” ہمیشہ اچھا وہی نہیں ہوتا جو مفید ہو . فروا وسیم اسوہ گرلز کالج سکردو
زندگی نے مجھے یہ سبق بہت خاموشی سے سکھایا ہے کہ ہر وہ چیز جو بظاہر اچھی نظر آتی ہے، ضروری نہیں کہ ہمارے لیے مفید بھی ہو۔ اکثر ہم لوگوں، چیزوں اور مواقع کو صرف ان کی خوبصورتی، دلکشی یا وقتی خوشی کی بنیاد پر اچھا سمجھ لیتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ وہ ہمارے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن گئے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ “ہمیشہ اچھا وہی نہیں ہوتا جو مفید ہو۔” یہ ایک ایسا جملہ ہے جو بظاہر مختصر ہے، مگر اپنے اندر زندگی کی ایک بہت بڑی حقیقت سموئے ہوئے ہے۔
میری نظر میں “اچھا” اور “مفید” دو مختلف تصورات ہیں۔ اچھا وہ ہوتا ہے جو دیکھنے، سننے یا محسوس کرنے میں دل کو بھلا لگے، جبکہ مفید وہ ہوتا ہے جو ہماری شخصیت، سوچ، کردار، علم یا مستقبل کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ بعض اوقات کوئی چیز وقتی طور پر بہت اچھی محسوس ہوتی ہے، مگر اس کا انجام نقصان دہ نکلتا ہے۔ اس کے برعکس کچھ چیزیں ابتدا میں مشکل، تلخ یا بوجھ محسوس ہوتی ہیں، لیکن بعد میں وہی ہماری کامیابی، ترقی اور خوشحالی کی بنیاد بنتی ہیں۔
تعلیم اس کی بہترین مثال ہے۔ ایک طالب علم کے لیے مسلسل پڑھنا، امتحانات کی تیاری کرنا، راتوں کو جاگنا اور اپنی خواہشات کو کچھ وقت کے لیے قربان کرنا شاید اتنا خوشگوار نہ ہو، لیکن یہی محنت مستقبل میں عزت، کامیابی اور خودمختاری کا ذریعہ بنتی ہے۔ دوسری طرف سارا دن تفریح کرنا، موبائل استعمال کرنا یا وقت ضائع کرنا اس لمحے میں تو بہت اچھا لگتا ہے، مگر اس کا نتیجہ اکثر پچھتاوے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس لیے ہر خوشی مفید نہیں ہوتی، اور ہر مشکل نقصان دہ نہیں ہوتی۔
اسی طرح ہماری روزمرہ زندگی میں بھی کئی ایسے فیصلے ہوتے ہیں جہاں ہمیں اچھے اور مفید کے درمیان فرق کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر ہر تعریف کرنے والا شخص ہمارا مخلص نہیں ہوتا، اور ہر تنقید کرنے والا ہمارا دشمن نہیں ہوتا۔ بعض لوگ ہماری ہر بات پر تعریفوں کے پل باندھتے ہیں، لیکن ضرورت کے وقت ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے برعکس کچھ لوگ ہماری غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، ہمیں بہتر بننے کا مشورہ دیتے ہیں، اور اگرچہ ان کی بات اس وقت اچھی نہیں لگتی، مگر حقیقت میں وہی ہمارے لیے سب سے زیادہ مفید ثابت ہوتی ہے۔
صحت کے معاملے میں بھی یہی اصول نظر آتا ہے۔ فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس اور میٹھی چیزیں اکثر ہمیں بہت اچھی لگتی ہیں، مگر ان کا زیادہ استعمال بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ اس کے برعکس سادہ غذا، ورزش اور صحت مند معمولات کبھی کبھی مشکل محسوس ہوتے ہیں، لیکن یہی ہمیں تندرست، توانا اور لمبی صحت مند زندگی دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر پسندیدہ چیز فائدہ مند نہیں ہوتی۔
رشتوں میں بھی یہی حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ بعض اوقات ہم ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں جو ہماری ہر بات مان لیتے ہیں، مگر وہ ہماری ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔ جبکہ کچھ لوگ ہمیں سچ بولتے ہیں، ہماری اصلاح کرتے ہیں اور ہمیں غلط راستے سے روکتے ہیں۔ ان کی باتیں شاید اس وقت اچھی نہ لگیں، لیکن وہی لوگ ہمارے حقیقی خیرخواہ ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیں لوگوں کو صرف ان کے نرم لہجے سے نہیں بلکہ ان کی نیت اور کردار سے پہچاننا چاہیے۔
یہ جملہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ زندگی میں فیصلے صرف جذبات کی بنیاد پر نہیں کرنے چاہییں۔ عقل، تجربہ اور دور اندیشی کو بھی ساتھ رکھنا ضروری ہے۔ اگر ہم صرف اس چیز کو منتخب کریں جو اس وقت اچھی لگ رہی ہو، تو ممکن ہے بعد میں ہمیں نقصان اٹھانا پڑے۔ لیکن اگر ہم یہ دیکھیں کہ کون سی چیز ہمارے مستقبل، کردار اور شخصیت کے لیے مفید ہے، تو ہماری زندگی زیادہ متوازن اور کامیاب ہو سکتی ہے۔
اسلام بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ ہر خواہش پوری کرنا ضروری نہیں، بلکہ وہی راستہ اختیار کرنا چاہیے جو دنیا اور آخرت دونوں کے لیے بہتر ہو۔ بعض اوقات انسان کو کوئی چیز بہت پسند ہوتی ہے، مگر وہ اس کے حق میں اچھی نہیں ہوتی، اور کبھی کوئی چیز ناپسند ہوتی ہے، مگر اسی میں اس کی بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس لیے انسان کو ہر فیصلے میں صرف ظاہری اچھائی کے بجائے اصل فائدے اور حکمت کو بھی دیکھنا چاہیے۔
آخر میں، میں یہی کہنا چاہوں گی کہ زندگی کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اچھے اور مفید کے فرق کو سمجھ سکیں۔ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی، اور ہر مشکل راستہ ناکامی کی طرف نہیں جاتا۔ کبھی کبھی وقتی خوشی چھوڑ کر مستقل کامیابی حاصل کرنا ہی دانشمندی ہوتی ہے۔ اگر ہم صرف ظاہری خوبصورتی یا وقتی لذت کے بجائے حقیقی فائدے کو ترجیح دیں، تو نہ صرف ہماری زندگی بہتر ہوگی بلکہ ہمارا کردار، سوچ اور مستقبل بھی روشن ہوگا۔ یہی اس خوبصورت قول کا اصل پیغام ہے کہ “ہمیشہ اچھا وہی نہیں ہوتا جو مفید ہو۔”
column in urdu Good Does Not Always Mean Useful




