Digital Idolatry 0

ڈیجیٹل بت پرستی .ہم نے بت توڑ دیے ہیں. بتول فاطمہ
مگر کیا اُن کی جگہ سکرینیں تو نہیں رکھ لیں؟
صبح کی پہلی نظر موبائل پر، رات کی آخری نظر موبائل پر؛ دل بے چین ہو تو موبائل، تنہائی ہو تو موبائل، خوشی ہو تو موبائل، حتیٰ کہ کبھی کبھی نماز کے بعد بھی ہاتھ بے اختیار اُسی سکرین کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ ہم کہتے ہیں، ’’وقت نہیں ملتا!‘‘ مگر سکرول کرتے ہوئے گھنٹوں گزر جاتے ہیں اور خبر تک نہیں ہوتی۔
یہ کیسی مصروفیت ہے کہ قرآن کے لیے چند لمحے بھاری، مگر بے مقصد ویڈیوز کے لیے گھنٹے ہلکے لگتے ہیں؟ اذان کی آواز آتی ہے تو ہم کہتے ہیں، ’’بس یہ آخری ویڈیو‘‘ اور پھر وہ آخری ویڈیو کبھی آخری نہیں ہوتی۔ نماز مختصر ہو جاتی ہے، مگر سکرین پر وقت ختم نہیں ہوتا۔
کبھی غور کیجیے، ہمارا ہاتھ موبائل کو بار بار کیوں ڈھونڈتا ہے؟ شاید اس لیے کہ ہم نے اپنی خاموشی سے دوستی ختم کر دی ہے۔ اب تنہائی میں اپنے رب سے بات کرنے کے بجائے ہم سکرین سے باتیں کرتے ہیں۔ دل کے خلا کو ذکرِ الٰہی سے بھرنے کے بجائے تصویروں، ویڈیوز اور نوٹیفکیشنز سے بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔‘‘ (الرعد: 28)
ہمیں سکرین چھوڑنے کی نہیں، سکرین کو اس کی حد میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک ذریعہ ہے، منزل نہیں۔ اس سے علم بھی حاصل ہو سکتا ہے، قرآن بھی پڑھا جا سکتا ہے، کسی کی مدد بھی کی جا سکتی ہے، اچھی بات بھی پھیلائی جا سکتی ہے؛ مگر جب یہی سکرین ہماری نماز، ہماری نیند، ہماری گفتگو اور ہمارے سکون پر قابض ہو جائے تو پھر ہمیں رک کر اپنے دل سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے: میں سکرین استعمال کر رہا ہوں، یا سکرین مجھے استعمال کر رہی ہے؟
آج ایک چھوٹا سا فیصلہ کیجیے۔ اذان ہو تو موبائل خاموش کر دیجیے، مگر اپنے دل کو خاموش نہ ہونے دیجیے۔ چند لمحے سکرین سے نظریں ہٹا کر جائےِ نماز پر بیٹھ جائیے۔ شاید وہاں آپ کو وہ سکون مل جائے جسے آپ مہینوں سے ہزاروں سکرینوں میں تلاش کر رہے ہیں۔
یاد رکھیے! سکرین کی روشنی آنکھوں کو روشن کر سکتی ہے، مگر دل کو روشنی صرف اُس رب کے ذکر سے ملتی ہے، جس کے سامنے جھکنے کے لیے ہمیں کسی نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں۔

Digital Idolatry

آزادی صرف حکمرانوں کی نہیں، عوام کی بھی ہے. شبیر حسین کمال

عنوان . آخر کب تک . آمینہ یونس ،بلتستانی

رحلتِ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ. شبیر حسین کمال

50% LikesVS
50% Dislikes

ڈیجیٹل بت پرستی .ہم نے بت توڑ دیے ہیں. بتول فاطمہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں