آیت نور اور ایزل کی چیخیں: کیا ہم ان کے خاموش قاتلوں کو پہچاننے کے لیے تیار ہیں؟ سیدہ فضہ بتول
ہری پور کی چار سالہ معصوم آیت نور کی بوری بند لاش جب کنویں سے نکالی گئی اور اس پر لکڑیاں ڈال کر چھپانے کی کوشش کی گئی، تو شاید انسانیت کا بھی دم گھٹ گیا۔ اس سے چند دن پہلے ڈیڑھ سالہ ایزل کی تصویر دیکھ کر روح کانپ گئی تھی، جسے اس کے اپنے ہی سترہ سالہ رشتہ دار نے جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ ان معصوموں کی ماؤں کے بین اور ان کے باپوں کی شکستہ قامتیں محض خبریں نہیں ہیں، یہ ہمارے ضمیر پر لگے وہ زخم ہیں جن سے مسلسل خون رس رہا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ اب بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر ایک انسان اس حد تک درندہ کیسے بن جاتا ہے؟ اسے ایک چار سالہ معصوم بچی میں کوئی انسانیت کیوں نظر نہیں آتی؟ نفسیاتی ماہرین کے مطابق یہ صرف جنسی ہوس کا معاملہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ طاقت اور تسلط (Power and Control) کی ایک بیمار ذہنیت ہے۔ ایک چھوٹا بچہ کسی قسم کی مزاحمت نہیں کر سکتا، اس لیے بزدل اور بیمار ذہنیت کے حامل افراد بچوں کو آسان شکار بناتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ یہ درندے کسی خلا میں پیدا نہیں ہوتے، بلکہ ہمارا سماجی ماحول اور ہماری خاموشی انہیں پروان چڑھنے کا موقع دیتی ہے۔
ہماری سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم بچوں کے خلاف ہونے والے ان مظالم کو محض ایک فرد کی انفرادی بربریت سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ہمارے ارد گرد ڈیجیٹل دنیا میں کیا گھناؤنا کھیل چل رہا ہے۔ آج کل واٹس ایپ گروپس، ٹیلی گرام چینلز اور پرائیویٹ چیٹس میں بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد یعنی CSAM (Child Sexual Abuse Material) باقاعدہ طلب کیا جاتا ہے، شیئر کیا جاتا اور محفوظ کیا جاتا ہے۔
سب سے ہولناک بات یہ ہے کہ اس مواد کو لوگ بڑی بے حسی سے “Porn” کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ خدارا یہ سمجھیے! یہ کوئی عام جنسی مواد نہیں ہے، یہ کسی معصوم بچے پر گزرنے والے حقیقی ظلم، اس کے خوف، درد اور چیخوں کا محفوظ شدہ ریکارڈ ہے۔ جو شخص بھی ایسا مواد مانگتا ہے، دیکھتا ہے یا آگے بھیجتا ہے، وہ محض ایک تماشائی نہیں بلکہ اس پورے مجرمانہ سلسلے کا حصہ ہے جو بچوں کے خلاف بربریت کی طلب (Demand) بڑھا رہا ہے۔
اگر قانون کی بات کی جائے تو ہمارا قانون اس حوالے سے بالکل خاموش نہیں ہے۔ Prevention of Electronic Crimes Act (PECA 2016) اور اس کی 2023 کی ترامیم کے تحت:
Section 22: اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کا جنسی مواد (CSAM) بنانا، بھیجنا، یا موبائل میں رکھنا شدید جرم ہے، جس کی سزا چودہ سے بیس سال قید اور کم از کم دس لاکھ روپے جرمانہ ہے۔
Section 22A: آن لائن کسی بچے کو مائل کرنا، اعتماد میں لینا یا تصویریں یا ویڈیوز مانگنا (Online Grooming) جرم ہے، جس کی سزا پانچ سے دس سال قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہے۔
Section 22B & 22C: آن لائن رابطے کے ذریعے کسی بچے کا تجارتی استحصال یا اغوا کرنا، چودہ سے بیس سال قید کی سزا کا حامل ہے۔
قانون صرف والدین کو نہیں بلکہ کسی بھی عام شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ اگر اس کے پاس ایسی کسی سرگرمی کی معلومات ہوں تو وہ فوری شکایت درج کروائے۔ اگر آپ کو کسی بھی واٹس ایپ گروپ یا سوشل میڈیا پر ایسا مواد نظر آئے تو اسے آگے بھیجنے یا سیو کرنے کے بجائے فوری طور پر National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA) کے پاس رپورٹ کریں۔ آپ ہیلپ لائن 1799، NCCIA پورٹل، یا پاکستان سٹیزن پورٹل کے ذریعے فوری طور پر شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
ہمیں اب محض حادثے کے بعد ماتم کرنے کے رویے کو بدلنا ہوگا۔ بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کے ارد گرد پھیلی اس خاموش رواداری اور آن لائن طلب کو توڑنا ہوگا۔ خاموشی اب بے حسی نہیں بلکہ جرم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی آنکھیں اور زبانیں بند رکھیں تو کل کو خدا نہ کرے کسی اور معصوم کا نام اس دردناک فہرست میں شامل ہو جائے گا۔ سو رونا آئے تو رو لیجیے، لیکن آواز اٹھائیے، قانون جانیے اور اس گھناؤنے سلسلے کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کیجیے، تاکہ کسی اور معصوم تک پہنچنے سے پہلے کسی درندے کا ہاتھ روکا جا سکے۔
آؤ مل کر اپنے بچوں کے بچپن کے محافظ بنیں، کیونکہ خاموشی اب جرم کا حصہ ہے۔
محمد ﷺ 12 ربیع الاول، سرورِ انبیاء، تاجدارِ حرم.بتول فاطمہ
عنوان: “اکیلا سفر” محمد دلاور بلتستانی
Ayat Noor and Aizal’s Cries




