Praise Loses Its Truth 0

“من تُرا حاجی بگویم، تو مُرا ملاّ بگو” جب تعریف سچائی نہیں رہتی، مفاد کا سودا بن جاتی ہے. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
زبان و ادب کی دنیا میں بعض کہاوتیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ اپنے اندر صدیوں کے انسانی تجربات، معاشرتی رویوں اور اجتماعی نفسیات کا نچوڑ سموئے ہوتی ہیں۔ فارسی کی مشہور کہاوت “من تُرا حاجی بگویم، تو مُرا ملاّ بگو” بھی ایسی ہی ایک کہاوت ہے۔ اس کا سادہ مفہوم ہے: میں تمہیں حاجی کہوں، تم مجھے ملا کہو۔ لیکن اس مختصر جملے کے پس منظر میں باہمی خوشامد، مصلحت، مفاداتی تعلق اور ایک دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی وہ ذہنیت پوشیدہ ہے جس میں سچائی سے زیادہ اہمیت اس بات کو حاصل ہو جاتی ہے کہ کون کس کی تعریف کر رہا ہے اور اس تعریف کے بدلے میں اسے کیا مل رہا ہے.
یہ کہاوت دراصل اس رویے کی عکاسی کرتی ہے جس میں دو افراد ایک دوسرے کی ایسی تعریفیں کرتے ہیں جو ضروری نہیں کہ حقیقت پر مبنی ہوں بلکہ ان کا مقصد باہمی مفاد کا تحفظ ہوتا ہے۔ ایک شخص دوسرے کو بڑا آدمی، صاحبِ علم، دیانت دار، اصول پسند یا غیر معمولی شخصیت قرار دیتا ہے اور دوسرا جواباً اسے وہی مقام و مرتبہ عطا کر دیتا ہے۔ دونوں مطمئن رہتے ہیں، ایک دوسرے کی کمزوریوں پر پردہ پڑا رہتا ہے اور باہر کی دنیا کو ایک ایسی تصویر دکھائی جاتی ہے جو حقیقت سے کہیں زیادہ خوب صورت ہوتی ہے۔ یوں تعریف، اعترافِ خوبی کے بجائے ایک خاموش لین دین کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تعریف انسانی فطرت کا ایک مثبت اور خوب صورت حصہ بھی ہے۔ کسی کی اچھی کارکردگی کو سراہنا، کسی کی دیانت داری کا اعتراف کرنا یا کسی کی محنت کی قدر کرنا معاشرے میں حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ مگر جب تعریف کا تعلق حقیقت کے بجائے مفاد سے جڑ جائے تو وہ خوشامد بن جاتی ہے۔ خوشامد وہ آئینہ ہے جو چہرے کی حقیقت نہیں دکھاتا بلکہ وہی منظر دکھاتا ہے جسے دیکھ کر سامنے والا خوش ہو۔ یہی وجہ ہے کہ خوشامد وقتی طور پر انسان کو سکون ضرور دیتی ہے، مگر طویل مدت میں اس کی شخصیت، فیصلوں اور اداروں کو کمزور کر دیتی ہے۔
ہماری اجتماعی زندگی میں اس کہاوت کی کئی عملی صورتیں دکھائی دیتی ہیں۔ بعض اوقات دو افراد ایک دوسرے کی ایسی تعریفوں میں مصروف نظر آتے ہیں کہ سننے والا حیران رہ جاتا ہے کہ آخر اتنی غیر معمولی خوبیاں کہاں سے دریافت ہوئیں۔ ایک دوسرے کو دانشور، مفکر، مصلح، اصول پسند اور عوام دوست ثابت کرنے کا سلسلہ چلتا رہتا ہے حالانکہ دونوں جانتے ہیں کہ اس تعریف کے پیچھے کوئی نہ کوئی ذاتی مقصد بھی موجود ہے۔ کبھی یہ مقصد کاروباری فائدہ ہوتا ہے، کبھی سیاسی حمایت، کبھی کسی عہدے یا منصب تک رسائی اور کبھی محض اپنے اثر و رسوخ کو مضبوط بنانا۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ ایک دوسرے کی تعریف کرتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب مفاد سچائی پر غالب آ جائے تو معاشرے میں حق اور باطل کے درمیان فرق دھندلا ہونے لگتا ہے۔ ایک شخص غلطی کرے اور اس کے اردگرد موجود لوگ اسے غلطی بتانے کے بجائے اس کی تعریف کریں، تو اس کی اصلاح کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔ ایک افسر ناقص فیصلہ کرے اور ماتحت اسے دانش مندی قرار دیں، تو اگلا فیصلہ اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایک سیاسی رہنما ناکام پالیسی اختیار کرے اور اس کے حامی اسے تاریخی کامیابی قرار دیں، تو قیادت حقیقت سے دور اور خوشامد کے حصار میں قید ہو جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خوشامد فرد سے زیادہ اداروں کے لیے خطرناک ہوتی ہے۔ ایک شخص اپنی ذاتی زندگی میں خوشامد کا شکار ہو تو نقصان شاید اس کی ذات تک محدود رہے لیکن جب یہی رویہ کسی ادارے میں جڑ پکڑ لے تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ وہاں قابلیت کے بجائے قربت، اصول کے بجائے وفاداری اور کارکردگی کے بجائے خوشامد ترقی کا زینہ بننے لگتی ہے۔ جو شخص سچ بولتا ہے وہ مشکل آدمی سمجھا جاتا ہے اور جو ہر بات پر “جی حضور” کہتا ہے وہ قابلِ اعتماد قرار پاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارے کے اندر حقیقت بتانے والے کم اور خوشامد کرنے والے زیادہ ہو جاتے ہیں۔
سیاست میں اس رویے کی سنگینی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے ایک صحت مند روایت ہے۔ حکومت کو حزبِ اختلاف کی تنقید سننی چاہیے اور حزبِ اختلاف کو حکومت کی ہر اچھی بات تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے لیکن جب سیاسی اختلاف اصولوں کے بجائے صرف اقتدار کے مفاد تک محدود ہو جائے تو عوام کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ بظاہر مخالف قوتیں بعض معاملات میں ایک دوسرے کے مفادات کی محافظ بن چکی ہیں۔ یہی کیفیت عام زبان میں “مک مکا” کہلاتی ہے۔ عوام کی بے چینی دراصل اختلاف ختم ہونے پر نہیں بلکہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں محسوس ہو کہ اختلاف بھی ایک کھیل ہے اور پسِ پردہ مفادات کہیں اور طے ہو رہے ہیں۔
اس صورتِ حال کا سب سے بڑا نقصان عوام کے اعتماد کو پہنچتا ہے۔ عوام اگر بار بار یہ دیکھیں کہ جو لوگ کل ایک دوسرے کو نااہل، کرپٹ یا ناقابلِ اعتبار قرار دے رہے تھے، آج وہی ایک دوسرے کی تعریفیں کر رہے ہیں، تو لازماً ان کے ذہن میں سوال پیدا ہوگا کہ آخر اصول کہاں گئے؟ سیاست میں مؤقف بدلنے کی گنجائش ضرور ہونی چاہیے کیونکہ حالات بدل سکتے ہیں اور انسان اپنی غلطی تسلیم بھی کر سکتا ہے لیکن اگر تبدیلی کی بنیاد اصولی دلیل کے بجائے ذاتی مفاد ہو تو اعتماد کا بحران پیدا ہونا فطری ہے۔
یہ رویہ صرف سیاست تک محدود نہیں۔ ہمارے سماجی تعلقات میں بھی خوشامد نے ایک باقاعدہ مقام بنا لیا ہے۔ ہم بعض اوقات کسی شخص کی دولت کو اس کی دانائی، عہدے کو اس کی قابلیت اور تعلقات کو اس کے کردار کی علامت سمجھ لیتے ہیں۔ کسی بااثر شخص کے سامنے اس کی معمولی بات پر بھی بے تحاشا تعریف کرنا، اس کی غلطی پر خاموش رہنا اور اس کے ہر فیصلے کو درست قرار دینا ہمارے معاشرتی رویے کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ عزت اور خوشامد میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ عزت کردار کی بنیاد پر ہوتی ہے، جبکہ خوشامد اکثر مفاد کی بنیاد پر۔
سوشل میڈیا نے اس رجحان کو ایک نئی شکل بھی دے دی ہے۔ آج کسی شخصیت کی ایک معمولی سرگرمی پر بھی سیکڑوں تعریفی تبصرے سامنے آ جاتے ہیں۔ ہر بیان “تاریخی”، ہر تصویر “شاندار” اور ہر معمولی اقدام “عظیم کارنامہ” بن جاتا ہے۔ اس ماحول میں حقیقت اور تاثر کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔ جس شخص کے گرد ہر وقت تعریفوں کا شور ہو، اس کے لیے یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ لوگ واقعی اس کی صلاحیتوں سے متاثر ہیں یا محض اس کی قربت سے اپنا فائدہ تلاش کر رہے ہیں۔
خوشامد کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو اپنی خامیوں سے بے خبر کر دیتی ہے۔ جو شخص تنقید سننے کا عادی نہ رہے، وہ اپنی اصلاح بھی نہیں کر سکتا۔ اگر کسی سربراہ کو ہر فیصلہ درست، کسی استاد کو ہر بات کامل، کسی سیاست دان کو ہر قدم تاریخی اور کسی صاحبِ ثروت کو ہر معاملے میں دانش مند قرار دیا جاتا رہے تو پھر اسے اپنی کمزوریوں کا احساس کیسے ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو اس کی تعریف کرنے کے بجائے ضرورت پڑنے پر اسے سچ بتا سکیں۔
اسی لیے ایک صحت مند معاشرے میں اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ تنقید کو توہین نہیں اور سوال کو بغاوت نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایک حقیقی دوست وہ نہیں جو ہر بات پر سر ہلائے بلکہ وہ ہے جو غلطی پر روک دے۔ ایک اچھا مشیر وہ نہیں جو ہر فیصلے کی تعریف کرے بلکہ وہ ہے جو نقصان کے امکان سے آگاہ کرے۔ ایک مخلص کارکن وہ نہیں جو ہر حکم پر تالیاں بجائے بلکہ وہ ہے جو ادارے کے مفاد میں درست بات کہنے کا حوصلہ رکھے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سچ بولنا ہمیشہ خوش کن نہیں ہوتا مگر اکثر مفید ضرور ہوتا ہے۔ خوشامد انسان کو وقتی خوشی دیتی ہے جبکہ سچی تنقید اسے دیرپا بہتری کا موقع فراہم کرتی ہے، خوشامد تعلق بچا سکتی ہے لیکن سچائی کردار بناتی ہے اور خوشامد طاقتور کو خوش رکھ سکتی ہے لیکن حق گوئی معاشرے کو مضبوط بناتی ہے۔

آج ہمارے معاشرے کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ایک دوسرے کے لیے خوشامد کا آئینہ نہیں بلکہ سچائی کا آئینہ بنیں۔ ہمیں ایسے تعلقات درکار ہیں جن میں یہ حوصلہ موجود ہو کہ کسی دوست کی خوبی کو دل کھول کر سراہا جائے لیکن اس کی غلطی پر اسے متنبہ بھی کیا جائے، کسی مخالف کی اچھی بات کو بھی تسلیم کیا جائے اور اپنے ساتھی کی غلطی کو بھی غلط کہا جائے۔ یہی رویہ فرد کو بھی بہتر بناتا ہے اور معاشرے کو بھی۔
آخر میں فارسی کہاوت “من تُرا حاجی بگویم، تو مُرا ملاّ بگو” ہمیں ایک نہایت سادہ مگر گہرا سبق دیتی ہے: اگر تعریف سچائی سے خالی ہو اور اس کے پیچھے ذاتی مفاد چھپا ہو تو وہ عزت نہیں، خوشامد ہے اور اگر دو افراد ایک دوسرے کی مصنوعی عظمت قائم کرکے اپنے مفادات کا تحفظ کر رہے ہوں تو یہ تعلق خدمت نہیں بلکہ مفاداتی گٹھ جوڑ بن جاتا ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں ہر طاقتور شخص کے گرد تعریف کرنے والوں کا ہجوم ہو یا ایسا معاشرہ جہاں طاقتور بھی سچ سننے پر مجبور ہو۔ ہمیں ایسے لوگ چاہییں جو کہیں: “میں تمہیں صرف اس لیے بڑا نہیں کہوں گا کہ تم مجھے بڑا کہو، میں تمہاری خوبی کی تعریف بھی کروں گا اور تمہاری غلطی کی نشاندہی بھی۔” کیونکہ معاشرے تعریفوں کے شور سے نہیں، سچ بولنے والوں کی موجودگی سے مضبوط ہوتے ہیں
اور شاید یہی اس فارسی کہاوت کا سب سے بڑا سبق ہے کہ ایک دوسرے کو القاب دینے سے کردار بلند نہیں ہوتا، کردار تو عمل سے بلند ہوتا ہے۔ جہاں سچائی زندہ ہو، وہاں خوشامد کی ضرورت کم پڑ جاتی ہے اور جہاں خوشامد سچائی پر غالب آ جائے، وہاں “من تُرا حاجی بگویم، تو مُرا ملاّ بگو” محض ایک کہاوت نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرتی رویے کی تصویر بن جاتی ہے۔

مہر تاج کی ڈائری سے. کراچی، پاکستان

Praise Loses Its Truth

50% LikesVS
50% Dislikes

“من تُرا حاجی بگویم، تو مُرا ملاّ بگو” جب تعریف سچائی نہیں رہتی، مفاد کا سودا بن جاتی ہے. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں