column in urdu Kashmir Bloody Holocaust

کشمیر خون کی ہولی . ملک محمد شاکر بہاولپوری
وادیٔ کشمیر کی صبح ہمیشہ کی طرح خوبصورت تھی۔ برف پوش پہاڑوں کی چوٹیوں پر سورج کی پہلی کرنیں بکھر رہی تھیں، دریا کا پانی مدھم سُروں میں بہہ رہا تھا اور درختوں پر بیٹھی چڑیائیں نئی صبح کا استقبال کر رہی تھیں۔ مگر اس روز فضا میں ایک عجیب سی بے چینی تھی، جیسے قدرت خود کسی آنے والے سانحے پر سوگوار ہو۔
سترہ سالہ ایان اپنے والد کے ساتھ گھر سے نکلا۔ والد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، “بیٹا! ہم کسی سے جنگ کرنے نہیں جا رہے، صرف اپنے حق اور اپنے لوگوں کی آواز بننے جا رہے ہیں۔ یاد رکھنا، حق کی راہ مشکل ضرور ہوتی ہے، مگر کبھی بے وقعت نہیں ہوتی۔”
چوک میں ہزاروں لوگ جمع تھے۔ بوڑھے، جوان، خواتین اور بچے سب کے چہروں پر امید تھی۔ کسی کے ہاتھ میں جھنڈا تھا، کوئی انصاف کے نعرے لگا رہا تھا، تو کوئی خاموشی سے دعا مانگ رہا تھا۔ یہ ایک پُرامن اجتماع تھا، جہاں صرف اپنے حقِ زندگی اور عزتِ نفس کی بات کی جا رہی تھی۔
اچانک خاموش فضا کو گاڑیوں کے شور نے چیر دیا۔ مسلح اہلکاروں نے چند لمحوں میں پورا چوک گھیر لیا۔ لوگوں نے ابھی یہ سمجھنے کی کوشش ہی کی تھی کہ معاملہ کیا ہے کہ فضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے لرز اٹھی۔ نہ کوئی انتباہ، نہ کوئی مہلت۔ صرف بارود، چیخیں اور بے گناہ جسموں کا زمین پر گرنا۔
ایان نے اپنے سامنے ایک نوجوان کو گرتے دیکھا، پھر ایک بزرگ کو، پھر ایک معصوم بچے کو جو اپنی ماں کا ہاتھ پکڑے بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہر طرف افراتفری تھی۔ لوگ جان بچانے کے لیے دوڑ رہے تھے، مگر گولیاں ان سے زیادہ تیز تھیں۔
اسی ہنگامے میں ایان نے اپنے والد کو سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے لڑکھڑاتے دیکھا۔ وہ دوڑ کر ان تک پہنچا، مگر سفید کپڑوں پر سرخ خون پھیلتا جا رہا تھا۔ والد نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے ایان کا چہرہ چھوا، آنکھوں میں محبت بھر کر کہا، “بیٹا… ظلم سے نفرت کرنا… مگر انسانیت سے کبھی نہیں…” اور ان کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں۔
اسپتال کا منظر چوک سے بھی زیادہ دردناک تھا۔ راہداریوں میں زخمی کراہ رہے تھے، مائیں اپنے بیٹوں کو پکار رہی تھیں، بچے اپنے باپ کو ڈھونڈ رہے تھے اور سفید چادریں ایک ایک کر کے لاشوں پر ڈالی جا رہی تھیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے پوری وادی ماتم کدہ بن گئی ہو۔
اگلی صبح سورج پھر طلوع ہوا، مگر اس کی روشنی پھولوں پر نہیں، خون سے رنگی گلیوں پر بکھری۔ چنار کے درخت خاموش کھڑے تھے، جیسے وہ بھی اپنے ہی بچوں کے خون پر اشک بار ہوں۔ ایان اپنے والد کی قبر کے پاس بیٹھا دیر تک خاموش رہا۔ پھر اس نے ایک ننھا سا پھول قبر پر رکھا اور آہستہ سے بولا، “ابا! آپ نے سچ کہا تھا۔ گولیاں جسموں کو خاموش کر سکتی ہیں، مگر سچ، امید اور آزادی کی خواہش کو کبھی قتل نہیں کر سکتیں۔”
ہوا کے نرم جھونکے نے اس کے الفاظ کو وادی میں پھیلا دیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے شہیدوں کا خون زمین میں جذب ہو کر آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دے رہا ہو کہ ظلم جتنا بھی طاقت ور ہو، اس کی عمر ہمیشہ مختصر ہوتی ہے، جبکہ حق کی آواز صدیوں تک زندہ رہتی ہے۔
اس دن کشمیر کے پھولوں نے خوشبو نہیں، خون کی مہک سمیٹی تھی۔ پہاڑ خاموش تھے، دریا غمگین تھے اور آسمان بھی اشک بار معلوم ہوتا تھا۔ انسانیت شرمندہ تھی، مگر امید ابھی زندہ تھی۔ کیونکہ ہر شہید کے لہو سے یہ صدا بلند ہو رہی تھی کہ ایک دن ضرور آئے گا جب اس وادی میں بارود کی نہیں، امن، انصاف اور آزادی کی خوشبو پھیلے گی۔ یہی وہ دن ہوگا جب “کشمیر خون کی ہولی” صرف تاریخ کا ایک المناک باب رہ جائے گا، نہ کہ زندہ حقیقت

شگر گلگت بلتستان میں ایڈونچر ٹورازم اور ماؤنٹینیرنگ کے فروغ کے لیے مجوزہ مونٹینیرنگ انسٹیٹیوٹ شگر کے قیام کی جانب اہم پیش رفت

شگر ایبروزی ہائر سیکنڈری اسکول شگر نے میٹرک امتحانات میں تاریخی کامیابی حاصل کر لی

column in urdu Kashmir Bloody Holocaust

50% LikesVS
50% Dislikes

کشمیر خون کی ہولی . ملک محمد شاکر بہاولپوری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں