Freedom 0

آزادی صرف حکمرانوں کی نہیں، عوام کی بھی ہے. شبیر حسین کمال
14 اگست آتے ہی ہم پاکستان کی آزادی کا جشن مناتے ہیں۔گلیاں سجتی ہیں، سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں، ملی نغمے گونجتے ہیں اور ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں۔
لیکن ایک سوال آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے کیا آزادی صرف حکمرانوں کے لیے ہے یا ہم عوام بھی واقعی آزاد ہیں؟
پاکستان ہمیں بے شمار قربانیوں کے بعد ملا۔ ہمارے بزرگوں نے اپنے گھر، زمینیں، مال و دولت حتیٰ کہ اپنی جانیں قربان کیں تاکہ آنے والی نسلیں ایک آزاد ملک میں عزت اور سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا جہاں قانون کی بالادستی ہو، انصاف ہو، ہر شہری کو برابر حقوق حاصل ہوں اور ریاست عوام کی خدمت کرے۔
مگر آج ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا ہم نے اس آزادی کی حقیقی قدر کی ہے؟
آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہمارے پاس اپنا سبز ہلالی پرچم ہے یا ہم اپنی مرضی سے نعرے لگا سکتے ہیں۔آزادی کا اصل مطلب یہ ہے کہ ایک عام شہری کو انصاف کے لیے دروازے دروازے نہ بھٹکنا پڑے، نوجوان روزگار کے لیے اپنے ملک سے باہر جانے پر مجبور نہ ہو، غریب اپنے بچوں کی تعلیم اور علاج کے لیے پریشان نہ ہو، کسان اپنی فصل کی مناسب قیمت کے لیے ترستا نہ رہے اور مزدور اپنی محنت کے باوجود بنیادی ضروریات سے محروم نہ ہو۔
پاکستان کے حکمرانوں کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے، کیونکہ اقتدار دراصل ایک امانت ہے۔حکمران اگر عوام کے ووٹ سے اقتدار میں آتے ہیں تو انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ عوام کے مالک نہیں بلکہ خادم ہیں۔انہیں اپنی مراعات، پروٹوکول اور ذاتی مفادات سے زیادہ ملک کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔تعلیم، صحت، روزگار، انصاف، بجلی، پانی، سڑکیں اور امن عامہ کسی بھی ریاست کے بنیادی فرائض ہیں۔
لیکن صرف حکمرانوں کو موردِ الزام ٹھہرا کر ہم اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتے۔
ہم عوام بھی ذمہ دار ہیں۔
ہم میں سے کتنے لوگ اپنے ووٹ کو امانت سمجھ کر استعمال کرتے ہیں؟ کتنے لوگ امیدوار کی قابلیت، کردار اور کارکردگی دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں؟ کتنے لوگ برادری، ذاتی تعلق، وقتی فائدے یا چند وعدوں کی بنیاد پر ووٹ نہیں دیتے؟ جب ہم خود اپنے ووٹ کو معمولی سمجھیں گے تو پھر ناقص قیادت کے نتائج بھی ہمیں ہی بھگتنا ہوں گے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم آزادی کا مطالبہ تو کرتے ہیں لیکن کیا ہم دوسروں کی آزادی اور حقوق کا احترام کرتے ہیں؟ ہم قانون کی پاسداری چاہتے ہیں لیکن کیا خود قانون کی پابندی کرتے ہیں؟ ہم کرپشن کے خلاف بات کرتے ہیں لیکن کیا اپنے معمولی کام کے لیے رشوت دینے یا سفارش کروانے سے انکار کرتے ہیں؟ ہم حکمرانوں سے ایمانداری چاہتے ہیں لیکن کیا اپنی زندگی میں ایمانداری کو ترجیح دیتے ہیں؟
قومیں صرف حکمرانوں سے نہیں بنتیں، عوام کے کردار سے بھی بنتی ہیں۔
اگر حکمران کرپشن کریں تو وہ ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں،لیکن اگر عوام بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائیں تو نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ایک مضبوط پاکستان کے لیے ہمیں ایسے حکمران بھی چاہییں جو دیانت دار اور جواب دہ ہوں اور ایسے عوام بھی جو باشعور،متحد،قانون پسند اور ذمہ دار ہوں۔
آج پاکستان کو صرف آزادی کے نعرے کی نہیں بلکہ آزادی کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی آزادی چاہیے جس میں کوئی طاقتور قانون سے بالاتر نہ ہو، کوئی غریب انصاف سے محروم نہ ہو، کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے اور کوئی نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس نہ ہو۔
ہمیں حکمرانوں سے سوال بھی کرنا ہوگا اور خود سے بھی۔
حکمرانوں سے سوال ہونا چاہیے آپ نے پاکستان اور عوام کے لیے کیا کیا؟
اور عوام سے سوال ہونا چاہیے آپ نے پاکستان کے لیے کیا کیا؟
پاکستان صرف حکمرانوں کا ملک نہیں، یہ ہم سب کا وطن ہے۔اس کی ترقی میں حکمرانوں کا کردار بھی ہے اور عوام کا بھی۔ اگر حکمران اپنی ذمہ داری پوری کریں اور عوام اپنی ذمہ داری سمجھیں تو پاکستان کو مضبوط، خوشحال اور باوقار ملک بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔اس 14 اگست ہمیں صرف پرچم لہرانے اور نعرے لگانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے وطن کے لیے ایمانداری، محنت، اتحاد، قانون کی پاسداری اور حق و انصاف کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔
آزادی صرف یہ نہیں کہ ہم ایک آزاد ملک میں پیدا ہوئے؛ آزادی یہ بھی ہے کہ ہم اپنے ملک کو ایسا بنائیں جہاں ہر شہری عزت، انصاف اور بنیادی حقوق کے ساتھ آزاد زندگی گزار سکے۔
پاکستان زندہ باد۔
پاکستان پائندہ باد۔

رحلتِ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ. شبیر حسین کمال

اصل بہادری . بتول فاطمہ

ایک درخت، ہزار نعمتیں. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

50% LikesVS
50% Dislikes

آزادی صرف حکمرانوں کی نہیں، عوام کی بھی ہے. شبیر حسین کمال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں