شادیاں اور اسکردو! . طہٰ علی تابش بلتستانی
میں نے غالباً لکھنا چھوڑ دیا تھا، کیونکہ میں نے محسوس کیا کہ لوگ صرف پڑھتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے۔ اور جب عمل کرنے پر آئیں تو سب کے سب مجتہد بن جاتے ہیں۔
خیر!! دنیا میں اچھے لوگ ہیں تو برے لوگ بھی ماشاءاللہ سے بھرے پڑے ہیں۔ الَمیہ یہ ہے کہ ہم جتنے تعلیم یافتہ ہو رہے ہیں، جہالت کی دلدل میں اتنے ہی دھنستے جا رہے ہیں۔معاشرے میں ایک فرد بھی ایسا نہیں جو اپنے حصے کا دیا جلائے، بلکہ ہر کوئی اسی صف میں کھڑا ہے جہاں جاہلوں کا پورا طبقہ قطار بنائے موجود ہے۔اسکردو میں جب بھی ذوالحجہ یا ربیع الاول کا مہینہ شروع ہوتا ہے، لوگ جنونیت پر اتر آتے ہیں۔ جہاں کہیں بھی شادیاں شروع ہوتی ہیں، پورے ماحول کا حشر کر دیا جاتا ہے۔میں یہاں آپ کی فضول خرچیوں کا ذکر بالکل نہیں کروں گا؛ ماشاءاللہ سے ایک شادی کے لیے پوری پوری زمینیں بیچ دی جاتی ہیں اور آنے والی نسلوں کو اپنے ہی گھروں میں کرائے دار بننے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ اس کا اجر تو ان شاء اللہ جہنم کے آخری درجے میں شیطان کے ساتھ ہی ملے گا۔میرا اصل مدعا ان پڑھے لکھے جاہل نوجوانوں سے ہے جو خود نشے کی لت میں مبتلا ہو کر پورے معاشرے کا جینا حرام کر دیتے ہیں ۔
یار حد کر دی ہے! نہ اذان کا احترام ہے، نہ نماز کے وقت کی تمیز، اور نہ ہی گاؤں میں موجود بزرگوں اور بیماروں کا کوئی احساس۔
لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈز سارا دن چلنے کے علاوہ اب تو رات کے ایک سے دو بجے تک مسلسل بجتے رہتے ہیں۔ کبھی قوالی، کبھی موسیقی، کبھی منقبت تو کبھی قصیدہ اور حد یہ ہے کہ ایک منٹ بھی تسلسل نہیں رہتا، ہر سیکنڈ بعد بدل دیا جاتا ہے۔خدارا!! عقل کے ناخن لیں۔ محلے میں کوئی مریض ہو سکتا ہے، کوئی بیمار یا بزرگ آپ کی ان حرکتوں سے بیزار اور مزید بیمار ہو سکتا ہے۔چلیں، دن کے وقت تو پھر بھی سمجھ آتا ہے، لیکن رات کو دس گیارہ بجے کے بعد ایسی کیا مجبوری ہے کہ لوگوں کی نیندیں حرام کی جائیں؟ یہ کیسی ثقافت اور کیسی خوشیاں ہیں جو پورے محلے کا جینا دوبھر کر دیں؟ خدارا!! انسان بنیں اور انسانوں والی حرکتیں کریں۔ اگر آپ کو اتنا ہی شوق ہے تو اپنے کمرے میں فل والیوم کے ساتھ میوزک چلا کر بیٹھیں۔ پھر بھی اگر شیطان تنگ کرے تو اپنے بزرگوں کے کمرے میں فل میوزک چلا کر دروازہ باہر سے بند کر دیں۔پھر شاید آپ کو اندازہ ہو کہ یہ خوشیاں ہیں یا عذاب!اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو آپ پر فرض ہے کہ اپنے اردگرد شادیوں میں رات گئے تک لاؤڈ اسپیکرز چلانے سے لوگوں کو روکیں۔ کیونکہ آپ کی یہ نیکی یہاں کام آئے گی، اور یقیناً یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
باقی تمام علمائے کرام اور دیگر ذمہ داران سے گزارش ہے کہ اس مسئلے پر لوگوں میں آگاہی پیدا کریں، کیونکہ یہ ایک انتہائی غیر مناسب اور تکلیف دہ عمل ہے۔
نوٹ: تحریر کو آگے شیئر ضرور کریں۔
جزاکم اللہ!
جب عقل ہجوم میں گم ہو جائے. لیکچرار عزت علی پارا چنار
عنوان: کنفیوژن کا معمہ اور ‘مرضی ہے’ کی بے نیازی. سیدہ فضہ بتول
ہنر مند تعلیم، مضبوط پاکستان. بتول فاطمہ
Weddings and Skardu




