جو ہمارے اختیار میں نہیں، اسے رب کے سپرد کر دیں. تحریر محمد عابد رشید
زندگی ایک مسلسل سفر کا نام ہے۔ اس سفر میں کبھی خوشیوں کے پھول کھلتے ہیں اور کبھی پریشانیوں کے کانٹے قدم روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسان اپنی استطاعت کے مطابق محنت کرتا ہے، فیصلے کرتا ہے، رشتے نبھاتا ہے، مستقبل کے خواب دیکھتا ہے اور اپنے معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن زندگی کے ہر معاملے پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنے رب پر بھروسہ کرنا سیکھنا چاہیے۔
ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم ان معاملات کو بھی اپنے ذہن پر سوار کر لیتے ہیں جنہیں ہم تبدیل نہیں کر سکتے۔ کسی کے رویے کو بدلنا ہمارے اختیار میں نہیں، گزرے ہوئے وقت کو واپس لانا ہمارے اختیار میں نہیں، دوسروں کے فیصلوں کو اپنی مرضی کے مطابق کرنا ہمارے اختیار میں نہیں اور آنے والے کل کے تمام حالات جاننا بھی ہمارے بس میں نہیں۔
پھر کیوں نہ ہم ان معاملات کو اس ذات کے سپرد کر دیں جو ہر چیز پر قادر ہے؟
قرآن و سنت کی تعلیمات ہمیں توکل، صبر اور یقین کا راستہ دکھاتی ہیں۔ جب انسان اپنی پوری کوشش کرنے کے بعد نتیجہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیتا ہے تو دل میں ایک عجیب سا سکون پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس میں انسان بے بسی کے بجائے یقین محسوس کرتا ہے۔
“حسبنا اللہ و نعم الوکیل”
یعنی اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔
یہ الفاظ محض زبان سے ادا کرنے کے لیے نہیں بلکہ دل میں یقین پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ جب انسان سچے دل سے یہ مان لیتا ہے کہ میرا رب میرے حالات سے باخبر ہے، میری پریشانی کو جانتا ہے، میرے آنسوؤں کو دیکھتا ہے اور میری دعاؤں کو سنتا ہے تو پھر مشکلات کے باوجود امید زندہ رہتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اللہ پر توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں۔ اسلام ہمیں کوشش، محنت اور تدبیر کا درس دیتا ہے۔ انسان کو اپنا فرض ادا کرنا چاہیے، اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے اور جائز راستے اختیار کرنے چاہئیں، لیکن اس کے بعد نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینا چاہیے۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ایک دروازہ کھلنے کے لیے برسوں دعا کرتا ہے، مگر وہ دروازہ نہیں کھلتا۔ انسان سمجھتا ہے کہ شاید اس کی دعا قبول نہیں ہوئی۔ حالانکہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اسی بند دروازے کے پیچھے کسی نقصان کو روک رکھا ہو اور کسی دوسرے دروازے سے اس کے لیے بہتر راستہ تیار کر رہا ہو۔
ہم محدود علم رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا علم کامل ہے۔
ہم صرف آج دیکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ ماضی، حال اور مستقبل سب جانتا ہے۔
اسی لیے ہر وہ چیز جو ہماری خواہش کے مطابق نہ ہو، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے حق میں بری ہو، اور ہر وہ چیز جو ہمیں اچھی دکھائی دے، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے لیے بہتر ہو۔
زندگی میں بعض اوقات جدائی بھی رحمت بن جاتی ہے، تاخیر بھی حکمت بن جاتی ہے، ناکامی بھی سبق بن جاتی ہے اور بند راستہ کسی نئے سفر کا آغاز بن جاتا ہے۔
اس لیے جب دل پریشان ہو، جب حالات سمجھ سے باہر ہو جائیں، جب کوئی اپنا ساتھ چھوڑ دے یا جب ہماری کوئی دعا ہماری مرضی کے مطابق پوری نہ ہو تو مایوسی کو دل میں جگہ دینے کے بجائے آسمان کی طرف دیکھیں۔
اس وسیع و خوبصورت آسمان کا خالق وہی رب ہے جو ہمارے دل کے چھوٹے سے چھوٹے درد سے بھی واقف ہے۔
پھر دل سے کہیں:
حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔
اپنی پریشانی اللہ کے حوالے کریں، اپنی کوشش جاری رکھیں، دعا کا دامن نہ چھوڑیں اور یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہماری خواہش سے مختلف ہو سکتا ہے، مگر اس کی حکمت کبھی بے مقصد نہیں ہوتی۔
زندگی میں سکون شاید اس دن شروع ہوتا ہے جب ہم ہر چیز کو اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش چھوڑ دیتے ہیں اور یہ یقین پیدا کر لیتے ہیں کہ میرا رب میرے لیے کافی ہے۔
لہٰذا جو چیزیں آپ کے اختیار میں ہیں، ان کے لیے محنت کریں۔
جو چیزیں آپ کے اختیار میں نہیں، انہیں اللہ کے سپرد کر دیں۔
اور جو کچھ اللہ کے سپرد کر دیا جائے، اس کے بارے میں بار بار فکر کرنے کے بجائے اللہ پر یقین رکھیں۔
کیونکہ انسان کا کام کوشش کرنا ہے، اور بہترین فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کے دلوں کو سکون، پریشانیوں کو آسانی، دعاؤں کو قبولیت اور زندگی کے ہر فیصلے میں خیر عطا فرمائے۔ آمین۔




