Women Empowerment Journey Toward Equality 0

مہر تاج کی ڈائری سے. کراچی، پاکستان
میں نے ایک طویل عرصہ خواتین کو بااختیار بنانے (Women Empowerment) کے موضوع پر کام کیا ہے۔ شاید آج بھی آپ کو میری تحریروں میں اس کی جھلک نظر آتی ہوگی۔
آج بھی مجھے ایسا لگتا ہے کہ ناکام مرد کامیاب عورتوں سے حسد کرتے ہیں۔ شاید انہیں ایسا لگتا ہے کہ کامیاب ہونے کا اختیار صرف اور صرف انہی کے پاس ہے۔ وہ عورت کی کامیابی کو آج بھی شک و شبہے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
آج جب میں عورت کے موضوع پر لکھ رہی تھی تو پرانی باتیں یاد آ گئیں۔ سوچا، آپ سے بھی شیئر کروں۔
برسوں گزر گئے، نہ وہ چہرے بھولے، نہ وہ جملے۔
یہ اس زمانے کی بات ہے جب میں ایک اچھی پوسٹ پر کام کرتی تھی۔ کام کے سلسلے میں اکثر پاکستان اور پاکستان سے باہر بھی جانا ہوتا تھا۔ اعلیٰ درجے کے ہوٹلوں میں قیام، دفتر کی گاڑی، ڈرائیور، یہ سب میری ملازمت کا حصہ تھا۔
واقعے کی طرف آتی ہوں۔
ایک دن میں دفتر جانے کے لیے تیار تھی۔ گھر میں کوئی اور موجود نہیں تھا۔ بچوں کو ناشتے کا سامان دینا تھا، اس لیے سامنے والی دکان پر چلی گئی۔
وہاں محلے کے ایک بزرگ بیٹھے تھے۔ میں نے سلام کیا۔
انہوں نے چند لمحے مجھے غور سے دیکھا، جیسے میرے لباس، میرے دفتر جانے اور میری شخصیت کے درمیان کوئی تعلق تلاش کر رہے ہوں۔
پھر انہوں نے صرف ایک جملہ کہا:
“ہمارے بچوں کو تو ایسی نوکریاں نہیں ملتیں۔”
بس ایک ہی جملہ۔
مگر اس کے بعد میں ان کے چہرے کو دیکھتی رہ گئی۔
مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے ان کے دماغ میں بیک وقت کئی سوال اور کئی وسوسے گردش کر رہے ہوں، کئی شک ان کے ذہن میں پل رہے تھے۔
شاید وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ایک عورت آخر اس مقام تک کیسے پہنچ سکتی ہے۔
میں خاموش رہی۔
کیونکہ بعض اوقات خاموشی، بحث سے زیادہ باوقار جواب ہوتی ہے۔
اب میں انہیں کیسے بتاتی کہ اس نوکری کے پیچھے میری شب و روز کی محنت، مسلسل جدوجہد، تعلیم اور قابلیت شامل تھی۔
وقت گزرتا گیا، لیکن ایک اور واقعہ میرے ذہن پر نقش ہو گیا۔
ہماری ایک عزیزہ، جو پڑوس میں ہی رہتی تھیں، اپنے شوہر کے کام کاج میں عدم دلچسپی کی وجہ سے اکثر تکرار کرتی تھیں۔
ایک دن میاں بیوی میں تکرار بڑھ گئی تو ان کی اہلیہ نے غصے میں کہا:
“تم سے اچھی تو مہر ہے، دیکھو کتنی ذمہ داری سے اپنی جاب نبھا رہی ہے۔”
جو جواب آیا، وہ اتفاق سے میں نے بھی سن لیا۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا:
“ہاں ہاں، مجھے پتا ہے یہ عورتیں کیسے کماتی ہیں۔”
میں چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گئی۔
کیونکہ یہ میری نوکری پر تبصرہ نہیں تھا۔
یہ ایک عورت کی کامیابی پر تبصرہ تھا۔
یہ ایک جملہ نہیں تھا۔
یہ عورت کے بارے میں صدیوں سے چلی آنے والی بدگمانیوں، شکوک اور بےاعتمادی کی پوری تاریخ تھی۔
اس دن مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ہمارے معاشرے میں بعض لوگ عورت کی کامیابی کو اس کی قابلیت سے نہیں، اس کے کردار سے جوڑتے ہیں۔
وہ یہ نہیں پوچھتے کہ اس نے کتنی راتیں جاگ کر گزاری ہیں۔
کتنی کتابیں پڑھی ہیں۔
کتنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔
کتنی بار تھک کر نڈھال ہوئی ہو
وہ صرف یہ جاننا چاہتے ہیں:
“وہ یہاں تک پہنچی کیسے؟”
آج برسوں بعد جب مجھے وہ دونوں چہرے یاد آ جاتے ہیں۔
ایک اجنبی، جس کی آنکھوں میں سوال تھے۔
اور ایک اپنا، جس کی زبان پر شک تھا۔
“تب میں سوچتی ہوں کہ عورت کو کامیاب ہونے کے لیے صرف محنت نہیں کرنی پڑتی، اسے اپنی کامیابی کی سچائی بھی بار بار ثابت کرنا پڑتی ہے۔
لیکن محنت ایک ایسی طاقت ہے جو اپنا تعارف خود کرا دیتی

گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں گے. وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین

Women Empowerment Journey Toward Equality

50% LikesVS
50% Dislikes

خواتین کو بااختیار بنانے (Women Empowerment) کے موضوع پر کام کیا ، مہر تاج کی ڈائری سے. کراچی، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں