خودکشی یا قتل ؟ ایک سنجیدہ سوال ۔ طہٰ علی تابش بلتستانی
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 1500 سے 2000 طلبہ خودکشی کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہم پہلے بھی متعدد بار قلم اٹھا چکے ہیں، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہماری تحریریں محض سوشل میڈیا کی حد تک ہی محدود رہیں۔
سچ کہوں تو طلبہ و طالبات کو صرف نمبروں کی دوڑ میں لگانے کے پیچھے ان پرائیویٹ اداروں کا ہاتھ ہے جنہیں بچوں سے زیادہ اپنے اداروں کی فکر زیادہ ہے۔
آپ خود دیکھیں کہ ان کے اسکولز ، کالجز اور اکیڈمیز ان بچوں کی تصویروں سے بھری پڑی ہیں جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت محنت کر کے اچھے نمبر حاصل کیے ہوتے ہیں۔
آپ یقین نہیں کریں گے کہ ہم شاید وہ واحد قوم ہیں جو اپنے اداروں اور اکیڈمیز کی شہرت اور اشتہار بازی کے لیے انسانوں کا استعمال کرتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان کی اکیڈمیز اور ادارے اس قدر بہترین ہیں تو محض چند ہی بچوں نے اچھے نمبر کیوں حاصل کیے؟ باقی جو کم نمبرز حاصل کیں ہیں ان کے نام کدھر ہیں ؟؟؟ اسی طرح باقی جو ڈرائیور بنے، جو سڑکوں پر بیلچے لیے مزدوری کر رہے ہیں، جو ریڑھی لگا رہے ہیں یا جو ٹیکسی چلا رہے ہیں، ان کی تصاویر ان کے بینرز اور اسکولوں کی دیواروں پر کیوں نہیں ہیں؟ اداروں نے خود ہی یہ طے کر لیا ہے کہ صرف اچھے نمبر حاصل کرنے والے بچے ہی کامیاب ترین ہیں۔ باقی تو ان کے نزدیک نالائق بچے ہیں ۔
اب یہ ریس صرف اسکولوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سوشل میڈیا پر بھی گردش کرنے لگی ہے، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک ٹرینڈ بن چکی ہے۔ اب تو ہر اسکول اور اکیڈمی بچوں کی تصاویر کے ذریعے اشتہار بازی کی اس دوڑ میں شامل ہو چکی ہے۔
کیا بات یہاں رکی؟ نہیں، اب یہ گند ہمارے گھروں تک پہنچ چکا ہے۔ والدین کو بچوں کے پاس ہونے سے زیادہ اچھے مارکس کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ محلے کے بچوں کے ساتھ موازنہ کیا جانے لگا ہے۔ نمبر کم آنے پر ڈانٹ ڈپٹ اور بچوں پر اس قدر دباؤ ڈالا جانے لگا کہ بچوں نے جینے پر مرنے کو ترجیح دی۔
کیا بات یہاں ختم ہوتی ہے؟ نہیں، اب تو پورا سسٹم ہی اس دوڑ میں شامل ہو چکا ہے۔
اسکول، کالجز اور دیگر ادارے اب صرف انہی اساتذہ کو ترجیح اور تعریفی اسناد دیتے ہیں جن کے مضامین کا نتیجہ 100 فیصد آتا ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ جن اساتذہ کا رزلٹ سو فیصد کے لحاظ سے کم ہے، وہ نالائق ہیں، انہوں نے بچوں پر محنت نہیں کی اور وہ تعریفی سند کے حقدار نہیں ہیں۔
بعض جگہوں پر بچوں کے رزلٹ خراب آنے پر اساتذہ سے باقاعدہ وضاحتی خط (Explanation Letter) لکھوائے جاتے ہیں کہ آپ کے مضمون کا نتیجہ خراب کیوں آیا؟ کچھ اداروں میں اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جاتی ہے، ان کی سیلری روک دی جاتی ہے اور بعض اوقات تو اساتذہ کو ملازمت سے ٹرمنیٹ بھی کر دیا جاتا ہے۔
چنانچہ اب اساتذہ بھی اس ریس میں شامل ہو چکے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی نوکری بچانی ہوتی ہے۔ اب اس سارے نظام کا بوجھ کون برداشت کرتا ہے؟ بیچارہ طالب علم !! ایک ننھی سی جان، جو ابھی ابھی بالغ ہوا ہو، اس بیچارے کو کیا معلوم کہ زندگی نمبروں کے بغیر بھی خوبصورت ہے۔ اچھے مارکس کے علاوہ بھی دنیا بہت وسیع ہے۔ اچھے نمبروں کے بغیر بھی آپ کامیاب ہو سکتے ہیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔
انہیں یہ کون سمجھائے کہ اچھے مارکس کے بغیر بھی آپ بہترین کمپنیوں میں نوکریاں کر سکتے ہیں؟ اور انہیں کون بتائے کہ دنیا کے کامیاب ترین لوگ یا تو اسکول ڈراپ آؤٹ تھے یا کالج ڈراپ آؤٹ، یا پھر دنیا نے انہیں نالائق طالب علم کہہ کر اپنے اسکولوں اور کالجوں سے نکال دیا تھا! آج ان کی کتابیں اور نظریات پڑھے بغیر اچھے نمبر لانے والوں کی ڈگری بھی مکمل نہیں ہوتی۔
خدارا!!
بچوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنا بند کریں۔ انہیں جینے دیں۔ ان کی معصومیت کا فائدہ نہ اٹھائیں اور اس بے مقصد دوڑ سے باہر نکلیں، ورنہ اگلی خودکشی کی خبر آپ کے اپنے گھر سے بھی آ سکتی ہے۔ میری تمام پڑھنے والوں سے التماس ہے کہ فیس بک اور واٹس ایپ پر اشتہارات اور نمبروں کی نمائش سے گریز کریں۔ خوشیاں گھر میں بانٹیں، ہر چیز کو سوشل میڈیا پر نہ ڈالیں۔ آپ کو اندازہ بھی نہیں کہ آپ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر کسی بچے پر کتنا دباؤ ڈال رہے ہوتے ہیں۔
اگر ہم اس گند دوڑ سے باہر نہ نکلے تو یہ نظام روز ہمارے گھروں سے معصوم پھولوں کو چھینتا رہے گا۔ اس لیے آج ہی سے سنبھل جائیں، کیونکہ زندگی بار بار نہیں ملتی۔
۔۔
تحریر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور ہر والدین اور ذمہ دار افراد تک پہنچائیں۔
Suicide or Murder




