Tree Beneath Whose Shade Words Find Shelter 0

وہ شجر جس کے سائے میں لفظ پناہ لیتے ہیں. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
یومِ ولادت (10 اگست) پر اپنے محسن و مربی، سر سلیم خان کے حضور ہدیۂ عقیدت

کہتے ہیں، جب زمین سے ایسے درخت اگتے ہیں جن کے نصیب میں صرف بڑھنا نہیں بلکہ دوسروں کو سایہ دینا لکھا ہو تو موسم بھی ان کے احترام میں اپنا انداز بدل لیتے ہیں۔ ہوائیں ان کی شاخوں سے صرف گزرتی نہیں، ان سے تربیت پاتی ہیں، پرندے ان پر محض بسیرا نہیں کرتے، امان پاتے ہیں اور راہ گیر ان کے نیچے صرف چند لمحے نہیں گزارتے بلکہ اپنی تھکن، اپنی بے سمتی اور اپنی بے یقینی بھی وہیں اتار دیتے ہیں۔

ایسے درخت اپنی قامت سے نہیں، اپنے سائے سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے پھل ان کی اپنی بھوک مٹانے کے لیے نہیں ہوتے، ان کی ٹھنڈک ان کے اپنے آرام کے لیے نہیں ہوتی۔ وہ جتنا آسمان کی طرف بلند ہوتے ہیں، اتنا ہی زمین سے اپنا رشتہ مضبوط کرتے جاتے ہیں۔ ان کی جڑیں وفا کی مٹی میں گہری ہوتی ہیں اور شاخیں سخاوت کے آسمان پہ سایہ فگن۔ شاید اسی لیے قدرت نے درخت کو خاموشی کا سب سے خوب صورت استعارہ بنایا ہے کیونکہ عظمت کبھی شور سے نہیں، خاموش خدمت سے جنم لیتی ہے۔
انسانوں کی دنیا میں بھی کبھی کبھی ایسے شجر اُگتے ہیں جن کی نسبت زمین سے کم اور دلوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے لیے نہیں جیتے بلکہ اپنے حصے کی روشنی دوسروں میں بانٹتے رہتے ہیں۔ وہ خود راستہ بننے کی خواہش نہیں رکھتے مگر نہ جانے کتنے مسافروں کی منزل آسان کر دیتے ہیں۔ ان کی اصل شناخت ان کی اپنی کامیابیاں نہیں ہوتیں بلکہ وہ شخصیتیں ہوتی ہیں جو ان کے سائے میں پروان چڑھتی ہیں، وہ قلم ہوتے ہیں جو ان کی رہنمائی سے روشن ہوتے ہیں اور وہ کردار ہوتے ہیں جو ان کی تربیت سے سنورتے ہیں۔
میری زندگی میں سر سلیم خان ایسا ہی ایک عطیہ خداوندی، ایسا ہی ایک سایہ دار شجر اور ایسا ہی ایک ربانی معجزہ ہیں۔
زندگی میں بے شمار لوگ ملتے ہیں۔ کچھ صرف تعارف بن کر رہ جاتے ہیں، کچھ یاد بن جاتے ہیں، کچھ راستہ دکھا دیتے ہیں مگر بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت کو اس سے پہلے پہچان لیتے ہیں جب وہ خود بھی اس سے پوری طرح واقف نہ ہو۔ وہ ہاتھ پکڑ کر صرف چلنا نہیں سکھاتے بلکہ گرنے کے بعد سنبھلنا، ٹھہرنے کے بعد آگے بڑھنا اور خاموشی کے بعد اظہار کرنا بھی سکھاتے ہیں۔

میری ادبی زندگی کا آغاز بھی ایک ایسے ہی دستِ شفقت سے ہوا۔ میں، یاسمین اختر طوبیٰ، اگر آج لفظوں کے ذریعے اپنے احساسات کو قرینۂ اظہار عطا کر سکتی ہوں، اگر خیال کو معنی، جذبے کو زبان اور احساس کو ترتیب دینے کا حوصلہ رکھتی ہوں تو اس کے پس منظر میں ایک ایسی عظیم شخصیت موجود ہے جس نے میری ذات کے امکانات پر اس وقت یقین کیا جب میں خود اپنی صلاحیتوں سے پوری طرح آشنا نہ تھی۔

استاد کا منصب محض معلومات منتقل کرنا نہیں ہوتا استاد دراصل روح کی تاریکی میں امید کا چراغ روشن کرتا ہے۔ کتابیں علم دے سکتی ہیں مگر بصیرت ہمیشہ کسی صاحبِ دل کی صحبت سے ملتی ہے۔ لفظ لکھنا ہر شخص سیکھ سکتا ہے مگر لفظوں کی ذمہ داری، ان کی حرمت اور ان کے اخلاق کا شعور صرف ایک سچا معلم عطا کرتا ہے۔
سر سلیم خان نے مجھ ناچیز کے لیے یہی کردار نبھایا۔
انہوں نے میرے قلم کو صرف لکھنے کا ہنر نہیں دیا بلکہ یہ احساس بھی عطا کیا کہ لفظ اگر کردار سے جدا ہو جائیں تو محض آواز بن کر رہ جاتے ہیں اور جب کردار سے جڑ جائیں تو زمانوں کی یادداشت، قوموں کا شعور اور تاریخ کا سرمایہ بن جاتے ہیں۔
میں نے ان کی شخصیت میں علم کو کبھی غرور کا لباس پہنے نہیں دیکھا۔ ان کا وقار ہمیشہ ان کی خاموشی میں جلوہ گر رہا اور ان کی عظمت ہمیشہ ان کی انکساری کے پردے میں رہی۔ وہ ان دریاؤں کے مانند ہیں جو شور مچا کر نہیں بہتے بلکہ خاموشی سے بنجر زمین کو سیراب کرتے ہیں۔ ان کی صحبت میں رہ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گفتگو صرف زبان سے نہیں بلکہ تہذیب سے جنم لے رہی ہو، جیسے الفاظ ادا ہونے سے پہلے اپنے اخلاق سے وضو کر رہے ہوں اور جیسے علم مجسم صورت میں ادب کا ہاتھ تھامے انسان کی تعمیر میں مصروف ہو۔

عجیب حقیقت ہے ایسے لوگ خود بہت کم لکھتے ہیں مگر بے شمار اہلِ قلم کو لکھنے کا حوصلہ دے دیتے ہیں۔ ایسے لوگ خود کو چراغ کہلانے کی خواہش نہیں رکھتے مگر ان کے دم سے نہ جانے کتنے چراغ روشن ہو جاتے ہیں،۔ ایسے لوگ اپنے نام سے زیادہ اپنے اثر سے پہچانے جاتے ہیں اور یہی لوگ اپنی ذات سے بڑھ کر دوسروں کی شناخت بنا دیتے ہیں۔

سر سلیم خان صاحب بھی انہی نفوسِ قدسیہ میں سے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کو اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا بلکہ دوسروں کی شخصیت کی تعمیر کو اپنا مقصدِ حیات بنایا۔ انہوں نے اپنے علم کو صدقۂ جاریہ بنا دیا اور اپنی شفقت کو نسلوں تک پھیلنے والی روشنی۔
جب میں اپنی ادبی مسافت کے ابتدائی ایام کی طرف پلٹ کر دیکھتی ہوں تو ہر موڑ پر ایک سایہ ساتھ چلتا دکھائی دیتا ہے۔ کہیں حوصلہ بن کر، کہیں رہنمائی بن کر، کہیں اصلاح بن کر، کہیں خاموش دعا بن کر۔ تب احساس ہوتا ہے کہ بعض احسان لفظ “شکریہ” سے کہیں بڑے ہوتے ہیں۔ انہیں زبان ادا نہیں کر سکتی، انہیں صرف عمر بھر کی وفاداری، دعا اور اعتراف ہی نبھا سکتے ہیں۔

سر سلیم خان صاحب!
اگر میری تحریروں میں کبھی کوئی ایسا جملہ جنم لے جو کسی دل میں امید کی شمع روشن کر دے، اگر میرے قلم سے کبھی کوئی ایسا لفظ نکلے جو کسی شکستہ حوصلے کو سہارا دے، اگر میری فکر کبھی کسی انسان کے لیے خیر کا سبب بن جائے تو وہ میری صلاحیت کا کمال نہیں بلکہ آپ کی تربیت کا تسلسل ہو گا کیونکہ شاگرد کے قلم میں جتنی بھی روشنی ہوتی ہے، وہ دراصل استاد کے چراغ سے مستعار ہوتی ہے۔

آج آپ کا یومِ ولادت میرے لیے محض ایک تاریخ نہیں بلکہ سجدۂ شکر کا دن ہے۔ اس ربِ کریم کے حضور شکر گزار ہوں جس نے میری زندگی میں ایک ایسا معلم عطا فرمایا جس نے مجھے صرف لکھنا ہی نہیں سکھایا بلکہ لکھنے کی ذمہ داری، علم کی حرمت، کردار کی عظمت، اخلاق کی لطافت اور انسان ہونے کا وقار بھی سکھایا۔
اگر میری شناخت کے صحیفے پر کوئی روشن سطر لکھی گئی ہے تو یقیناً اس کی روشنائی میں آپ کی تربیت شامل ہے اور اگر میرے قلم میں کبھی کوئی خوشبو محسوس ہوتی ہے تو وہ اسی باغبان کے ہاتھوں کی مہک ہے جس نے اس ننھے پودے کو مسلسل محبت، رہنمائی اور اعتماد کے پانی سے سینچا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے علم کو ہمیشہ صدقۂ جاریہ بنائے، آپ کی عمر کو خیر و برکت سے معمور رکھے، آپ کو کامل صحت، دائمی عافیت، قلبی سکون اور روحانی آسودگی عطا فرمائے اور آپ کے سایۂ رحمت کو تا دیر قائم رکھے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسی طرح آپ کی صحبت سے علم کی روشنی، کردار کی حرارت، محبت کی خوشبو اور اخلاص کی دولت حاصل کرتی رہیں۔
آمین یا رب العالمین۔

50% LikesVS
50% Dislikes

وہ شجر جس کے سائے میں لفظ پناہ لیتے ہیں. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں