Khan’s Diary 0

خان کی ڈائری. طنز و مزاح کے آئینے میں ایک زندہ عہد کی داستان صنف: طنز و مزاح، خودنوشت، شخصی مشاہدات . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
محمد اصغر خان کی مذکورہ تصنیف “خان کی ڈائری” کو محض طنز و مزاح تک محدود کر دینا اس کے وسیع تر ادبی مزاج سے انصاف نہیں ہوگا۔ بظاہر یہ مختلف واقعات، تجربات، مشاہدات، شخصی تاثرات اور روزمرہ زندگی کی چھوٹی بڑی باتوں کا مجموعہ ہے لیکن گہرائی میں اتر کر دیکھا جائے تو یہ ایک ایسے انسان کی فکری اور جذباتی روداد ہے جس نے اپنے عہد، اپنے معاشرے، اپنے پیشے، اپنی ادبی دنیا اور سب سے بڑھ کر اپنی ذات کو نہایت قریب سے دیکھا ہے۔ اس کتاب میں ہنسی بھی ہے، یاد بھی؛ خودنوشت بھی ہے، جگ بیتی بھی؛ شخصی تجربہ بھی ہے اور معاشرتی مشاہدہ بھی۔ یہی امتزاج اسے ایک روایتی مزاحیہ کتاب سے الگ کر کے ایک ایسی ادبی دستاویز بنا دیتا ہے جس میں ایک پورا عہد اپنی متعدد صورتوں کے ساتھ سانس لیتا محسوس ہوتا ہے۔
محمد اصغر خان کی نثر کی پہلی اور شاید سب سے نمایاں خوبی بے ساختگی ہے۔ وہ لفظوں کی نمائش، ثقیل ادبی اصطلاحات اور مصنوعی شائستگی کے بجائے اپنے قارئین سے براہِ راست گفتگو کرتے ہیں۔ ان کی تحریر میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی تجربہ کار، بذلہ سنج اور صاف گو شخص سامنے بیٹھا اپنی زندگی کے قصے سنا رہا ہے۔ کبھی وہ خود ہنستا ہے، کبھی دوسروں پر مسکراتا ہے اور کبھی اپنی ہی کسی کمزوری کو اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ قاری بے اختیار مسکرا اٹھتا ہے۔ اسلوب کی یہی فطری روانی “خان کی ڈائری” کا بنیادی حسن ہے۔
کتاب کی “پیش بندی” مصنف کے ادبی مزاج کو سمجھنے کی ایک اہم کلید فراہم کرتی ہے۔ محمد اصغر خان نے نسبتاً عمر کے ایک مرحلے میں شاعری کا آغاز کیا اور پھر نثر کی طرف آئے۔ وہ اپنی نثر کو کسی بنے بنائے ادبی سانچے میں قید کرنے کے بجائے اپنے مشاہدات اور محسوسات کا بے تکلف اظہار سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ بات قاری تک مؤثر انداز میں پہنچے۔ یہی سوچ ان کی نثر کو تصنع سے بچاتی ہے۔ وہ لکھتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتے کہ وہ “ادیب” ہیں؛ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے تجربے اور خیال کی حرارت قاری تک پہنچ جائے۔ چنانچہ ان کی تحریر میں ادبی شعور تو ہے مگر ادبی رعب نہیں۔
یہی بات ان کے طنز و مزاح پر بھی صادق آتی ہے۔ ان کے ہاں مزاح کسی مصنوعی ترکیب یا الگ سے لگائے گئے مصالحے کی طرح نہیں بلکہ زندگی کے اندر سے برآمد ہوتا ہے۔ کسی واقعے کی معمولی سی جزئیات، کسی شخص کا مخصوص اندازِ گفتگو، کسی معاشرتی عادت کی مضحکہ خیزی یا خود مصنف کی کوئی کمزوری اچانک مزاح کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ ان کے طنز کی خاص بات یہ ہے کہ وہ صرف دوسروں پر ہنسنے کے قائل نہیں، وہ خود بھی اپنے طنز کی زد میں آتے ہیں۔ یہی خود طنزی ان کے مزاح کو زیادہ معتبر اور فطری بناتی ہے۔
“خان کی ڈائری” میں خودنوشت کا رنگ بھی خاصا نمایاں ہے۔ مصنف اپنی زندگی کے مختلف ادوار کو نہایت کھلے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ بچپن، تعلیم، ملازمت، پیشہ ورانہ سفر، ادبی زندگی، بیرونِ ملک تجربات، شاعری، نثر اور معاشرتی روابط…سب کچھ ان کے بیانیے میں جگہ پاتے ہیں، تاہم یہ خودنوشت کسی رسمی سوانح کی طرح واقعات کی محض فہرست نہیں بنتی کیونکہ ہر واقعے کے ساتھ مصنف کی اپنی شخصیت، حسِ مزاح اور تبصرہ بھی شامل ہوجاتا ہے۔
اپنی تاریخِ پیدائش سے متعلق سرکاری ریکارڈ کے اختلاف کا ذکر اس سلسلے میں خاصا دلچسپ ہے۔ ایک طرف وہ اس اختلاف کو درست کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں ان کی زندگی کے بارے میں غلط معلومات نہ پھیلیں، دوسری طرف ایک معمولی سوانحی تضاد کو بھی مزاحیہ رنگ دے دیتے ہیں۔ یہی ان کے فن کی خوبی ہے کہ وہ سنجیدہ بات کو بھی ہنسی کی روشنی میں دکھا سکتے ہیں۔
بچپن اور تعلیم کے واقعات میں بھی ماضی کا ایک جہان آباد ہے۔ بلوچستان میں والد کی ملازمت کے باعث قیام، سبی اور مچھ کے اسکول، کوئٹہ کا خالصہ ہائی اسکول اور اساتذہ کی یادیں محض سوانحی معلومات نہیں رہتیں بلکہ ایک گزرتے ہوئے زمانے کی معاشرتی تصویر بن جاتی ہیں۔ ماسٹر نادر علی اور ماسٹر اقبال جیسے کرداروں کا ذکر اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ انسان کی شخصیت صرف بڑے واقعات سے نہیں بنتی؛ بعض اوقات ایک استاد کا مخصوص جملہ، ایک عادت یا ایک معمولی سا واقعہ بھی عمر بھر کی یاد بن جاتا ہے۔ ماسٹر اقبال کا بار بار “کیا ہے کہ” کہنا اسی یاد کو مزاحیہ اور دل نشیں بنا دیتا ہے۔
تعلیمی زندگی کے حوالے سے مصنف کی خود احتسابی بھی قابلِ ذکر ہے۔ ایف ایس سی میں ناکامی، والد کی انجینئر بننے کی خواہش اور خود ان کی مختلف ترجیحات کے بعد زراعت کے شعبے کا انتخاب بظاہر زندگی کی ایک سیدھی لکیر کو توڑ دیتا ہے مگر یہی شکست و ریخت آگے چل کر کامیابی کا راستہ بن جاتی ہے۔ ٹنڈو جام کے زرعی کالج سے ایم ایس سی، بیرونِ ملک مزید تعلیم، زرعی تحقیق میں طویل عملی زندگی اور مختلف اداروں سے وابستگی اس بات کی مثال ہے کہ زندگی ہمیشہ انسان کے بنائے ہوئے منصوبے کے مطابق نہیں چلتی۔ بعض اوقات راستہ خود انسان کو اپنی منزل تک لے جاتا ہے۔
مصنف کی تقریباً چھتیس سالہ پیشہ ورانہ زندگی “خان کی ڈائری” کو ایک اور جہت عطا کرتی ہے۔ زرعی تحقیق کے شعبے سے وابستگی، ملتان اور سکرنڈ میں ملازمت، کراچی منتقلی، بیرونِ ملک تربیتی تجربات، امریکی فرم سے وابستگی، ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے لیے مشاورت اور پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی میں ڈائریکٹر آف ریسرچ کے منصب تک پہنچنا ان کی زندگی کے اہم مراحل ہیں۔ تاہم ان واقعات کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ یہ مصنف کی پیشہ ورانہ کامیابیوں کا ریکارڈ ہیں بلکہ ان کی اصل معنویت یہ ہے کہ ان واقعات کے ذریعے ایک ایسے پاکستانی پیشہ ور کی تصویر سامنے آتی ہے جس نے سرکاری اداروں، تحقیق، انتظامی نظام اور عالمی اداروں کے ماحول کو قریب سے دیکھا۔
کتاب میں مصنف کی ثقافتی اور لسانی وسعت بھی نمایاں ہے۔ مختلف علاقوں میں رہنے اور متعدد زبانوں سے واقفیت نے ان کے مشاہدے کو ایک محدود علاقائی دائرے میں مقید نہیں رہنے دیا۔ پشتو، پنجابی، سندھی، سرائیکی، ہندکو، فارسی، ہندی اور انگریزی سے واقفیت صرف لسانی سرمایہ نہیں بلکہ مختلف ثقافتوں اور معاشرتی رویوں کو سمجھنے کا وسیلہ بھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی نظر کسی ایک طبقے یا علاقے تک محدود نہیں رہتی۔ ان کے ہاں انسان اپنی سماجی، لسانی اور تہذیبی شناخت سمیت دکھائی دیتا ہے۔
مصنف کی ادبی زندگی “خان کی ڈائری” کا ایک نہایت دل چسپ باب ہے۔ پینتالیس برس کی عمر میں شاعری کا آغاز اور پھر “آتشِ زیرِ پا” کی اشاعت اس امر کی دلیل ہے کہ تخلیقی زندگی کے لیے عمر کوئی آخری حد نہیں۔ ان کی شاعری کو پذیرائی ملتی ہے تو وہ اپنی خوشی اور اپنی مقبولیت کی خواہش کو بھی چھپاتے نہیں۔ یہ اعتراف اہم ہے کیونکہ اکثر اہل قلم اپنی ادبی خود پسندی کو بڑی سنجیدگی کے پردے میں چھپا لیتے ہیں، جب کہ اصغر خان اسے بھی ہنسی میں بیان کر دیتے ہیں۔ یوں وہ ادیب کی اس انسانی فطرت کو تسلیم کرتے ہیں کہ تخلیق کار بھی داد چاہتا ہے، پہچانا جانا چاہتا ہے اور اپنی تحریر کے اثر سے خوش ہوتا ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب سے ان کی عقیدت ان کے ادبی ذوق کا ایک خوب صورت پہلو ہے۔ غالب کے ساتھ خیالی مکالمہ یا خواب کی فضا میں ان کی موجودگی کا تصور محض مزاحیہ مشق نہیں بلکہ ایک تخلیق کار کا اپنے محبوب شاعر سے تخیلی رشتہ بھی ہے۔ اصغر خان غالب کو کسی مزار یا ادبی تخت پر بٹھا کر دور نہیں کرتے بلکہ ان کے ساتھ ایک زندہ مکالمہ کرتے ہیں۔ اس انداز میں عقیدت بھی ہے، شوخی بھی اور تخیل بھی۔
اگر کتاب کے دوسرے حصے پر نظر ڈالی جائے تو “خان کی ڈائری” کا دائرۂ کار مزید وسیع ہوجاتا ہے۔ یہاں طنز و مزاح محض ذاتی واقعات تک محدود نہیں رہتا بلکہ سیاست، ادب، سماج، تعلیم، ترقی، صفائی، زراعت، موسیقی، انتخابات اور روزمرہ زندگی تک پھیل جاتا ہے۔ “جمہوریت”، “آخری راستہ!”، “انتخابات 2008ء”، “متناسب نمائندگی!” اور دیگر سیاسی موضوعات میں مصنف اپنے عہد کی سیاسی فضا کو طنزیہ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان تحریروں کی اہمیت یہ ہے کہ ان میں طنز کسی ایک شخص یا جماعت تک محدود نہیں رہتا بلکہ سیاسی رویوں، نعروں، وعدوں اور اجتماعی تضادات کو اپنا موضوع بناتا ہے۔
پاکستانی سیاست طنز نگار کے لیے ہمیشہ ایک زرخیز میدان رہی ہے مگر اصغر خان کی خوبی یہ ہے کہ وہ سیاسی طنز کو محض جگت میں تبدیل نہیں ہونے دیتے۔ ان کے ہاں سیاسی صورتِ حال کے پیچھے موجود انسانی نفسیات اور اجتماعی رویے بھی نظر آتے ہیں۔ جمہوریت کے نام پر پیدا ہونے والی امیدیں، انتخابات کے موسم میں بدلتے ہوئے رویے اور سیاسی بیانیوں کے تضادات ایسے موضوعات ہیں جن پر ہنستے ہوئے قاری کو اپنی اجتماعی زندگی کے سنجیدہ سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
“خلاصۂ تاریخِ پاکستان!” جیسے عنوانات اسی طنزیہ شعور کی مثال ہیں۔ تاریخ کو مزاحیہ اختصار کے پیرائے میں دیکھنا بظاہر تفریح معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے ایک سنجیدہ سوال چھپا ہے: ہم اپنی تاریخ کو کس طرح یاد رکھتے ہیں اور اس سے کیا سیکھتے ہیں؟ اس طرح اصغر خان کا طنز صرف واقعے پر نہیں بلکہ اجتماعی حافظے پر بھی گرفت کرتا ہے۔
ادبی دنیا بھی ان کے طنز کا ایک اہم میدان ہے۔ “مزاحمتی ادب”، “ماڈرن فکشن”، “حوالوں کی بے باکیاں”، “ادبی سماجیات”، “ادبیاتِ اصغری” اور تنقید و تبصرہ نگاری سے متعلق عنوانات اس بات کی علامت ہیں کہ مصنف ادبی دنیا کے اندرونی رویوں سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ ادبی حلقوں میں مصنوعی علمیت، باتوں کا بے جا استعمال، گروہی وابستگیاں، خود ستائی اور اپنی ادبی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی روش ان کے لیے طنز کا قدرتی میدان بن جاتی ہے۔
قصه دیوان چھپوانے کے سے عنوان میں ایک ادیب کی اپنی کتاب کے ساتھ جذباتی وابستگی، اور “ادب گویند کہ من شاہِ جہانم!” میں ادبی خود پسندی کی طرف اشارہ، اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ مصنف ادبی دنیا سے باہر کھڑے ہوکر اس پر پتھر نہیں برساتے، وہ اس دنیا کا حصہ بنتے ہوئے اس کے تضادات پر مسکراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا طنز محض دوسروں کی اصلاح کا دعویٰ نہیں کرتا بلکہ ادیب سمیت ہر شخص کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دیتا ہے۔

سماجی موضوعات پر بھی مصنف کی نگاہ خاصی تیز ہے۔ “خواندگی اور ترقی”، “صفائی نصف ایمان ہے”، “ترقی کے گر”، “زرعی تحقیق’ اور “جوگنگ” جیسے عنوانات بظاہر مختلف ہیں مگر ان سب کے پیچھے معاشرتی زندگی کا کوئی نہ کوئی تضاد موجود ہے۔ تعلیم اور ترقی کے بلند بانگ دعوؤں کے مقابلے میں عملی صورتِ حال، صفائی کے مذہبی اور اخلاقی تصور کے مقابلے میں روزمرہ رویے، تحقیق کی ضرورت کے مقابلے میں ادارے کی کمزوریاں۔۔۔ یہ سب ایسے موضوعات ہیں جنہیں مصنف مزاح کی نرم روشنی میں دکھاتے ہیں۔
یہاں طنز کی اصل طاقت سامنے آتی ہے۔ اگر یہی باتیں کسی خشک اصلاحی مضمون میں بیان کی جاتیں تو ممکن ہے قاری چند سطروں کے بعد اکتا جاتا مگر مزاح اسے تحریر کے اندر کھینچ لاتا ہے۔ وہ پہلے مسکراتا ہے، پھر چونکتا ہے، پھر سوچتا ہے۔ اچھا طنز یہی کرتا ہے: قاری کو ہنساتے ہوئے اس کی سوچ میں ایک معمولی سا خلل پیدا کر دیتا ہے۔
کتاب کے عنوانات بھی مصنف کی برجستگی کے گواہ ہیں۔ “کتا کتا بھائی بھائی”، “حوالوں کی بے ساکھیاں”، “کوئی سمجھائے کہ ہم سمجھائیں کیا……؟” اور ‘کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا!” جیسے عنوانات محض نام نہیں بلکہ تحریر کے مزاج کا ابتدائی تعارف ہیں۔ ان میں سوال بھی ہیں، شوخی بھی، طنز بھی اور تجسس بھی۔ قاری عنوان پڑھ کر آگے بڑھنے پر مجبور ہوتا ہے کہ آخر مصنف اس برجستہ فقرے کے پیچھے کیا دکھانا چاہتا ہے۔
“حکایاتِ اصغری” اور “اصغری ٹپے!” جیسے حصے کتاب کے مزاحیہ مزاج کو مزید متنوع بناتے ہیں۔ یہاں مصنف مختصر حکایت، واقعے اور برجستہ اظہار کے ذریعے اپنے مشاہدات کو پیش کرتے ہیں۔ اس تنوع کی وجہ سے کتاب یکسانیت کا شکار نہیں ہوتی۔ کہیں طویل مضمون ہے، کہیں شخصی واقعہ، کہیں سیاسی تبصرہ، کہیں ادبی طنز اور کہیں روزمرہ زندگی کی معمولی سی بات سے پیدا ہونے والی شگفتگی۔
کتاب کا ایک قابلِ توجہ پہلو مصنف کا خود تنقیدی رویہ ہے۔ وہ خود کو کسی مثالی انسان، عظیم دانشور یا بے عیب ادیب کے طور پر پیش نہیں کرتے۔ ان کی کامیابیاں بھی سامنے ہیں اور ناکامیاں بھی؛ خواہشیں بھی ہیں اور کمزوریاں بھی؛ ادبی خود اعتمادی بھی ہے اور اپنی ذات پر ہنسنے کی صلاحیت بھی۔ یہی خود آگہی ان کی شخصیت کو قابلِ اعتبار بناتی ہے۔ وہ دوسروں کو دیکھتے ہوئے خود کو بھی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے۔
اس اعتبار سے “خان کی ڈائری” کا مزاح محض خارجی مزاح نہیں بلکہ اس میں ایک داخلی کیفیت بھی شامل ہے۔ مصنف دنیا کی مضحک خیزیوں پر اس لیے ہنس سکتا ہے کہ وہ اپنی ذات کے تضادات سے بھی واقف ہے۔ یہی شعور طنز کو محض پھبتی نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ادب میں تبدیل کرتا ہے۔ قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ مصنف کسی اونچی جگہ کھڑا ہو کر معاشرے پر تبصرہ نہیں کر رہا بلکہ اسی معاشرے کا ایک فرد بن کر اس کی خوبیوں، خامیوں اور تضادات میں شریک ہے۔
کتاب میں فنونِ لطیفہ کے حوالے سے بھی ایک اہم فکری تصور سامنے آتا ہے۔ تخلیق مصنف کے نزدیک محض شہرت یا داد حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی فرسٹریشن، داخلی کیفیت اور ذہنی دباؤ کے اظہار کا راستہ بھی ہے۔ اس لحاظ سے شاعری اور نثر دونوں ان کے لیے زندگی کو سمجھنے اور اپنے اندر کے انسان کو اظہار رائے دینے کے وسیلے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ وہ ادبی تخلیق کو کسی مقدس، ناقابلِ رسائی مقام پر نہیں رکھتے بلکہ اسے انسانی تجربے کا ایک فطری اظہار سمجھتے ہیں۔
یہاں ان کی تحریر کا ایک اور اہم وصف سامنے آتا ہے۔ وہ آزاد فکری اور ادبی اصولوں کے احترام سے زیادہ تخلیقی آزادی اور ابلاغ کو اہمیت دیتے ہیں۔ ممکن ہے بعض مقامات پر روایتی ادبی معیار کے سخت پیمانے پر ان کی نثر میں بے قاعدگیاں محسوس ہوں لیکن یہی بے قاعدگی ان کی آواز کو مصنوعی ہونے سے بچاتی ہے۔ ان کی تحریر کسی “ادبی نمونے” کی نقل نہیں بلکہ ان کی اپنی شخصیت کی آواز ہے۔
تاہم ایک متوازن تبصرے کے لیے یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ کتاب کا موضوعاتی پھیلاؤ بعض مقامات پر اس کی ساخت کو قدرے منتشر محسوس کرا سکتا ہے۔ خود نوشت کے واقعات سے سیاسی تبصروں، ادبی مباحث سے سماجی موضوعات اور روزمرہ مشاہدات سے حکایات تک مسلسل سفر قاری کو ایک خاص ترتیب کے بجائے تنوع کا تجربہ دیتا ہے۔ مگر یہی بات اس کتاب کی فطرت کو دیکھتے ہوئے اس کی کمزوری کے بجائے کافی حد تک اس کا اسلوبیاتی وصف بھی بن جاتی ہے۔ “ڈائری” کی فطرت ہی یہ ہے کہ اس میں زندگی ایک ہی موضوع کے گرد منظم نہیں ہوتی، زندگی خود منتشر، رنگا رنگ اور غیر متوقع ہوتی ہے۔ اصغر خان نے شاید اسی فطری انتشار کو اپنی کتاب کی ساخت کا حصہ بنا دیا ہے۔
اسی طرح بعض تحریروں کا طنز اپنے مخصوص عہد اور حالات سے گہرا تعلق رکھتا ہے، اس لیے ان کی مکمل معنویت ان واقعات سے واقف قاری پر زیادہ واضح ہوتی ہے لیکن یہی چیز کتاب کو تاریخی اہمیت بھی عطا کرتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بعض مخصوص سیاسی حوالوں کی فوری معنویت کم ہو سکتی ہے، مگر ان کے ذریعے محفوظ ہونے والا اجتماعی مزاج اور معاشرتی رویہ اپنی اہمیت برقرار رکھتا ہے۔
“خان کی ڈائری” کا ایک بڑا کمال یہ بھی ہے کہ یہ ہنسی کو سنجیدگی کا متبادل نہیں بلکہ اس کا راستہ بناتی ہے۔ کتاب میں قاری کو جگہ جگہ قہقہہ لگانے کا موقع ملتا ہے مگر قہقہے کے فوراً بعد ایک سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ کیا واقعی ہمارا سیاسی رویہ ایسا ہی ہے؟ کیا ہماری ادبی دنیا میں خود پسندی اور گروہ بندی موجود نہیں؟ کیا ترقی کے دعوؤں اور عملی زندگی میں کوئی فاصلہ نہیں؟ کیا ہم اپنی معمولی معاشرتی عادات میں بڑے قومی مسائل کی جھلک نہیں دیکھ سکتے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں کتاب تفریح سے آگے بڑھ کر فکری تجربہ بن جاتی ہے۔
مصنف کی نثر کا حسن کسی پیچیدہ لفظی کاریگری میں نہیں بلکہ خیال کی سادگی اور مشاہدے کی گہرائی میں ہے۔ ان کے پاس الفاظ کی شعبدہ گری شاید مقصد نہیں مگر زندگی کے مشاہدے کا ایک وسیع سمندر ضرور ہے۔ یہ شعر:
جادو گری الفاظ کی گو بس میں نہیں ہے
سوچوں کا ایک بحر مگر دست رس میں ہے
در حقیقت “خان کی ڈائری” کے پورے مزاج کی تعبیر بن جاتا ہے۔ مصنف الفاظ کو جادو کی چھڑی بنانے کے بجائے انہیں اپنے خیالات، تجربات اور مشاہدات کی ترسیل کا وسیلہ بناتے ہیں۔ ان کی قوت لفظوں کی آرائش سے زیادہ زندگی کو دیکھنے کی صلاحیت میں ہے۔
مجموعی طور پر “خان کی ڈائری” مصنف کی شخصیت، فکر اور عہد کا ایسا آئینہ ہے جس میں صرف مصنف کا چہرہ نہیں بلکہ معاشرے کے کئی چہرے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں ایک سائنس دان اور زرعی ماہر کی زندگی ہے، ایک شاعر کا خواب ہے، ایک نثر نگار کی بے باکی ہے، ایک شہری کا سیاسی شعور ہے، ایک حساس انسان کی معاشرتی تشویش ہے اور ایک بذلہ سنج شخص کی وہ مسکراہٹ ہے جو زندگی کی تلخیوں کو قابلِ برداشت بناتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ “خان کی ڈائری” ایک ایسی کتاب ہے جسے صرف ہنسنے کے لیے پڑھنا اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ کتاب قاری کو ہنساتی ضرور ہے مگر اس ہنسی کے اندر ایک سوال رکھ دیتی ہے؛ یہ ماضی کی یاد دلاتی ہے، مگر حال کو دیکھنے کا زاویہ بھی عطا کرتی ہے؛ یہ مصنف کی ذات کا احوال بیان کرتی ہے، مگر بالآخر قاری کو اپنی ذات اور اپنے معاشرے کی طرف متوجہ کر دیتی ہے۔ یہی زندہ طنز کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
“خان کی ڈائری” کا اصل کمال یہ ہے کہ یہاں قہقہہ اختتام نہیں، آغاز ہے…ہنسی کے بعد سوچ شروع ہوتی ہے اور جب کوئی کتاب قاری کو مسکرانے کے ساتھ سوچنے، اپنے معاشرے کو دیکھنے کے ساتھ خود کو پرکھنے اور ایک شخص کی زندگی پڑھنے کے ساتھ ایک پورے عہد کی نبض شناسی پر مجبور کر دے تو وہ محض مزاحیہ کتاب نہیں رہتی؛ وہ ادب کا ایک زندہ تجربہ بن جاتی ہے۔ مصنف کی مذکورہ تصنیف اسی زندہ تجربے کا نام ہے۔

آیت نور اور ایزل کی چیخیں: کیا ہم ان کے خاموش قاتلوں کو پہچاننے کے لیے تیار ہیں؟ سیدہ فضہ بتول

Khan’s Diary

50% LikesVS
50% Dislikes

خان کی ڈائری. طنز و مزاح کے آئینے میں ایک زندہ عہد کی داستان صنف: طنز و مزاح، خودنوشت، شخصی مشاہدات . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں