متوقع 28ویں آئینی ترمیم، گلگت بلتستان کی قرارداد اور عبوری صوبائی حیثیت کا آئینی و قانونی جائزہ. جی ایم ایڈوکیٹ
راقم قانون کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کی حیثیت سے جب بھی کسی ممکنہ آئینی ترمیم، خصوصاً متوقع 28ویں آئینی ترمیم، کی خبریں سنتا ہے تو فطری طور پر بے چینی محسوس کرتا ہے، کیونکہ آئینی ترامیم محض قانونی دستاویزات میں تبدیلی کا نام نہیں ہوتیں بلکہ آنے والی نسلوں کے سیاسی، آئینی، معاشی اور انتظامی مستقبل کا تعین بھی کرتی ہیں۔ میری محدود علمی بساط کے مطابق اربابِ اختیار کے سامنے گلگت بلتستان کے عوام کے دیرینہ آئینی مطالبات رکھنا، ان کی قانونی جہت کو عام فہم انداز میں عوام کے سامنے بیان کرنا اور ہر ممکن کوشش کرنا کہ قوم کسی ممکنہ نقصان سے محفوظ رہے اور دستیاب آئینی مواقع سے دانشمندی کے ساتھ فائدہ اٹھا سکے، نہ صرف میرا قانونی و قومی فرض ہے بلکہ میری سرشت کا حصہ بھی ہے۔ اسی تناظر میں حالیہ سیاسی پیش رفت، خصوصاً گلگت بلتستان اسمبلی کی متفقہ قرارداد اور متوقع 28ویں آئینی ترمیم کو ایک دوسرے سے الگ الگ دیکھنے کے بجائے ایک ہی آئینی سلسلے کی کڑیاں سمجھنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے. گلگت بلتستان کی نو منتخب اسمبلی کی ابھی تک باقاعدہ کابینہ بھی نہیں بن سکی ہے ایسے میں سب سے اہم اور تاریخی اقدام وہ مشترکہ قرارداد ہے جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان کو آئینی ترمیم کے ذریعے پاکستان کا عبوری (Provisional) صوبہ بنایا جائے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی دی جائے، نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ میں حصہ دیا جائے اور دیگر صوبوں کی طرح تمام آئینی، جمہوری اور سیاسی حقوق فراہم کیے جائیں، جبکہ ساتھ ہی یہ واضح آئینی ضمانت بھی برقرار رکھی جائے کہ یہ تمام انتظامات اقوام متحدہ کی قراردادوں، مسئلۂ جموں و کشمیر کے حتمی تصفیے اور پاکستان کے بین الاقوامی مؤقف کے تابع ہوں گے۔ اس قرارداد کا پس منظر دراصل متوقع 28ویں آئینی ترمیم ہے۔ یہ محض ایک سیاسی قرارداد نہیں بلکہ ایک مضبوط آئینی اشارہ ہے کہ ریاستی اور مقتدر حلقے اب اس نتیجے پر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو عبوری آئینی حقوق دینے سے نہ تو پاکستان کے اقوام متحدہ میں اختیار کردہ مؤقف کو کوئی نقصان پہنچے گا اور نہ ہی مسئلۂ کشمیر پر پاکستان کی قانونی حیثیت متاثر ہوگی، بلکہ اس کے برعکس گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق دینا پاکستان کے اس مؤقف کو مزید مضبوط کرے گا کہ وہ متنازعہ خطے کے عوام کو بنیادی انسانی، جمہوری اور آئینی حقوق سے محروم رکھنے کا قائل نہیں بلکہ ان کے حقوق کا محافظ ہے۔ علاوہ ازیں، گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اب صرف ایک داخلی انتظامی مسئلہ نہیں رہی بلکہ پاکستان کے قومی، معاشی، دفاعی اور بین الاقوامی مفادات سے براہِ راست جڑ چکی ہے۔ دنیا کے عظیم ترین علاقائی اقتصادی منصوبوں میں شمار ہونے والا چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا زمینی گیٹ وے گلگت بلتستان سے گزرتا ہے، جو پاکستان کو چین، وسطی ایشیا اور مستقبل میں یورپ تک تجارتی رسائی فراہم کرنے کی بنیادی شاہراہ ہے۔ شاہراہِ قراقرم، خنجراب بارڈر اور سی پیک کے متعدد اسٹریٹجک منصوبے اسی خطے میں واقع ہیں، اس لیے ان منصوبوں کے لیے ایک مضبوط، واضح اور پائیدار آئینی بنیاد ناگزیر ہوتی جا رہی ہے۔ اسی طرح حالیہ برسوں میں پاکستان نے معدنی وسائل کی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک منرلز کے شعبے میں مختلف ممالک، بالخصوص امریکہ، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانے، سرمایہ کاری لانے اور مستقبل کے معاہدوں کی راہ ہموار کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ گلگت بلتستان سونا، تانبا، مولیبڈینم، قیمتی پتھر، نایاب معدنیات اور آبی وسائل سے مالا مال خطہ ہے، لہٰذا اس خطے میں ہونے والے موجودہ اور مستقبل کے معدنیاتی منصوبوں، سرمایہ کاری کے معاہدوں اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے بھی ایک واضح آئینی و قانونی فریم ورک ناگزیر ہے تاکہ سرمایہ کاروں، ریاست اور مقامی عوام کے حقوق و ذمہ داریوں کا تعین غیر مبہم انداز میں ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کو آئینِ پاکستان کے تحت ایک عبوری یا عارضی آئینی حیثیت دینا نہ صرف مقامی عوام کے بنیادی آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق کی ضمانت ہے بلکہ یہ پاکستان کے بین الاقوامی اقتصادی معاہدوں، سی پیک جیسے اسٹریٹجک منصوبوں، معدنی وسائل کی شفاف ترقی اور ریاستی مفادات کو مضبوط قانونی تحفظ فراہم کرنے کا بھی تقاضا ہے۔ اس نوعیت کا عبوری آئینی انتظام مسئلۂ جموں و کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف سے متصادم نہیں ہوگا، بلکہ اس امر کا عملی اظہار ہوگا کہ پاکستان متنازعہ خطے کے عوام کو بنیادی آئینی حقوق فراہم کرتے ہوئے بھی اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور اپنے بین الاقوامی وعدوں کا مکمل احترام کرتا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں کسی صوبے یا خطے کی حدود، نام یا آئینی حیثیت میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی رائے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 239(4) کے مطابق اگر کسی آئینی ترمیم کے نتیجے میں کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی یا اس سے متعلق کوئی معاملہ درپیش ہو تو ایسی آئینی ترمیم اس وقت تک پارلیمنٹ میں منظور نہیں ہو سکتی جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی اپنے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے اس کی توثیق نہ کر دے۔ اگرچہ گلگت بلتستان ابھی آئینی طور پر صوبہ نہیں، تاہم نو منتخب گلگت بلتستان اسمبلی سے متفقہ قرارداد منظور کرانے کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ مستقبل میں وفاقی پارلیمنٹ کے سامنے ایک مضبوط قانونی، سیاسی اور اخلاقی بنیاد موجود ہو کہ خود گلگت بلتستان کے عوام نے اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے یہ مطالبہ کیا ہے۔(حالانکہ اس طرح کی قرارداد پاس کرنا اس اسمبلی کے اختیار میں بھی نہیں اور نا ہی گلگت.بلتستان کے عوام نے اس منتخب اسمبلی کے ممبران کو اس طرح کا اختیار نہیں دیا ہے کیونکہ یہ Legislative اسمبلی ہے یہ کوئی Constituent اسمبلی نہیں یہ ایک الگ بحث ہے پھر کبھی) اگر مستقبل میں آزاد جموں و کشمیر، مقبوضہ جموں و کشمیر یا بیرون ملک کشمیری Diaspora کے بعض حلقے اس عمل پر اعتراض کریں تو پاکستان یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے اپنے جمہوری حقِ خود اختیاری کا استعمال کرتے ہوئے اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے عبوری صوبائی حیثیت کی قرارداد منظور کی ہے، اس لیے اس پر کسی دوسرے فریق کا اخلاقی یا قانونی اعتراض نسبتاً کمزور ہوگا، خصوصاً جبکہ مجوزہ آئینی انتظام واضح طور پر مسئلۂ کشمیر کے حتمی تصفیے سے مشروط ہوگا. پاکستان میں اس وقت متوقع 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مختلف سیاسی و آئینی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ مستقبل میں وفاقی انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہو سکتی ہیں، جن میں اسلام آباد، جنوبی پنجاب، بہاولپور، پوٹھوہار، مغربی پنجاب، کراچی، مہران (اندرونِ سندھ)، گوادر، خیبر اور ہزارہ جیسے ممکنہ نئے صوبائی یا انتظامی یونٹس کے قیام کی تجاویز بھی زیرِ بحث بتائی جا رہی ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کسی بھی تجویز کی سرکاری سطح پر تصدیق موجود نہیں، تاہم اگر وفاق واقعی اپنے آئینی ڈھانچے پر نظرِ ثانی کر رہا ہے تو گلگت بلتستان کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ثابت ہو سکتا ہے کہ وہ بھی اپنے آئینی حقوق حاصل کرے۔ اگر واقعی 28ویں آئینی ترمیم سامنے آتی ہے تو اس میں آرٹیکل 1 میں گلگت بلتستان کی عبوری آئینی حیثیت، آرٹیکل 51 میں قومی اسمبلی میں نشستوں، آرٹیکل 59 میں سینیٹ میں نمائندگی، آرٹیکل 160 میں این ایف سی ایوارڈ میں شمولیت، آرٹیکل 140-A کے تحت مضبوط بلدیاتی نظام، آرٹیکل 175 کے تحت عدالتی نظام کی توسیع، آرٹیکل 141 تا 144 میں قانون سازی کے اختیارات، آرٹیکل 161 اور 172 میں قدرتی وسائل کی ملکیت اور آمدنی کی تقسیم، اور بنیادی حقوق سے متعلق آرٹیکل 8 تا 28 کے مکمل اطلاق جیسے معاملات زیرِ غور آ سکتے ہیں۔ اسی طرح آئین میں ایک خصوصی عبوری شق شامل کی جا سکتی ہے جس میں واضح کیا جائے کہ گلگت بلتستان کی عبوری صوبائی حیثیت اقوام متحدہ کی قراردادوں، مسئلۂ جموں و کشمیر کے حتمی حل اور پاکستان کے بین الاقوامی مؤقف سے مشروط ہوگی. عبوری صوبائی حیثیت ملنے کی صورت میں گلگت بلتستان کے عوام کو پہلی مرتبہ قومی اسمبلی میں باقاعدہ نشستیں حاصل ہوں گی، سینیٹ میں علاقائی بنیاد پر نمائندگی ملے گی، این ایف سی ایوارڈ میں حصہ ملے گا، وفاقی آئینی اداروں میں مؤثر شرکت ممکن ہوگی، سپریم کورٹ آف پاکستان سمیت وفاقی عدالتی نظام تک واضح آئینی رسائی حاصل ہوگی، اور وفاقی پالیسی سازی میں براہِ راست آواز میسر آئے گی۔ اسی کے ساتھ قدرتی وسائل، معدنیات، پانی، ہائیڈل پاور، مالیاتی خودمختاری، مقامی قانون سازی، ٹیکسیشن، بجٹ سازی، مقامی حکومتوں کے استحکام، زمینوں کے تحفظ، غیر مقامی آبادکاری سے متعلق حفاظتی اقدامات اور گلگت بلتستان کی جغرافیائی حدود کے آئینی تحفظ جیسے دیرینہ مطالبات بھی ایک مضبوط آئینی بنیاد حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اگرچہ گلگت بلتستان اسمبلی کی قرارداد ایک بڑی سیاسی پیش رفت ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آئینی ترمیم فوری طور پر نافذ ہو جائے گی۔ آئینی اور انتظامی اعتبار سے اس عمل میں متعدد مراحل درکار ہوں گے۔ اگر آئینِ پاکستان کو مکمل یا جزوی طور پر گلگت بلتستان تک توسیع دی جاتی ہے تو لازماً گلگت بلتستان آرڈر 2018 کی موجودہ آئینی و قانونی حیثیت ختم کرنا ہوگی، وفاقی اور صوبائی قوانین میں وسیع پیمانے پر ترامیم کرنا ہوں گی، انتخابی حلقہ بندیاں، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی نشستوں کی تقسیم، این ایف سی میں حصہ، وفاقی اداروں میں نمائندگی، عدالتی ڈھانچے اور انتظامی نظام کو ازسرِنو منظم کرنا ہوگا۔ یہ تمام اقدامات چند ماہ میں مکمل ہونا عملی طور پر ممکن نہیں۔ اسی لیے ایک قابلِ فہم آئینی تجزیہ یہ ہے کہ اگر عبوری صوبائی حیثیت کی آئینی ترمیم واقعی زیرِ غور ہے تو اس کے عملی نفاذ کا زیادہ موزوں وقت 2029ء ہو سکتا ہے، تاکہ پاکستان بھر میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے ساتھ ہی گلگت بلتستان میں بھی ایک ہی روز قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور دیگر متعلقہ انتخابات منعقد ہوں اس طرح اس وقت کے منتخب ممبران اسمبلی کو تقریباً دو سال پہلے الیکشن میں جانا ہوگا اور یہ قرارداد ان دو سالوں کی عظیم قربانی بھی مانگتی ہے تاکہ گلگت بلتستان پہلی مرتبہ پاکستان کے وفاقی انتخابی عمل کا باقاعدہ حصہ بن سکے۔ اس طریقۂ کار سے نہ صرف انتخابی، انتظامی اور آئینی ہم آہنگی پیدا ہوگی بلکہ ایک مستحکم اور دیرپا آئینی نظام بھی تشکیل پائے گا. اس تمام پس منظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی متفقہ قرارداد محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم کا ابتدائی آئینی سنگِ میل معلوم ہوتی ہے۔ اگر وفاق اس موقع سے دانشمندی کے ساتھ فائدہ اٹھاتے ہوئے گلگت بلتستان کو مکمل شہری، جمہوری، مالیاتی اور آئینی حقوق فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ واضح کرتا ہے کہ عبوری صوبائی حیثیت مسئلۂ جموں و کشمیر کے حتمی تصفیے سے مشروط ہوگی، تو پاکستان نہ صرف اپنے بین الاقوامی مؤقف کو برقرار رکھ سکے گا بلکہ دنیا کے سامنے یہ بھی ثابت کرے گا کہ وہ اپنے زیرِ انتظام علاقوں کے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کے بجائے آئینی انصاف، جمہوری شمولیت اور وفاقی مساوات پر یقین رکھتا ہے۔ یہی راستہ وفاقِ پاکستان کو مضبوط، آئین کو مؤثر، عوام کو مطمئن اور قومی وحدت کو مزید مستحکم بنا سکتا ہے۔
خاموش لوگوں کی چیخیں. وہ مسائل جو کبھی خبروں کی زینت نہیں بنتے؟ انجینیئر علی رضوان چوہدری
کھرمنگ میں چراگاہ کے تنازع پر خونریز تصادم، 3 افراد جاں بحق، متعدد زخمی، احتجاج جاری
urdu news update 28th Constitutional Amendment and Gilgit-Baltistan’s




