اپنوں میں محبت کیوں کم ہوتی جا رہی ہے؟ تحریر محمد عابد رشید
آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ انسان کے پاس وقت کم ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ اپنوں کے لیے دل میں جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ رشتے موجود ہیں، مگر خلوص کم ہے؛ بات چیت ہوتی ہے، مگر احساس نہیں؛ ملاقاتیں ہوتی ہیں، مگر اپنائیت کہیں کھو گئی ہے۔
آج ہر شخص اپنی مصروفیات، موبائل فون، سوشل میڈیا اور ذاتی مفادات میں اس قدر الجھ گیا ہے کہ گھر میں بیٹھے اپنے ہی لوگوں کے لیے وقت نہیں۔ کبھی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا فرض سمجھا جاتا تھا، آج کسی کا حال پوچھنا بھی بعض اوقات بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ معمولی باتیں انا بن جاتی ہیں، غلط فہمیاں فاصلے پیدا کرتی ہیں اور پھر یہی فاصلے آہستہ آہستہ رشتوں میں سرد مہری لے آتے ہیں۔
ایک بڑی وجہ مفاد پرستی اور بڑھتی ہوئی خود غرضی بھی ہے۔ جب تک کسی رشتے سے فائدہ ملتا رہے، تعلق قائم رہتا ہے؛ فائدہ ختم ہو تو محبت بھی کم محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہم دوسروں سے توجہ، عزت اور خلوص چاہتے ہیں، مگر خود دینے میں بخل کرنے لگے ہیں۔
اس کے ساتھ ہماری برداشت بھی کم ہو گئی ہے۔ پہلے رشتے نبھانے کے لیے لوگ اپنی انا کو قربان کر دیتے تھے، آج لوگ اپنی انا بچانے کے لیے رشتے قربان کر دیتے ہیں۔ ایک غلط فہمی پر برسوں کی محبت ختم کر دینا اب معمول بنتا جا رہا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوبارہ رشتوں کو وقت، عزت، برداشت اور خلوص دینا سیکھیں۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر غلطی کا بدلہ لینا ضروری نہیں اور ہر اختلاف کو دشمنی بنانا بھی ضروری نہیں۔
یاد رکھیں، دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، وقت واپس نہیں آتا، مگر ٹوٹا ہوا رشتہ ہمیشہ پہلے جیسا نہیں بنتا۔ اس لیے اپنے اُن لوگوں کی قدر کریں جو آپ کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے رہے۔ اپنوں کو وقت دیں، ان کا حال پوچھیں، غلطیوں کو معاف کریں اور محبت کو زندہ رکھیں۔
کیونکہ آخرکار انسان کو زندگی میں سب سے زیادہ ضرورت اُن ہی اپنوں کی پڑتی ہے جنہیں وہ اپنی مصروفیات اور انا کی وجہ سے کبھی نظر انداز کر دیتا ہے۔
why-is-love-among-our-own-people-gradually-fading-away




