقابلہ کر لیتا ہے، لیکن جب کردار کمزور پڑ جائے تو ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ بھی یہی ہے کہ ہم نے کردار کی تعمیر کے بجائے ظاہری کامیابی کو اصل کامیابی سمجھ لیا ہے۔
آج ہر شخص دوسروں سے ایمانداری، انصاف اور حسنِ سلوک کی توقع رکھتا ہے، مگر اپنی ذات کا احتساب کرنے سے گریز کرتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے حکمران دیانت دار ہوں، ہمارے ادارے شفاف ہوں، ہمارے بازاروں میں ملاوٹ نہ ہو اور ہمارے تعلیمی ادارے بہترین ہوں، مگر یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب ہر فرد اپنی ذمہ داری کو دیانت داری سے ادا کرے۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اور جب افراد اپنے کردار کو سنوار لیتے ہیں تو قوم خود بخود مضبوط ہو جاتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج جھوٹ کو چالاکی، دھوکے کو ذہانت اور سفارش کو کامیابی کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات کو عام ضرور کیا ہے، مگر برداشت، تحقیق اور ذمہ دارانہ رویوں میں کمی بھی پیدا کی ہے۔ بغیر تصدیق کے خبریں پھیلانا، دوسروں کی عزت کو مجروح کرنا اور اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدل دینا معمول بنتا جا رہا ہے۔ یہ سب کردار کے بحران کی واضح نشانیاں ہیں۔
تعلیم کا مقصد صرف اچھی ملازمت حاصل کرنا نہیں بلکہ اچھا انسان بننا بھی ہے۔ اگر ایک شخص اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود جھوٹ بولے، وعدہ خلافی کرے، رشوت لے یا دوسروں کے حقوق پامال کرے تو اس کی تعلیم معاشرے کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ حقیقی تعلیم وہ ہے جو انسان میں عاجزی، دیانت، برداشت اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرے۔
گھر کردار سازی کی پہلی درسگاہ ہے۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اگر والدین سچ بولیں، وعدوں کی پاسداری کریں، دوسروں کا احترام کریں اور انصاف سے کام لیں تو یہی اوصاف نئی نسل میں منتقل ہوتے ہیں۔ اسی طرح اساتذہ، مذہبی رہنما، دانشور اور میڈیا بھی کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب یہ تمام طبقات اپنی ذمہ داری ایمانداری سے نبھائیں گے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا ہوگی۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کردار کا تعلق صرف بڑے فیصلوں سے نہیں بلکہ روزمرہ کے معمولات سے بھی ہے۔ وقت کی پابندی، امانت کی حفاظت، صفائی کا خیال، ٹریفک قوانین کی پابندی، دوسروں کے حقوق کا احترام اور ضرورت مند کی مدد کرنا بھی اچھے کردار کا حصہ ہیں۔ چھوٹی چھوٹی نیک عادتیں ہی مل کر بڑے کردار کی بنیاد رکھتی ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کا آغاز کریں۔ اگر ہر شخص یہ عہد کر لے کہ وہ جھوٹ نہیں بولے گا، کسی کا حق نہیں مارے گا، اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دے گا اور دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، تو معاشرے میں تبدیلی کا سفر اسی لمحے سے شروع ہو سکتا ہے۔ قوموں کی تقدیر صرف نعروں سے نہیں بلکہ کردار سے بدلتی ہے۔ہم اپنے اندر سچائی، دیانت، اخلاص، برداشت اور خدمتِ خلق کی شمع روشن کریں۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک مضبوط معاشرے، باوقار قوم اور روشن مستقبل کی ضمانت بنتے ہیں۔ اگر ہم نے اپنے کردار کو سنوار لیا تو یقیناً ہمارے گھروں، اداروں، شہروں اور پوری قوم میں امید، اعتماد اور خوش حالی کی نئی روشنی پھیل جائے گی۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ کردار والے لوگ ہی معاشروں کو زندہ رکھتے ہیں، اور کردار والی قومیں ہی ہمیشہ عزت، وقار اور کامیابی حاصل کرتی ہیں ۔
column in urdu Moral Crisis: Society’s Greatest Challenge




