A Human Lost in the Rush 0

رفتار میں گم انسان. لیکچرار عزت علی پارا چنار
یہ عہد رفتار کا عہد ہے۔ وقت کی رفتار کبھی اتنی تیز نہ تھی، جتنی آج محسوس ہوتی ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی انگلیاں موبائل کی اسکرین پر چلنے لگتی ہیں، انگلیوں کے ساتھ خبریں دوڑتی ہیں، پیغامات دوڑتے ہیں، تصویریں دوڑتی ہیں، خواہشیں دوڑتی ہیں اور پھر انسان بھی دوڑنے لگتا ہے۔ دفتر، کاروبار، تعلیم، ترقی، شہرت، دولت اور کامیابی کی ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ ہے، جس میں ہر شخص دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ مگر اس تمام دوڑ میں ایک عجیب المیہ جنم لے چکا ہے۔ انسان بہت آگے نکل گیا ہے، مگر خود سے بہت دور ہو گیا ہے۔
ہم نے فاصلے کم کر دیے، مگر دلوں کے فاصلے بڑھا دیے۔ ہم نے دنیا کو انگلی کی ایک جنبش پر سمیٹ لیا، مگر اپنے اندر کی دنیا سے رابطہ منقطع کر بیٹھے۔ ہمارے پاس بات کرنے کے لیے بے شمار ذرائع ہیں، لیکن کہنے کو بات کم اور سننے والا اس سے بھی کم ہے۔ ہزاروں دوست فہرست میں موجود ہیں، مگر چند ایسے لوگ بھی میسر نہیں جن کے سامنے انسان اپنا دل بے خوف رکھ سکے۔ یہ کیسی ترقی ہے کہ انسان دوسروں کی زندگیوں سے ہر لمحہ باخبر ہے، مگر اپنی زندگی کی حقیقت سے بے خبر ہوتا جا رہا ہے؟
موجودہ دور نے ہمیں سہولتیں بہت دی ہیں۔ علم تک رسائی آسان ہوئی، دنیا ایک عالمی گاؤں بن گئی، سفر کے ذرائع تیز ہوئے، علاج کے نئے راستے پیدا ہوئے، مصنوعی ذہانت نے انسانی کاموں کے کئی میدان بدل دیے اور ٹیکنالوجی نے زندگی کے بے شمار مسائل کو آسان بنا دیا۔ لیکن ہر سہولت اپنے ساتھ ایک سوال بھی لاتی ہے: کیا ہم نے سہولتوں کو اپنے لیے استعمال کیا ہے یا خود کو سہولتوں کے حوالے کر دیا ہے؟
آج انسان کے پاس وقت بچانے کے لیے مشینیں ہیں، مگر بچا ہوا وقت کہاں صرف ہو رہا ہے؟ گھر میں بیٹھا شخص چند قدم کے فاصلے پر موجود اپنے عزیز سے بات کرنے کے بجائے ہزاروں میل دور بیٹھے شخص سے رابطے میں ہے۔ دسترخوان پر کھانا موجود ہے، خاندان موجود ہے، مگر ہر چہرہ اپنی اپنی اسکرین میں گم ہے۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے قریب بیٹھے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گھر مکان تو رہ گئے ہیں، مگر مکالمے کے مراکز نہیں رہے۔
یہ رفتار صرف ہماری روزمرہ زندگی تک محدود نہیں؛ اس نے ہماری سوچ کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ ہم ہر چیز فوری چاہتے ہیں۔ جواب فوراً، کامیابی فوراً، شہرت فوراً، دولت فوراً، نتائج فوراً۔ ہم انتظار کے فن سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ حالاں کہ زندگی کے بعض خوب صورت ترین ثمرات وقت مانگتے ہیں۔ درخت ایک دن میں سایہ دار نہیں ہوتا، کتاب ایک لمحے میں علم نہیں دیتی، رشتہ ایک ملاقات میں مضبوط نہیں ہوتا اور انسان ایک تجربے سے دانا نہیں بنتا۔ مگر ہم نے جلدی کو زندگی کا اصول بنا لیا ہے اور پھر حیران ہیں کہ ہمارے پاس کامیابیاں تو ہیں، سکون کیوں نہیں؟
موجودہ دور کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ انسان نے مصروف رہنے کو مفید ہونے کا مترادف سمجھ لیا ہے۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنا، کسی نہ کسی کام میں الجھے رہنا، مسلسل مصروف دکھائی دینا ، یہ سب گویا کامیابی کی علامت بن گئے ہیں۔ مگر ہر مصروفیت مقصد نہیں ہوتی اور ہر حرکت پیش رفت نہیں ہوتی۔ کبھی انسان کو رکنا بھی پڑتا ہے تاکہ اسے معلوم ہو سکے کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔
رفتار اگر سمت کے بغیر ہو تو منزل تک نہیں پہنچاتی، صرف تھکن تک پہنچاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان بظاہر بہت فعال، مگر باطن میں تھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ چہروں پر مسکراہٹیں ہیں مگر دلوں میں بے چینی ہے۔ آسائشیں ہیں مگر اطمینان کم ہے۔ رابطے ہیں مگر تعلق کم ہے۔ معلومات ہیں مگر بصیرت کم ہے۔ آوازیں بہت ہیں مگر سماعت کم ہے۔ ہر شخص اپنی بات کہنا چاہتا ہے، مگر دوسروں کو سننے کا حوصلہ کم ہوتا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انسان اب صرف زندگی نہیں گزارتا، اسے دکھاتا بھی ہے۔ خوشی ہو تو تصویر، سفر ہو تو تصویر، کھانا ہو تو تصویر، کامیابی ہو تو اعلان۔ یوں زندگی کا ایک حصہ حقیقت میں اور دوسرا نمائش میں گزرنے لگا ہے۔ ہم دوسروں کو اپنی زندگی کا بہترین منظر دکھاتے ہیں اور پھر دوسروں کی بہترین تصویریں دیکھ کر اپنی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ موازنہ خاموشی سے انسان کے اندر اترتا ہے اور اسے اس چیز سے بھی محروم کر دیتا ہے جو اس کے پاس موجود ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زندگی مقابلہ نہیں، تجربہ ہے۔ ہر شخص کی رفتار الگ ہے، راستہ الگ ہے، حالات الگ ہیں اور منزل بھی الگ ہو سکتی ہے۔ کسی دوسرے کے سفر کو اپنی زندگی کا پیمانہ بنا لینا اپنے وجود کے ساتھ ناانصافی ہے۔
اسی طرح تعلیم کے میدان میں بھی موجودہ دور نے ایک عجیب صورت اختیار کی ہے۔ معلومات کے ذرائع بے شمار ہیں، مگر علم کی گہرائی کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک کلک پر ہزاروں معلومات سامنے آ جاتی ہیں، لیکن معلومات کا جمع ہونا علم نہیں اور علم کا حصول شعور کی ضمانت بھی نہیں۔ حقیقی تعلیم انسان کو صرف یہ نہیں بتاتی کہ دنیا میں کیا ہے وہ اسے یہ بھی سکھاتی ہے کہ کیا درست ہے، کیا غلط ہے، کیا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری۔
آج کی نسل کو صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنا نہیں، ٹیکنالوجی کے استعمال کی حدود بھی سیکھنی ہوں گی۔ مصنوعی ذہانت ہماری مدد کر سکتی ہے، مگر ہماری جگہ سوچ نہیں سکتی ، سوشل میڈیا ہمیں دنیا سے جوڑ سکتا ہے، مگر ہمارے رشتوں کی جگہ نہیں لے سکتا، مشینیں ہمارا وقت بچا سکتی ہیں، مگر اس وقت کو بامعنی بنانا اب بھی انسان ہی کی ذمہ داری ہے۔
اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، انسان کا بے اعتدال استعمال ہے۔ اگر موبائل ہمارے ہاتھ میں ہے تو یہ سہولت ہے، اگر موبائل ہمارے ہاتھ کو چلا رہا ہے تو یہ غلامی ہے۔ اگر ٹیکنالوجی ہماری عقل کو وسعت دیتی ہے تو یہ ترقی ہے، اگر وہ ہماری توجہ، وقت اور ارادے کو نگل رہی ہے تو ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔
موجودہ دور کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم ترقی سے منہ موڑ لیں۔ زمانہ آگے بڑھ رہا ہے اور ہمیں بھی آگے بڑھنا ہے۔ ہمیں جدید علوم سیکھنے ہیں، ٹیکنالوجی سے واقف ہونا ہے، مصنوعی ذہانت کے امکانات کو سمجھنا ہے، نئی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ہے۔ مگر اس دوڑ میں ہمیں اپنی تہذیبی شناخت، اخلاقی اقدار، انسانی ہمدردی، خاندانی رشتے اور روحانی سکون کو قربان نہیں کرنا۔ کیونکہ ترقی وہ نہیں جو انسان کو مشین بنا دے۔ ترقی وہ ہے جو انسان کو انسان بنا دے۔
ہمیں اپنی زندگی میں کچھ وقفے پیدا کرنے ہوں گے۔ ایسے وقفے جن میں کوئی اسکرین نہ ہو، کوئی نوٹیفکیشن نہ ہو، کوئی مقابلہ نہ ہو، صرف انسان ہو اور اس کا اپنا وجود ہو۔ کبھی خاموشی میں بیٹھنا ہوگا، کبھی کتاب کھولنی ہوگی، کبھی والدین کے پاس چند لمحے بیٹھنا ہوگا، کبھی دوست کی بات پوری سننی ہوگی، کبھی کسی ضرورت مند کے کام آنا ہوگا اور کبھی اپنے آپ سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ ہم آخر کس طرف جا رہے ہیں؟
کیونکہ سب سے خطرناک گمشدگی راستہ بھول جانا نہیں، اپنے آپ کو بھول جانا ہے۔
ہم نے رفتار حاصل کر لی ہے، اب ہمیں سمت تلاش کرنی ہے۔ ہم نے دنیا سے رابطہ قائم کر لیا ہے، اب خود سے رابطہ بحال کرنا ہے۔ ہم نے زندگی کو آسان بنانے کے لیے بہت کچھ ایجاد کر لیا ہے، اب زندگی کو خوب صورت بنانے کا ہنر سیکھنا ہے۔
وقت کی اس تیز رفتار شاہراہ پر رکنا شاید ممکن نہ ہو، مگر اتنا ضرور ممکن ہے کہ ہم کبھی کبھی رفتار کم کریں، اپنے اردگرد دیکھیں، اپنے ساتھ چلنے والوں کو پہچانیں اور یہ اطمینان کر لیں کہ جس منزل کی طرف ہم دوڑ رہے ہیں، وہ واقعی ہماری منزل ہے بھی یا نہیں۔
آخرکار زندگی کا سوال یہ نہیں کہ ہم کتنی تیزی سے چلے؟
اصل سوال یہ ہے کہ ہم کہاں پہنچے، کس قیمت پر پہنچے، اور پہنچ کر کیا ہم خود بھی اپنے ساتھ تھے؟
کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا ہمیں کامیاب انسان کہہ رہی ہو اور ہمارا اپنا باطن ہمیں پکار رہا ہو ، تم بہت آگے نکل آئے ہو، مگر خود کو پیچھے چھوڑ آئے ہو۔

شادیاں اور اسکردو! . طہٰ علی تابش بلتستانی

وقت کرتا ہے پرورش برسوں. حادثے بے سبب نہیں ہوتے. نجف علی اسکردو

A Human Lost in the Rush

50% LikesVS
50% Dislikes

رفتار میں گم انسان. لیکچرار عزت علی پارا چنار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں