Let Go of the Past and Let It Go 0

جو گزر گیا، اسے جانے دیں. محمد عابد رشید
زندگی کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ جو وقت گزر گیا، وہ دوبارہ واپس نہیں آتا۔ ہم اکثر اپنے ماضی کے دروازے پر کھڑے رہتے ہیں، کبھی اپنی غلطیوں کو یاد کر کے خود کو ملامت کرتے ہیں اور کبھی گزرے ہوئے خوبصورت لمحوں کو واپس لانے کی خواہش میں آج کا سکون بھی کھو دیتے ہیں۔
جو گزر گیا، وہ اب ہماری مٹھی میں نہیں۔ اُس کے پیچھے بھاگتے رہیں گے تو آج بھی ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا، نہ خوشیوں کے لیے اور نہ ہی غموں کے لیے۔ زندگی ہمیشہ آگے بڑھنے کا نام ہے۔
ماضی کی غلطیوں سے سبق لینا عقل مندی ہے، لیکن انہی غلطیوں میں قید رہنا خود پر ظلم ہے۔ جو فیصلہ اُس وقت کیا گیا، وہ اُس وقت کے حالات، سوچ اور سمجھ کے مطابق تھا۔ آج اگر آپ زیادہ سمجھدار ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے وقت سے کچھ سیکھا ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص، رشتہ یا موقع آپ کی زندگی سے گزر چکا ہے تو ہر لمحہ اسے واپس لانے کی کوشش ضروری نہیں۔ بعض چیزیں ہماری زندگی میں صرف ہمیں کچھ سکھانے کے لیے آتی ہیں۔ ان کا چلے جانا بھی شاید ہماری زندگی کے اگلے سفر کی تیاری ہوتا ہے۔
اپنے آج کو ماضی کی یادوں کے حوالے نہ کریں۔ جو ہاتھ میں ہے، اسے سنبھالیں۔ جو سامنے ہے، اسے بہتر بنائیں۔ اور جو آنے والا ہے، اس کے لیے امید رکھیں۔
یاد رکھیں، ماضی ایک سبق ہے، سزا نہیں۔
اسے پڑھیں، اس سے سیکھیں اور پھر آگے بڑھ جائیں۔
کیونکہ زندگی اُن لوگوں کو نہیں نوازتی جو ہمیشہ پیچھے دیکھتے رہتے ہیں، بلکہ اُن لوگوں کو راستہ دیتی ہے جو اپنے آج کو سنوار کر اپنے کل کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔
جو گزر گیا، اسے سلام کریں…
جو آج ملا ہے، اسے سنبھالیں…
اور جو کل آنا ہے، اُس کے لیے امید رکھیں۔

جادو ٹونا: خوف، فریب اور حقیقت. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

ناول: سنکھنی. مصنفہ: سلمیٰ کشم. تبصرہ نگار: عبدالحفیظ شاہد واہ کینٹ

عنوان: محبت، روزگار اور پیٹ کا آفتاب. سیدہ فضہ بتول

Let Go of the Past and Let It Go

50% LikesVS
50% Dislikes

جو گزر گیا، اسے جانے دیں. محمد عابد رشید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں