عنوان . آخر کب تک . آمینہ یونس ،بلتستانی
روح اللہ سے فریاد کر رہی تھی: ’’دنیا بہت خوبصورت ہے۔ ٹھنڈا پانی ہے، بلند و بالا پہاڑ ہیں، سرسبز و شاداب زمینیں ہیں، پھلوں اور پھولوں سے لدے باغات ہیں۔ ہر طرف گلاب، چنبیلی اور صندل کی خوشبو بکھری ہوئی ہے۔ یہاں رنگ و بو ہے، کھانے کو قسم قسم کی لذتیں ہیں، پہننے کو ریشم و مخمل کے نرم، رنگ دار کپڑے ہیں۔ مگر ان سب کے باوجود یہ لوگ ناشکرے ہیں۔ مجھے ان چیزوں سے کوئی غرض نہیں، نہ ان میں مجھے سکون ملتا ہے۔ میرا سکون، میری خوراک تو تیرے ذکر میں ہے، تیرے شکر میں ہے، تجھے یاد کرنے میں ہے۔ مگر انسان روز بروز مجھ سے غافل ہوتا جا رہا ہے۔ جتنا وہ ذکر سے دور ہوتا جا رہا ہے، اتنا ہی میری بے قراری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔‘‘ روح کچھ دیر خاموش رہی، پھر بولی: ’’یہ لوگ جب مہنگائی بڑھتی ہے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے یا رزق میں کمی ہونے لگتی ہے تو رونا شروع کر دیتے ہیں۔ احتجاج کرتے ہیں، دھرنے دیتے ہیں، اپنی آواز بلند کرتے ہیں کہ کوئی ان کی فریاد سنے، مہنگائی کا بوجھ کم کرے، بجلی کے بلوں میں کمی کرے اور غریبوں کا خیال رکھے۔ مگر جب میں فریاد کرتی ہوں تو کوئی میری طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ نماز کا وقت ہوتا ہے تو نماز چھوڑ دیتے ہیں اور سارا بوجھ شیطان پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ کہیں ذکر ہو رہا ہو تو سر جھکا کر گزر جاتے ہیں۔ کہیں نیکی کی بات ہو رہی ہو تو اسے دکھاوا کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوتی ہے تو کہتے ہیں، میرے کام کا حرج ہو رہا ہے۔ مگر کہیں ناچ گانا ہو تو ہزاروں کا فائدہ چھوڑ کر بھی دیکھنے چلے جاتے ہیں۔ کہیں کوئی شیطانی کام ہو رہا ہو تو نماز کا وقت گزر جانے کی پروا نہیں کرتے، بس لطف لیتے ہیں۔‘‘ روح کی آواز میں اب درد اتر آیا تھا۔ ’’میرا احتجاج، میری خواہش اور میری ضرورت کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ میں کیا چاہتی ہوں۔ آخر کب تک مجھے یوں نظر انداز کیا جاتا رہے گا؟ صرف دنیا کے پیچھے بھاگتے ہوئے مجھے یوں بھلا دیا گیا ہے جیسے میں ان کا حصہ ہی نہیں ہوں۔ یا رب! میری فریاد سن لے۔ انہیں عقل دے، شعور دے کہ صرف جسم کی ضروریات ہی زندگی نہیں ہوتیں۔ جسم کے ساتھ روح بھی بھوکی ہوتی ہے، اسے بھی غذا چاہیے، اسے بھی سکون چاہیے۔ اس کی غذا تیرا ذکر ہے، تیرا شکر ہے، تیری یاد ہے۔ جب انسان دنیا کی آسائشوں میں کھو جاتا ہے تو جسم تو آسودہ ہو جاتا ہے، مگر روح اندر ہی اندر تڑپتی رہتی ہے۔ آخر کب تک میں یہ تڑپ سہتی رہوں؟ کبھی میری طرف بھی توجہ دیں، کبھی میرے لیے بھی وقت نکالیں، کبھی مجھے بھی اپنے رب کے قریب لے جائیں۔ جسم ایک دن مٹی میں مل جائے گا، مگر روح کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ وہاں نہ دولت کام آئے گی، نہ آسائش، نہ دنیا کی رنگینیاں؛ وہاں صرف اعمال، ذکر، شکر اور نیکیاں ساتھ ہوں گی۔ یا رب! انہیں یہ حقیقت سمجھا دے، اس سے پہلے کہ وقت ان کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل جائے۔‘‘ روح کی فریاد فضا میں تحلیل ہو گئی، مگر سوال وہیں رہ گیا: آخر کب تک؟
رحلتِ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ. شبیر حسین کمال
14 آگست 1948 یوم آزادی بلتستان ۔ طہٰ علی تابشٓ بلتستانی ۔
Aakhir Kab Tak?




