Skilled Education, A Stronger Pakistan 0

ہنر مند تعلیم، مضبوط پاکستان. بتول فاطمہ
بے روزگاری کا رونا پڑھائی سے شروع کریں یا گھر سے، ایک بچے کو دو سالوں میں پڑھائی کے پڑاؤ، چھ چھ مضامین پڑھ کر پاس کرنا ہے۔ سال گزرتے جاتے ہیں، عمر گزر جاتی ہے، پھر بڑی مشکل سے ماسٹرز کی ڈگری ہاتھ میں آتی ہے اور آخر میں وہ ڈگری صرف ایک کاغذ بن کر رہ جاتی ہے۔
تجربہ نہیں تو نوکری نہیں، ہنر نہیں تو روزگار نہیں، اور اگر سفارش یا رشوت نہیں تو کئی دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ پھر وہی بچہ سڑکوں پر ریڑھی لگاتا ہے، کوئی دکان پر کام کرتا ہے، کوئی مزدوری کرتا ہے اور کوئی نیا ہنر سیکھنے میں مزید ایک دو سال لگا دیتا ہے۔
یہ وقت ہمیں تعلیم کے نظام کو نئے سرے سے دیکھنے کا ہے۔ ٹیکنیکل دور ہے، ہنر کو تعلیم کے پڑاؤ میں شامل کرنا ہوگا۔ بچے کو صرف کتابی تعلیم نہ دی جائے بلکہ ساتھ کوئی ایسا ہنر بھی سکھایا جائے جسے وہ اپنی ڈگری کے ساتھ لے کر کہیں بھی جا سکے اور اپنے ہنر کی بنیاد پر کام کر سکے، پیسے کما سکے اور اپنے گھر کا سہارا بن سکے۔
گھر گھر کتابیں تو ہیں، مگر بھوک بھی ہے۔ بہت سے بچوں کے گھروں میں حالات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ آٹھویں کے بعد ہی پیسہ کمانے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ غربت ہوتی ہے، گھر میں روٹی کے لیے پیسہ چاہیے ہوتا ہے، اس لیے وہ بچے پڑھائی چھوڑ کر کام کرنے لگتے ہیں۔ دن بھر کماتے ہیں، گھر آتے ہیں، کھاتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ ان کے پاس خواب دیکھنے کا وقت بھی نہیں رہتا۔
ایسے بچوں کے لیے تعلیم کو ان کی ضرورت کے مطابق بنانا ہوگا۔ اگر بچہ پڑھائی کے ساتھ کوئی ہنر سیکھ رہا ہو تو وہ اپنی تعلیم کے دوران بھی کچھ کما سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں بچوں کو AI کے ذریعے نئے ہنر سکھائے جا سکتے ہیں۔ کمپیوٹر، ڈیزائن، پروگرامنگ، آن لائن کام، کاروبار اور دوسرے فنی کام تعلیم کا حصہ بنائے جا سکتے ہیں۔
ڈگری میں صرف کتابوں کے نمبر نہ ہوں، بچے کے ہنر کے نمبر بھی ہوں۔ جس بچے نے جس ہنر میں مہارت حاصل کی ہو، اسی ہنر کی بنیاد پر اسے نوکری دی جائے یا اس کے لیے روزگار کا راستہ بنایا جائے۔
ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو بچے کو صرف ڈگری نہ دے بلکہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا راستہ بھی دے۔
کیونکہ گھر گھر کی ترقی ہی معاشرے کی ترقی ہے، معاشرے کی ترقی شہر کی ترقی ہے، اور شہر شہر کی ترقی ہی ملک کی ترقی ہے۔
ملک صرف بڑی عمارتوں سے ترقی نہیں کرتا، ملک اس وقت ترقی کرتا ہے جب اس کے گھروں میں بچے تعلیم کے ساتھ ہنر سیکھتے ہیں، نوجوان باعزت روزگار حاصل کرتے ہیں اور کوئی ماں اپنے بچے کو صرف اس لیے پڑھائی سے نہیں نکالتی کہ گھر میں روٹی کے پیسے کم پڑ گئے ہیں۔
تعلیم بھی چاہیے، ہنر بھی چاہیے اور روزگار بھی۔ یہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔

اسلام آباد سرحد یونیورسٹی روات کیمپس میں آج پیش انے والے واقعہ کا پس منظر ، فوجی افسر کی فائرنگ معملات شدت اختیار کر گیا

“من تُرا حاجی بگویم، تو مُرا ملاّ بگو” جب تعریف سچائی نہیں رہتی، مفاد کا سودا بن جاتی ہے. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

Skilled Education, A Stronger Pakistan

50% LikesVS
50% Dislikes

ہنر مند تعلیم، مضبوط پاکستان. بتول فاطمہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں