وقت کرتا ہے پرورش برسوں. حادثے بے سبب نہیں ہوتے. نجف علی اسکردو
آئیے ہم آپ کو بلتستان کا بدقسمت دوسو پچاس بیڈ ہسپتال کی کہانی سناتے ہے جو سابق وزیر صحت محترمہ ڈاکٹر یاسمین راشد کی بلتستان کے لئے تحفہ ہے اگر یہ ہسپتال بروقت مکمل ہوتا تو اب تک پانچ سو بیڈ اور میڈیکل کالج پر بھی کام شروع ہو چکا ہوتا
اس ہسپتال کا ٹینڈر 2021 میں ہوا اور 2023 میں مکمل ہونا تھا
ٹھیکدار کی درخواست پر تین سال مدت میں توسیع دی گئی اور اور جب ہم نے سردیوں میں دورہ کا تو سیکریٹری صحت آصف اللہ صاحب نے یقین دہانی کرائی تھی کہ 30 جون 2026 میں مکمل ہوکر او پی ڈی شروع کرائیں گے
آج ایک بار پھر اس قومی اہمیت کے حامل منصوبہ دیکھنے گیا تو مایوسی ہوئی کہ جس رفتار سے کام جاری ہے اس اہم منصوبے کو مکمل ہونے میں مذید کئی سال لگ سکتا ہے
سننے میں آ رہا ہے اس اہم منصوبے کا ریوائس پی سی ون ایک سال سے پلاننگ افس گلگت میں پڑا ہوا ہے جبکہ پلاننگ والوں کے کہنے پر ایک کمیٹی تشکیل دیا گیا تھا اور کمیٹی نے بھی ریوائس پی سی ون جلد از جلد اسلام اباد بیجھنے کی ہدایت کی گئی ورنہ بلتستان میں ایک مردہ سکیم میں اضافہ ہوگا
مگر پلاننگ کے متعصب اور تنگ نظر افیسروں نے چار بار اعتراضات لگائے اور سیکریٹری صحت گلگت بلتستان نے چار بار تمام اعتراضات دور کرکے پلاننگ افس گلگت میں جمع کیا ہوا ہے افسوس پلانگ افس گلگت کے بلتستان دشمن لابی اس پی سی ون کو اسلام اباد بیجھنے کے لئے تیار نہیں ہے اور اب یہ اہم منصوبہ بھی مردہ سکیم کی طرف گامزن ہے
گلگت سیکریٹریٹ میں بیٹھے تمام فرعون افیسروں کو بلتستان ریجن سے اتنی محبت ہے کہ وہ کسی ایک بھی پی سی ون کو اے سی ایس فورم یا اسلام اباد بیجھنے پر موت آتی ہے بلتستان یونیورسٹی روڈ کا دو کلومیٹر کا پی سی ون اے سی ایس فورم سے منظور کرانے کے لئے گورنر گلگت بلتستان کے بار بار مداخلت کے باوجود دو سال لگائے اور آج بھی بلتستان یونیورسٹی کے طلبا و طالبات دھول مٹی کھاتے ہوئے یونیورسٹی جا رہے ہے
آپ کا کینسر ہسپتال . کارڈیک ہسپتال . شہید سیف الرحمان ہسپتال . انجنیرنک کالج . پی ایچ کیو سات منزلہ کرنے سمیت تمام اہم پی سی ون راتوں رات منظور ہوتا ہے ٹینڈر ہوتا ہے اور مکمل بھی ہوتا ہے
دو سو پچاس بیڈ کا ریوائس پی سی ون جمع کرنے کے بعد گلگت کے چار اہم پی سی ون فورم سے مکمل کرکے اسلام اباد سے بھی منظور کیا گیا ہے دو سو پچاس بیڈ کو چار سالوں سے فٹ بال بناکر رکھا ہوا ہے جبکہ اس ہسپتال کا پیسہ اسلام اباد نے دینا ہے
بلتستان کا اکلوتا ہسپتال آر ایچ کیو سکردو کے ایک بیڈ پر چار چار مریض ہے اور بلتستان میں کینسر بھی بری طرح پھیل چکا ہے مگر بلتستان میں صحت کی سہولیات دینے کے لئے کوئی تیار نہیں
پھر ریاستی ادارے کہتےہے کہ بلتستان والے احتجاج کیوں کرتاہے
بلتستان میں قوم پرستی کو فروغ کیوں ملتا ہے
دو سو پچاس بیڈ کے لئے ہم نے ہر فورم اور ہر دروازہ کھٹکھٹایا ہے مگر کوئی سننے والا نہیں ہے
ہم حقیقت بیان کریں تو ہمیں تعصبی اور علاقائیت کا لیبل لگاکر منہ بند کرنے کی کوشش کرتا ہے
بلتستان کے سابق منتخب اور موجودہ منتخب نمائندے گاڑی اور گن مین کے لئےسرگرداں ہے
ہم وزیر اعلی گلگت بلتستان امجدحسین ایڈوکیٹ اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان سے گزارش کرتے ہے کہ بلتستان ریجن کو تمام معاملات میں دیوار سے لگانے کا سلسلہ بند کیا جائے ورنہ بلتستان کے یوتھ اور عوام کے غم و غصہ میں اضافہ ہوگا اور کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو ہو سکتا ہے
شادیاں اور اسکردو! . طہٰ علی تابش بلتستانی
جب عقل ہجوم میں گم ہو جائے. لیکچرار عزت علی پارا چنار
عنوان: کنفیوژن کا معمہ اور ‘مرضی ہے’ کی بے نیازی. سیدہ فضہ بتول
Gilgit baltistan news 25 bed hospital




