گلگت بلتستان اسمبلی کا اجلاس کے دوران وزیر اعلی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی میںزبردست تکرار، وزیر اعلی کو کرارا جواب
رپورٹ، 5 سی این نیوز
گلگت بلتستان اسمبلی کا اجلاس اس وقت غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا جب ایوان میں اصول پسندی، خودداری اور بے باکی کا کھل کر اظہار دیکھنے میں آیا۔ اجلاس کے دوران ا سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے دیے گئے طعنے کا دوٹوک جواب دیتے ہوئے ایوان کے وقار اور پارلیمانی طریقہ کار کے دفاع پر واضح مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ آپ مجھے پروسیجر نہ سکھائیں۔ سپیکر کے اس دوٹوک جواب کے ساتھ ساتھ عمران ندیم کی جانب سے اپنے ہی وزیر اعلیٰ کے مؤقف کے سامنے کھڑے ہو کر اختلاف اور عوامی جذبات کی ترجمانی کرنے کے انداز نے بھی سیاسی حلقوں اور عوام کی توجہ حاصل کی۔ عمران ندیم نے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر جس انداز میں ایوان کے اندر اپنا مؤقف پیش کیا، اسے بلتستان کی سیاست میں ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں رہتے ہوئے اپنی جماعت یا قیادت کے سامنے بھی حق بات کہنا آسان نہیں ہوتا، تاہم عمران ندیم نے اپنے مؤقف کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ عوامی نمائندے کا اصل فرض اپنے حلقے اور عوام کے مفادات کی ترجمانی کرنا ہے۔ گلگت بلتستان کی سیاست میں اس سے قبل کاظم میثم کو بھی اپنے دوٹوک اور بے باک سیاسی مؤقف کے باعث نمایاں سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم اب عمران ندیم کے حالیہ پارلیمانی کردار کے بعد یہ تاثر سامنے آ رہا ہے کہ بلتستان سے ایوان میں بے باک آوازیں مزید مضبوط ہو رہی ہیں۔ سیاسی و عوامی حلقوں میں اس امر پر بھی بحث جاری ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں اختلاف رائے کو کس حد تک جگہ دی جاتی ہے اور منتخب نمائندے کس طرح حکومتی پالیسیوں پر تنقید یا سوال اٹھا سکتے ہیں۔ حالیہ اجلاس میں سپیکر اسمبلی اور عمران ندیم کے مؤقف نے ایک بار پھر یہ بحث زندہ کر دی ہے کہ جمہوری ایوانوں کی اصل طاقت اختلاف رائے، اصولی مؤقف اور عوامی مسائل کی ترجمانی میں ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلتستان کو ایسے نمائندوں کی ضرورت ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں موجود رہتے ہوئے بھی اپنے ضمیر، اصول اور عوامی مفاد کو مقدم رکھیں۔
خودکشی یا قتل ؟ ایک سنجیدہ سوال ۔ طہٰ علی تابش بلتستانی
جو ہمارے اختیار میں نہیں، اسے رب کے سپرد کر دیں. تحریر محمد عابد رشید
GB Assembly




