Gets Lost 0

جب عقل ہجوم میں گم ہو جائے. لیکچرار عزت علی پارا چنار
انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل، شعور اور ارادے کی نعمت سے نوازا ہے۔ اسے سوچنے، پرکھنے، سوال کرنے اور حق و باطل میں امتیاز کرنے کی صلاحیت عطا کی گئی ہے ، مگر المیہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی اس سب سے قیمتی نعمت کو استعمال کرنے کے بجائے دوسروں کے خیالات کے سہارے زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ وہ کسی شخص کو اپنا رہنما تسلیم کرتے ہیں، اس کی ہر بات کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں، اس کے ہر فیصلے کی توجیہ پیش کرتے ہیں اور کبھی کبھی اس حد تک اس کے اسیر ہو جاتے ہیں کہ اپنے محبوب رہنما کی غلطی کو بھی غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہی رویہ اندھی تقلید ہے۔
تقلید اگر علم، دلیل اور شعور کے ساتھ ہو تو کسی تجربہ کار شخص سے رہنمائی حاصل کرنے کا نام ہے، لیکن جب انسان کسی شخصیت کے قول و فعل کو جانے، سمجھے اور پرکھے بغیر قبول کرنے لگے تو یہ رہنمائی نہیں رہتی، شخصیت پرستی بن جاتی ہے۔ پھر انسان دلیل نہیں دیکھتا، صرف چہرہ دیکھتا ہے ، بات نہیں سنتا، بولنے والے کا نام سنتا ہے ، سچ نہیں پرکھتا، اپنے پسندیدہ شخص کی نسبت دیکھتا ہے۔
ہماری اجتماعی زندگی میں یہ رویہ بڑی شدت سے دکھائی دیتا ہے۔ کوئی شخص کسی سیاسی رہنما کا حامی ہے تو رہنما کی ہر بات اسے درست دکھائی دیتی ہے۔ وہ اس کے اچھے کاموں کا ذکر تو کرتا ہے، مگر غلطیوں پر خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ مخالف کی معمولی لغزش بھی اسے پہاڑ دکھائی دیتی ہے، جبکہ اپنے قائد کی بڑی لغزش بھی اسے مصلحت، حکمت، سیاسی مجبوری یا حالات کی نزاکت نظر آتی ہے۔ یوں حق اور باطل کا پیمانہ بدل جاتا ہے، معیارِ صداقت دلیل نہیں رہتی بلکہ شخصیت بن جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ انسان ایسا کیوں کرتا ہے؟ اس کے کئی اسباب ہیں۔ کبھی انسان تعصب کا شکار ہوتا ہے۔ وہ کسی جماعت، علاقے، زبان، مسلک، خاندان یا نظریے سے اس قدر وابستہ ہو جاتا ہے کہ اس وابستگی کے سامنے اس کی عقل پسِ پشت چلی جاتی ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کا قائد کیا کہہ رہا ہے، بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ کہنے والا کون ہے۔ اگر اپنا ہے تو درست، اگر مخالف ہے تو غلط۔ یہی تعصب رفتہ رفتہ انسان کے فکری دروازے بند کر دیتا ہے۔
کبھی اندھی تقلید جذباتی وابستگی سے پیدا ہوتی ہے۔ کوئی رہنما اپنی تقریر، شخصیت، اندازِ گفتگو یا عوامی مقبولیت سے لوگوں کے دل جیت لیتا ہے۔ لوگ اس سے جذباتی طور پر وابستہ ہو جاتے ہیں اور پھر اس کے ہر قول کو اپنی ذات کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں۔ تنقید انہیں اپنے رہنما پر نہیں بلکہ اپنی ذات پر حملہ محسوس ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے غصے، الزام اور نفرت سے دینے لگتے ہیں۔
کبھی انسان بغیر تحقیق کے مشہور بات کو سچ سمجھ لیتا ہے۔ آج کے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے دور میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ ایک بات ہزار مرتبہ دہرائی جائے تو بہت سے لوگ اسے سچ سمجھنے لگتے ہیں، خواہ اس کی بنیاد میں کوئی حقیقت موجود نہ ہو۔ ایک ویڈیو، ایک جملہ، ایک تصویر یا ایک جذباتی تقریر انسان کے ذہن پر ایسا اثر ڈال سکتی ہے کہ وہ تحقیق کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتا۔ یوں رائے علم سے نہیں، شور سے بنتی ہے۔ سب سے خطرناک مرحلہ اس وقت آتا ہے جب پیروکار اپنے رہنما کی اصلیت جانے بغیر اس پر جان نچھاور کرنے لگتے ہیں۔ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ شخص ماضی میں کیا کرتا رہا، اس کے نظریات کیا ہیں، اس کے فیصلوں کے نتائج کیا نکلے، اس کے قول و فعل میں کتنی مطابقت ہے اور وہ عوام کے مفاد کو کس حد تک مقدم رکھتا ہے مگر چونکہ وہ مقبول ہے، اس لیے اس کی مقبولیت ہی اس کی سچائی کی دلیل بن جاتی ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا مقبول ہونا حق پر ہونے کی دلیل ہے؟ ہرگز نہیں۔
ہجوم کسی شخص کی مقبولیت کا ثبوت تو ہو سکتا ہے، حقانیت کا نہیں۔ تاریخ میں ایسے بہت سے لوگ گزرے ہیں جن کے گرد ہجوم جمع ہوا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ ہجوم کا شور حقیقت کی آواز نہیں تھا۔ سچ کبھی کبھی تنہا کھڑا ہوتا ہے، جبکہ باطل کے گرد پورا مجمع جمع ہو سکتا ہے۔
پاکستان جیسے معاشرے میں سیاسی وابستگی اکثر جذبات کی شدت اختیار کر لیتی ہے۔ سیاست محض سیاسی رائے نہیں رہتی بلکہ بعض اوقات شناخت کا حصہ بن جاتی ہے۔ پھر مخالف جماعت کا حامی دشمن، مخالف رائے رکھنے والا غدار، اور سوال اٹھانے والا مشکوک سمجھا جانے لگتا ہے۔ اس ماحول میں حب الوطنی بھی کبھی کبھی ایک ایسا لباس بن جاتی ہے جس کے اندر شخصیت پرستی، جماعتی تعصب اور جذباتی وابستگی چھپی ہوتی ہے۔
وطن سے محبت ضروری ہے، مگر وطن کی محبت کسی فرد کی محبت کا دوسرا نام نہیں۔ وطن کسی ایک لیڈر، جماعت یا حکومت کا نام نہیں۔ وطن کروڑوں انسانوں کی مشترکہ امانت ہے۔ اگر کوئی شخص وطن کے نام پر ہمیں سوچنے سے روک دے، سوال کرنے سے منع کرے اور اپنی ذات کو وطن کے برابر کھڑا کر دے تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ کہیں ہم حب الوطنی کے نام پر شخصیت پرستی تو نہیں کر رہے؟
حقیقی حب الوطنی یہ ہے کہ ہم ملک کے مفاد کو ہر فرد اور ہر جماعت کے مفاد پر ترجیح دیں۔ اگر ہمارا پسندیدہ رہنما درست بات کرے تو اس کی حمایت کریں، اور اگر غلطی کرے تو احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلاف کی جرأت بھی رکھیں۔ کیونکہ جو شخص اپنے محبوب قائد کی غلطی تسلیم نہیں کر سکتا، وہ دراصل قائد کا وفادار نہیں بلکہ اپنی وابستگی کا اسیر ہے۔ ایک باشعور قوم اپنے رہنماؤں کو خدا نہیں بناتی، جواب دہ بناتی ہے۔ وہ انہیں عزت دیتی ہے مگر احتساب سے بالاتر نہیں سمجھتی۔ وہ ان کی کامیابیوں کو سراہتی ہے مگر ناکامیوں پر سوال بھی اٹھاتی ہے۔ وہ محبت کرتی ہے مگر عقل کو گروی نہیں رکھتی۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض اوقات اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے پسندیدہ رہنما کی پالیسی پر سوال اٹھائے تو فوراً اس کی نیت پر شک کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ اختلاف دشمنی نہیں ، سوال بغاوت نہیں ، تنقید غداری نہیں۔ زندہ معاشروں میں سوال زندہ رہتے ہیں، اور جہاں سوال مر جائیں وہاں فکر بھی دم توڑ دیتی ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ کس کو فالو کرنا ہے، انہیں یہ بھی سکھانا چاہیے کہ کس بنیاد پر فالو کرنا ہے۔ انہیں شخصیت کے بجائے کردار دیکھنا چاہیے، نعروں کے بجائے عمل دیکھنا چاہیے، دعووں کے بجائے نتائج دیکھنے چاہییں اور جذبات کے بجائے دلیل کو ترجیح دینی چاہیے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی اور ہر بلند آواز سچی آواز نہیں ہوتی۔ جو شخص ہمیں سوچنے سے محروم کر دے، وہ خواہ کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو، ہماری فکری آزادی کے لیے خطرہ ہے۔ بہترین رہنما وہ نہیں جو اپنے پیروکاروں سے اندھی وفاداری کا مطالبہ کرے ، بہترین رہنما وہ ہے جو اپنے پیروکاروں کو سوال کرنے، سوچنے اور سچ تلاش کرنے کا حوصلہ دے۔
آخرکار ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم پیروکار بننا چاہتے ہیں یا باشعور شہری؟ پیروی اگر دلیل کے ساتھ ہو تو رہنمائی ہے، مگر دلیل کے بغیر پیروی ذہنی غلامی ہے۔ محبت اگر اصول کے تابع ہو تو وفاداری ہے، مگر اصول اگر محبت کے تابع ہو جائیں تو تعصب جنم لیتا ہے۔ اس لیے کسی بھی شخصیت کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنے سے پہلے اس کے نعروں سے نہیں، اس کے کردار سے واقف ہوں ، اس کی تقریروں سے نہیں، اس کے اعمال سے اسے پرکھیں، اس کے مداحوں کی تعداد سے نہیں، اس کے فیصلوں کے نتائج سے اس کی قدر متعین کریں۔کیونکہ قومیں صرف اچھے رہنماؤں سے نہیں بنتیں، اچھے رہنماؤں کو پرکھنے والے باشعور عوام سے بنتی ہیں۔ اور شاید ہمارے معاشرے کو آج سب سے زیادہ ضرورت کسی نئے رہنما کی نہیں، بلکہ ایسے شہری کی ہے جو کسی رہنما کو اپنا ضمیر نہ بنا لے۔
رہنما کی عزت کیجیے، مگر اپنی عقل اس کے حوالے نہ کیجیے۔
اس کی اچھی بات قبول کیجیے، مگر سچ کا معیار اس کی ذات کو نہ بنائیے۔ یہی اندھی تقلید سے نجات اور فکری آزادی کی پہلی سیڑھی ہے۔

عنوان: کنفیوژن کا معمہ اور ‘مرضی ہے’ کی بے نیازی. سیدہ فضہ بتول

ہنر مند تعلیم، مضبوط پاکستان. بتول فاطمہ

اسلام آباد سرحد یونیورسٹی روات کیمپس میں آج پیش انے والے واقعہ کا پس منظر ، فوجی افسر کی فائرنگ معملات شدت اختیار کر گیا

Gets Lost

50% LikesVS
50% Dislikes

جب عقل ہجوم میں گم ہو جائے. لیکچرار عزت علی پارا چنار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں