Puzzle of Confusion and the Indifference 0

عنوان: کنفیوژن کا معمہ اور ‘مرضی ہے’ کی بے نیازی. سیدہ فضہ بتول
حضورِ والا! ہماری اس روزمرہ زندگی میں کچھ بظاہر مخلص مگر شاطر بندگانِ خدا ایسے پائے جاتے ہیں، جن کے پاس اگر آپ نہایت عاجزی اور ضرورت کے تحت کوئی مشورہ مانگنے جائیں، تو وہ بڑی معصومیت سے اپنے کندھے اچکا کر کہتے ہیں: “حضور! آپ کی اپنی مرضی ہے، جو آپ کو بہتر لگے!”
اب انسان اپنے دلِ ناداں سے پوچھے کہ قبلہ! اس اے آئی کے دور میں اگر اس کمسواد کو خود ہی معلوم ہوتا کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا، تو میں اپنا وقت، توانائی اور بقیہ عقل ضائع کر کے آپ کے پاس مشورہ لینے کیوں آتا؟ فرض کیجیے آپ اپنے کسی دوست کے ساتھ بازار گئے ہیں اور کپڑوں کی دکان پر کھڑے ہو کر سچی نیت سے پوچھتے ہیں: “یار! ذرا دیکھ کر بتاؤ، مجھ پر سیاہ رنگ کا سوٹ زیادہ اچھا لگے گا یا نیلا؟” آگے سے موصوف کا روایتی جواب نازل ہوتا ہے: “صاحب! دیکھ لو، جو تمہاری اپنی مرضی ہو لے لو۔” بندہ وہیں دکان کے تھڑے پر سر پکڑ کر بیٹھ نہ جائے تو اور کیا کرے؟ کہ بھائی! پسند تو مجھے دونوں ہیں، اسی الجھن کو سلجھانے کے لیے تو تمہاری دانا رائے مانگی تھی!
بات صرف سوٹ خریدنے تک محدود رہے تو چلو برداشت ہو جاتا ہے، لیکن یہ رویہ تو زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں ناگن کی طرح ڈسنے لگتا ہے۔ اب کوئی طالب علم اپنے مستقبل کی فکر میں گھلتا ہوا کسی سینئر سے پوچھے کہ “مجھے فلاں ڈگری کے لیے کس یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہیے، آپ کی کیا رائے ہے؟” تو آگے سے وہی روایتی ٹھنڈا جواب ملتا ہے: “جہاں تمہارا اپنا دل کرے اور تمہیں بہتر لگے، وہیں ایڈمیشن لے لو!”
موبائل کی دکان پر کھڑے ہو کر پوچھیے: “سام سنگ کا فون لوں یا اوپو کا؟” آگے سے وہی بے نیازی: “جو آپ کو پسند آئے وہی لے لو!”
اور حد تو تب ہو جاتی ہے جب کسی گھر کی خاتونِ خانہ پورے خلوص سے وہ مشہورِ زمانہ عالمی سوال پوچھ بیٹھیں کہ: “آج کھانے میں کیا پکائیں؟” تو آگے سے بغیر پلک جھپکائے جواب داغا جاتا ہے: “جو تمہاری مرضی، کچھ بھی بنا لو!” اب اس لمحے اگر اس مظلوم خاتونِ خانہ کے دل کی پوشیدہ آواز کوئی سن سکتا، تو شاید یہی گونج سنائی دیتی کہ ‘جی تو یہی چاہتا ہے کہ آج تمہاری ہی کھچڑی بنا ڈالوں!’ کہ بندہ خدا! اگر روز کی اس دال، سبزی اور گوشت کی الجھن کا حل مجھے خود ہی نکالنا ہوتا تو اتنے اصرار سے تم سے پوچھنے کی نوبت ہی کیوں آتی؟
مزید ستم دیکھیے، جب آپ کسی سے کہیں کہ “مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آج کا کالم کس موضوع پر لکھا جائے؟” تو سامنے سے نہایت لاپروائی سے جواب ملتا ہے: “ہمارے ذہن میں تو کچھ نہیں آ رہا، اب ہم کیا کہیں؟ جو آپ کو ٹھیک لگے لکھ ڈالیے۔” یہ سن کر دل چاہتا ہے کہ بندہ اپنا سر پیٹ لے کہ آخر اس ‘اپنی مرضی’ کا اچار ڈالنا ہے یا مرہم بنانا ہے؟
اگر ذرا گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ رویہ صرف ایک مذاق یا عام سی بات نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بہت ہی سنگین نفسیاتی اور معاشرتی چالاکی کی عکاسی کرتا ہے۔ جو لوگ بات بات پر “آپ کی اپنی مرضی” کا بوجھ دوسرے پر ڈال دیتے ہیں، وہ دراصل کسی بھی قسم کی اخلاقی یا جذباتی ذمہ داری سے بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ کل کو اگر آپ کا فیصلہ غلط ہو جائے، تو اس کا الزام ذرہ برابر بھی ان کے سر آئے۔ لہذا، وہ مشورہ دینے کے بجائے پورا بوجھ الٹا آپ کے ہی نازک کندھوں پر ڈال کر خود باحفاظت سائیڈ پر ہو جاتے ہیں۔
اب ذرا سکے کا دوسرا رخ دیکھیے۔ ایک طرف تو یہ بے نیاز مہربان ہیں، اور دوسری طرف ہم خود ہیں جو بچپن سے لے کر بڑھاپے تک صرف اور صرف ‘کنفیوژن’ یعنی الجھن کا شکار رہتے ہیں۔ جب ایک پہلے سے الجھا ہوا انسان کسی فیصلے کے لیے نکلتا ہے اور آگے سے اسے “آپ کی مرضی” کا تھپڑ پڑتا ہے، تو اس کی الجھن دوگنی ہو جاتی ہے۔
بچپن اور جوانی میں تو انسان کا غیر مستقل مزاج ہونا سمجھ آتا ہے کیونکہ اس وقت تجربہ کم ہوتا ہے اور فیصلے کے لیے بڑوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اصل المیہ تب شروع ہوتا ہے جب انسان اپنی عمر کے آخری حصے میں پہنچ جائے، زندگی کے تمام جھٹکے سہہ چکا ہو، اور پھر بھی ہر چھوٹے بڑے فیصلے کے لیے دوسروں کا منہ تکے یا الجھن کی دلدل میں گھسٹتا رہے۔
عمر کے اس موڑ پر پہنچ کر تو انسان کو اتنا پختہ کار ہونا چاہیے کہ وہ اپنے تجربات کی روشنی میں خود اعتمادی کے ساتھ فیصلے کر سکے۔ لیکن جو لوگ عمر بھر فیصلوں کی اس بھول بھلیاں میں پھنسے رہتے ہیں، ان کی بنیادی وجہ غلط فیصلہ ہو جانے کا شدید خوف اور بچپن سے ہی اپنی سوچ پر بھروسہ نہ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ اس ڈر میں جیتے ہیں کہ “اگر میرا فیصلہ غلط ہو گیا تو دنیا کیا کہے گی؟”
یہ مستقل الجھن صرف اس ایک شخص کی ذات کو مفلوج نہیں کرتی، بلکہ اس سے جڑے تمام رشتوں اور خاص طور پر ان کی اولاد کی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ ذرا سوچئے، جو والدین خود ہی ہر وقت الجھن کا شکار رہیں گے اور اپنے فیصلے دوسروں کی “مرضی” پر چھوڑیں گے، وہ اپنی اولاد کی تربیت اور ان کے مستقبل کا کیا تعین کریں گے؟
حضورِ والا! اس طلسمِ ہوشربا اور الجھنوں کے جال سے باہر نکلنے کا واحد حل یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے غلطی کرنے کے خوف کو اپنے دماغ سے نکالے۔ دنیا کا کوئی بھی شخص پیدائشی طور پر ارسطو یا افلاطون نہیں ہوتا۔ شروعات ہمیشہ چھوٹے فیصلوں سے کیجیے۔ سوٹ خریدنا ہو یا فون، اپنی پسند پر انحصار کیجیے اور فیصلہ کر ڈالئے۔ جب آپ خود پر بھروسہ کرنا سیکھ لیں گے، تو نہ صرف آپ کو دوسروں کے آگے جھکنے سے نجات ملے گی بلکہ یہ “آپ کی مرضی” جیسے سیاسی جملے بھی آپ پر اثر انداز ہونا بند ہو جائیں گے۔
باقی رہی بات اس کالم کی… تو اگر یہ تحریر آپ کے ذوقِ طبع کو پسند آئے تو زہے نصیب، اور اگر نہ پسند آئے… تو واللہ! اس میں میری کوئی غلطی نہیں، آخر میں تو یہی کہوں گی کہ آگے آپ کی اپنی مرضی ہے!

اسلام آباد سرحد یونیورسٹی روات کیمپس میں آج پیش انے والے واقعہ کا پس منظر ، فوجی افسر کی فائرنگ معملات شدت اختیار کر گیا

من تُرا حاجی بگویم، تو مُرا ملاّ بگو” جب تعریف سچائی نہیں رہتی، مفاد کا سودا بن جاتی ہے. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

Puzzle of Confusion and the Indifference

50% LikesVS
50% Dislikes

کنفیوژن کا معمہ اور ‘مرضی ہے’ کی بے نیازی. سیدہ فضہ بتول

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں