Difference Between 0

چوکس اور چونچال کا فرق. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
زبان کی خوب صورتی یہی ہے کہ اس میں بظاہر معمولی فرق رکھنے والے الفاظ اپنے اندر معنی کی پوری دنیا سموئے ہوتے ہیں۔ بعض الفاظ آواز اور ساخت میں ایک دوسرے سے اتنے قریب محسوس ہوتے ہیں کہ بولتے یا لکھتے ہوئے ان کے مفہوم میں فرق ملحوظ رکھنا مشکل ہو جاتا ہے حالانکہ درست زبان وہی ہے جس میں لفظ اپنے صحیح معنی اور موقع و محل کے مطابق استعمال ہو۔ “چوکس” اور “چونچال” بھی ایسے ہی دو الفاظ ہیں جنہیں کبھی کبھی ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے جب کہ دونوں کے معنی اور استعمال میں واضح فرق ہے۔
“چوکس” سے مراد ہے ہوشیار، بیدار، محتاط اور خبردار۔ اس لفظ میں ذمہ داری، سنجیدگی اور کسی ممکنہ خطرے یا صورتِ حال پر گہری نظر رکھنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ رات کے وقت چوکیدار کا چوکس رہنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنے فرائض سے غافل نہیں اور اردگرد کے حالات پر پوری نظر رکھے ہوئے ہے۔ سرحد پر تعینات سپاہی چوکس ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دشمن کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے تیار اور بیدار ہے۔ اسی طرح امتحان دینے والا طالب علم اگر چوکس ہو تو وہ سوال کو توجہ سے پڑھے گا، جلد بازی سے بچے گا اور جواب لکھتے ہوئے ممکنہ غلطیوں سے محتاط رہے گا۔
اس کے برعکس “چونچال” کا تعلق چنچل پن، پھرتی، شوخی اور زندہ دلی سے ہے۔ چونچال طبیعت کسی ایک جگہ خاموش اور ساکت نہیں رہتی بلکہ اس میں حرکت، شگفتگی اور بے ساختگی نمایاں ہوتی ہے۔ ایک بچہ اگر ہر وقت کھیلتا، اچھلتا کودتا اور نئی شرارتیں کرتا رہے تو اسے چونچال کہا جا سکتا ہے۔ باغ میں اچھلتے کودتے ہرن چونچال دکھائی دیتے ہیں، جب کہ کسی محفل میں اپنی ہنسی مذاق اور زندہ دلی سے سب کو متوجہ کرنے والا شخص بھی چونچال طبیعت کا مالک کہلا سکتا ہے۔
یوں دونوں الفاظ کا فرق نہایت آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ چوکس ذہن کی بیداری کا نام ہے، جب کہ چونچال طبیعت کی حرکت کا۔ چوکس انسان حالات پر نظر رکھتا ہے، چونچال انسان ماحول میں زندگی اور شگفتگی پیدا کرتا ہے۔ ایک لفظ میں احتیاط اور ذمہ داری کا پہلو نمایاں ہے، دوسرے میں پھرتی، شوخی اور زندہ دلی کا۔
یہ فرق معمولی معلوم ہوتا ہے، لیکن زبان کے معاملے میں معمولی فرق بھی معنی کو بدل دیتا ہے۔ اگر ہم کسی پہرے دار کے لیے “چونچال” کا لفظ استعمال کریں تو اس سے اس کی فرض شناسی اور ہوشیاری کا مفہوم پیدا نہیں ہوگا بلکہ اس کی شوخ یا چنچل طبیعت کا تصور ابھرے گا۔ اسی طرح کسی شرارتی اور زندہ دل بچے کو “چوکس” کہنا اس کے چنچل پن کو بیان نہیں کرے گا بلکہ اس کی ہوشیاری اور محتاط رویے کی طرف اشارہ کرے گا۔ اس لیے زبان میں الفاظ کا درست انتخاب محض لفظی نزاکت نہیں بلکہ مفہوم کی صحت کا تقاضا ہے۔
البتہ دلچسپ بات یہ ہے کہ انسانی زندگی میں دونوں صفات اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ ایک معاشرے کو ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنے فرائض کے بارے میں چوکس ہوں، اپنے اردگرد کے حالات سے باخبر رہیں اور خطرات کو نظرانداز نہ کریں۔ لیکن معاشرہ صرف سنجیدگی، احتیاط اور ذمہ داری سے زندہ نہیں رہتا، اسے بچوں کی ہنسی، نوجوانوں کی توانائی، زندہ دل لوگوں کی شگفتگی اور زندگی کی فطری رونق بھی درکار ہوتی ہے۔ یوں ایک طرف چوکس رویہ معاشرے کو محفوظ بناتا ہے اور دوسری طرف چونچال طبیعت اسے زندہ اور متحرک رکھتی ہے۔
ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی زندگی میں بھی اس فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ والدین کو بچوں کی تربیت اور حفاظت کے معاملے میں چوکس رہنا چاہیے، لیکن بچوں کی فطری چونچال طبیعت کو ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ اور پابندیوں کے ذریعے ختم نہیں کر دینا چاہیے۔ استاد کو طلبہ کی تعلیم اور کردار سازی کے معاملے میں چوکس ہونا چاہیے، مگر اس کے اندازِ تدریس میں اتنی شگفتگی ضرور ہونی چاہیے کہ علم بچوں کے لیے بوجھ نہ بن جائے۔ اسی طرح ایک ذمہ دار شہری کو معاشرے کے مسائل کے بارے میں چوکس رہنا چاہیے لیکن زندگی سے لطف، خوش اخلاقی اور خوش مزاجی کا رشتہ بھی نہیں توڑنا چاہیے۔
درست لفظ کا درست موقع پر استعمال دراصل زبان کے ساتھ ہمارے تعلق کی پختگی کا ثبوت ہے۔ “چوکس”اور “چونچال” میں صرف آواز کا معمولی فرق نہیں بلکہ دو الگ کیفیتیں پوشیدہ ہیں۔ ایک ہمیں خبردار رہنے کا سبق دیتا ہے اور دوسرا زندگی کی حرکت اور شگفتگی کی تصویر پیش کرتا ہے۔
اس لیے جب خطرہ سامنے ہو تو چوکس رہیے اور جب زندگی مسکرانے کا موقع دے تو اس کی چونچال خوشیوں کو بھی محسوس کیجیے کیونکہ ایک بیدار معاشرے کے لیے چوکس ذہن ضروری ہے اور ایک زندہ معاشرے کے لیے چونچال روح۔

وہ شجر جس کے سائے میں لفظ پناہ لیتے ہیں. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

وفاداری کے ٹھیکیدار کون ہیں؟ کرامت علی جعفری

Difference Between

50% LikesVS
50% Dislikes

چوکس اور چونچال کا فرق. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں