دولت اور عزت- دونوں کو سنبھالنا ہنر نہیں، ذمہ داری ہے۔ تحریر محمد عابد رشید
دنیا میں دو چیزیں ایسی ہیں جنہیں حاصل کرنا شاید آسان ہو، مگر سنبھالنا انتہائی مشکل ہے: دولت اور عزت۔ دولت انسان کو آسائشیں دے سکتی ہے، مگر اگر اسے سمجھداری سے نہ سنبھالا جائے تو غرور، لالچ اور بے سکونی کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی طرح عزت برسوں کی محنت، اچھے کردار اور خلوص سے حاصل ہوتی ہے، لیکن ایک غلط قدم، ایک غلط لفظ یا ایک غلط رویہ اسے لمحوں میں خاک میں ملا سکتا ہے۔
دولت کا اصل حسن اس وقت سامنے آتا ہے جب انسان اسے صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کی بھلائی کے لیے استعمال کرے۔ مال اگر انسان کے ہاتھ میں رہے تو نعمت ہے، لیکن اگر انسان کے دل میں اتر جائے تو آزمائش بن جاتا ہے۔ دولت کے ساتھ عاجزی، شکر اور سخاوت ہو تو وہ انسان کی زندگی بھی سنوارتی ہے اور دوسروں کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرتی ہے۔
اسی طرح عزت صرف عہدے، شہرت یا بڑے نام سے نہیں ملتی۔ عزت انسان کے کردار، زبان، وعدے، اخلاق اور لوگوں کے ساتھ برتاؤ سے بنتی ہے۔ انسان کے پاس کتنی بھی دولت ہو، اگر کردار اچھا نہیں تو لوگ اس سے متاثر تو ہو سکتے ہیں، مگر دل سے عزت نہیں کریں گے۔ حقیقی عزت وہ ہے جو انسان کی غیر موجودگی میں بھی لوگ اس کے لیے اپنے دل میں رکھتے ہیں۔
زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ دولت کو ضرورت سمجھیں، غرور نہیں؛ اور عزت کو امانت سمجھیں، حق نہیں۔ دولت آج ہے، کل کم یا زیادہ ہو سکتی ہے، مگر اچھا کردار اور لوگوں کے دلوں میں بسنے والی عزت انسان کے اصل سرمایہ ہیں۔
اس لیے اگر اللہ تعالیٰ نے دولت دی ہے تو شکر کریں، اگر عزت دی ہے تو عاجزی اختیار کریں، اور اگر دونوں دی ہیں تو سمجھ لیں کہ آپ کے پاس صرف نعمت نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔
یاد رکھیں، دولت کھو جائے تو دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، مگر عزت ایک بار چلی جائے تو اسے واپس حاصل کرنے میں پوری زندگی بھی کم پڑ سکتی ہے۔
سبق
دولت کی حفاظت عقل سے کریں اور عزت کی حفاظت کردار سے؛ کیونکہ دولت انسان کو بڑا دکھا سکتی ہے، مگر اچھا کردار ہی انسان کو حقیقت میں بڑا بناتا ہے۔
رفتار میں گم انسان. لیکچرار عزت علی پارا چنار
Wealth and Respect




