Cut the Feet, Break the Chains 0

پاؤں مت کاٹو، زنجیر توڑو. بتول فاطمہ
آج کل ایک جملہ بہت پڑھنے کو مل رہا ہے: “اگر زنجیر نہیں کٹتی تو پاؤں کاٹ لو، مگر آزاد ہو جاؤ۔” یہ جملہ بظاہر آزادی کا درس دیتا ہے، مگر ذرا ٹھہر کر سوچیے، یہ کیسی آزادی ہے جس کے لیے انسان کو اپنے ہی پاؤں سے محروم ہونا پڑے؟ زنجیر وہیں رہے، قید وہیں رہے، راستے وہی رہیں، صرف قیدی کے پاؤں نہ رہیں! میں ایسی آزادی کو آزادی نہیں سمجھتی۔ اگر میرے پاؤں ہی نہیں ہوں گے تو میں اس آزادی کے راستے پر چلوں گی کیسے؟ منزل تک پہنچوں گی کیسے؟ اور آنے والی نسلوں کو کیا دوں گی؟ ایک ایسی روایت جس میں ہر شخص زنجیر توڑنے کے بجائے اپنا پاؤں کاٹ کر سمجھتا رہے کہ وہ آزاد ہو گیا ہے؟ نہیں، پاؤں مت کاٹو، زنجیر توڑو۔ دن رات لگا دو، مگر زنجیر توڑو۔ اسے کمزور کرنے کے لیے علم حاصل کرو، شعور پیدا کرو، سوال کرو، اپنی سوچ کو وسیع کرو اور اپنے اندر حوصلہ پیدا کرو۔ اگر زنجیر رسم و رواج کی ہے تو شعور سے مقابلہ کرو، اگر خوف کی ہے تو جرأت پیدا کرو، اگر معاشرتی دباؤ کی ہے تو اپنی آواز بلند کرو، اور اگر کوئی غلط تصور دین کے نام پر تمہارے قدم باندھ رہا ہے تو دین کو رسموں سے نہیں، اس کی اصل روح سے سمجھو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف جسم نہیں دیا، عقل بھی دی ہے۔ اسے سوچنے، سیکھنے، سمجھنے اور حالات بدلنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ انسان لوہے کو کاٹنا جانتا ہے، سونے کو زمین سے نکالنا جانتا ہے، پہاڑوں کے سینے چیرنا اور سمندروں کی گہرائیوں تک پہنچنا جانتا ہے، تو پھر اپنی زندگی کی زنجیر کے سامنے آ کر اپنے ہی پاؤں کیوں کاٹنے لگے؟ شارٹ کٹ ہمیشہ حل نہیں ہوتا۔ بعض اوقات آزادی کے لیے برسوں محنت کرنا پڑتی ہے، ایک سوچ بدلنے میں وقت لگتا ہے، ایک غلط روایت ختم کرنے کے لیے نسل بھر جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ مگر یہی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے راستہ بناتی ہے۔ اپنی زنجیریں توڑو، اپنے پاؤں نہیں۔ جب یہ زنجیر ٹوٹ جائے تو اسے دوبارہ سنبھال کر رکھنے کے بجائے آگ میں پھینک دو، دفن کر دو یا کسی دریا کے حوالے کر دو، تاکہ ہماری نسلوں میں سے کوئی دوبارہ اسے نئی نسل کے پاؤں میں نہ باندھ سکے۔ کیونکہ بعض زنجیریں صرف ایک انسان کو نہیں، پوری نسلوں کو قید کرتی ہیں۔ کبھی یہ فرسودہ رسم و رواج کے نام پر آتی ہیں، کبھی خاندان کی نام نہاد عزت بن کر، کبھی خوف کی صورت میں اور کبھی مادیت پرستی کے ایسے معیار بن کر جو انسان کو اپنی مرضی سے جینے نہیں دیتے۔ ہمیں اپنے پاؤں کاٹنے کی نہیں، اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ راستہ بند ہو تو راستہ تلاش کرو، دروازہ بند ہو تو دستک دو، دیوار ہو تو اسے گرانے کا طریقہ سوچو اور زنجیر ہو تو اس کی کڑیوں کو سمجھ کر اسے توڑنے کی کوشش کرو۔ شاید وقت لگے، شاید تھک جاؤ، شاید کئی بار ناکامی ہو، مگر اپنے پاؤں سلامت رکھو۔ کیونکہ آزادی صرف قید سے نکلنے کا نام نہیں؛ آزادی اس قابل رہنے کا نام بھی ہے کہ قید سے نکلنے کے بعد اپنے راستے پر چل سکو۔
جی، اب مفہوم واضح ہے۔ یہاں پاؤں اپنی ذات، اپنی جڑوں اور اپنے وجود سے جڑے رہنے کی علامت ہیں، جبکہ پاؤں کاٹنا اپنی ذات اور اپنوں سے کٹ جانے کا استعارہ ہے۔ اسی مفہوم کے مطابق عبارت یوں بہتر رہے گی:
پاؤں کاٹنے کا مطلب صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جانا نہیں، بلکہ اپنی ذات، اپنی جڑوں، اپنے تعلقات اور اپنے اپنوں سے کٹ جانا ہے۔ پاؤں ہمیں اپنی زمین سے جوڑے رکھتے ہیں، اور یہی تعلق ہمیں اپنی شناخت اور اپنے وجود سے وابستہ رکھتا ہے۔
جبکہ زنجیریں وہ رسمی رواج، فرسودہ سوچ اور مادیت پرستانہ رویے ہیں جو اکثر ہمارے اپنے ہی لوگ ہمارے پاؤں میں باندھ دیتے ہیں۔ اس لیے اپنی ذات اور اپنے اپنوں سے کٹنے کے بجائے، انہی کے درمیان رہتے ہوئے آزادی حاصل کرنا سیکھو، اور دوسروں کو بھی آزادی دو۔
آنے والی نسلوں کو بھی ان زنجیروں سے آزاد کرو۔ مسائل سے بھاگ جانا مسئلے کا حل نہیں؛ اسے سمجھنا، اس کا سامنا کرنا اور اسے حل کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔
اس لیے پاؤں مت کاٹو، زنجیر توڑو۔ اتنی مضبوطی سے توڑو کہ تمہارے بعد آنے والی نسلیں آزادی کو وراثت میں پائیں، زنجیر کو نہیں۔

ضلع سکردو کے حلقہ نمبر 2 کے آخری اور اہم سیاحتی علاقے بشو کی دس ہزار سے زائد آبادی طویل عرصے سے بنیادی سہولیات سے محروم ہے ، معروف عالم دین شیخ عرفان حیدر بشوی

9 ربیع الاول عیدِ زہرا سلام اللہ علیہا اور آغازِ امامتِ امام زمانہؑ. شبیر حسین کمال

جمعۃ المبارک اور بارہ ربیع الاول — رحمتِ عالم ﷺ کی آمد کا پیغام. محمد عابد رشید

Cut the Feet, Break the Chains

50% LikesVS
50% Dislikes

پاؤں مت کاٹو، زنجیر توڑو. بتول فاطمہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں