Traveling Alone 0

عنوان: “اکیلا سفر” محمد دلاور بلتستانی
آج کے دور میں عجیب بات یہ ہے کہ اگر آپ باہر نکلیں تو ہر طرف لوگ ہی لوگ نظر آئیں گے، بازار میں رش ہوگا، سکول کالج دفاتر سب جگہ لوگ ملیں گے، موبائل کھولیں تو سینکڑوں دوستوں کے نام ہوں گے، لیکن جب رات کو اکیلے بیٹھ کر سوچیں تو لگتا ہے جیسے آس پاس کوئی بھی اپنا نہیں ہے۔
کیوں ایسا ہوتا ہے؟ اس کی وجہ بہت سادہ ہے، ہر انسان کی اپنی زندگی ہے اپنے مسئلے ہیں اپنی دوڑ ہے، صبح اٹھ کر ہر کوئی اپنے کام میں لگ جاتا ہے، کسی کے پاس وقت نہیں کہ وہ رک کر دوسرے کا حال پوچھے، اگر آپ گر بھی جائیں تو دنیا ایک منٹ رکے گی پھر اپنا راستہ لے لے گی، سچ یہی ہے کہ یہ سفر آپ کو خود ہی کرنا ہے، خوشی آئے تو اسے سنبھالنا بھی آپ نے ہے، غم آئے تو اسے برداشت کرنا بھی آپ نے ہے۔ لوگ اچھے وقت میں ساتھ دیں گے، تعریف کریں گے۔ لیکن جیسے ہی مشکل آئے گی، سب اپنی راہ لے لیں گے، اس میں کسی کا قصور نہیں یہی دنیا کا نظام ہے۔
پہلے ہم سوچتے تھے کہ کوئی تو ہوگا جو ہر حال میں ساتھ دے گا۔ وقت کے ساتھ سمجھ آتی ہے کہ سب سے بڑا سہارا خود انسان خود ہوتا ہے۔جب آپ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا سیکھ جاتے ہیں تو پھر کسی کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑتا۔ ہمیشہ میری تین باتیں یاد رکھیں۔
اپنے کام خود کریں اپنی ذمہ داری خود اٹھائیں، چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے دوسروں کا انتظار مت کریں۔
اپنے دل کو مضبوط بنائیں۔ جب دکھ آئے تو رو کر وقت ضائع مت کریں، بلکہ سوچیں کہ اس سے میں کیا سیکھ سکتا ہوں۔
خود سے دوستی کر لیں، اکیلے وقت گزارنا سیکھیں، کتاب پڑھیں، ورزش کریں، کوئی ہنر سیکھیں۔ جب آپ خود اپنے ساتھ خوش رہنا سیکھ جائیں گے تو اکیلا پن ختم ہو جائے گا۔
آخر میں بس یہ یاد رکھیں کہ زندگی کا راستہ لمبا ہے اور یہ راستہ آپ کو اکیلے ہی چلنا ہے۔ نہ کوئی آپ کے لیے رکے گا، نہ کوئی آپ کے لیے واپس آئے گا، اس لیے تھکنے کے بجائے چلتے رہیں۔ گر جائیں تو خود اٹھیں اور پھر سے چل پڑیں، کیونکہ دن کے آخر میں جو شخص آپ کے سب سے زیادہ کام آئے گا، وہ آپ خود ہیں۔

دولت اور عزت- دونوں کو سنبھالنا ہنر نہیں، ذمہ داری ہے۔ تحریر محمد عابد رشید

Traveling Alone

50% LikesVS
50% Dislikes

عنوان: “اکیلا سفر” محمد دلاور بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں