سپاہی سے سالار تک کا سفر ، آمینہ یونس ،بلتستانی
رقیہ خاتون کا حلق خشک ہو رہا تھا اور وہ پانی کی تلاش میں ادھر اُدھر ہاتھ مارنے لگیں۔ اچانک اُن کا ہاتھ مٹی کے پیالے سے ٹکرایا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھیں۔ چاروں طرف اندھیرا تھا۔ انہوں نے چمق رگڑ کر آگ جلائی اور چراغ روشن کیا ۔تو انہیں احساس ہوا کہ پیاس انہیں خواب میں لگی تھی۔ وہ اٹھیں، دروازے کے قریب رکھے برتن سے مٹی کے پیالے میں پانی بھرا اور آہستہ آہستہ پینے لگیں۔ دل ہی دل میں سوچا، “رات کے کتنے پہر گزر چکے ہیں؟ شاید تہجد کا وقت ہو گیا ہے، تبھی تو میری آنکھ کھل گئی۔” یہ سوچتے ہوئے وہ چھوٹے سے آنگن میں نکل آئیں اور آسمان کی طرف دیکھا،”کچی اینٹوں کی دیواروں پر چراغ کی مدھم روشنی لرز رہی تھی اور ٹھنڈی ہوا صحن میں رکھی مٹی کی صراحی سے ٹکرا رہی تھی ۔”جہاں ابھی رات اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہی تھی۔ سامنے والے کمرے میں ابھی تک چراغ روشن تھا۔ وہ دبے قدموں آگے بڑھیں تاکہ قدموں کی آہٹ سے عمر کی نیند میں خلل نہ پڑے، مگر یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ عمر سوئے نہیں تھے بلکہ چراغ کی روشنی میں اپنی تلوار کو پتھر پر رگڑ کر تیز کر رہے تھے۔ رقیہ نے دروازے کو ہلکا سا دھکا دیا تو وہ آہستہ سے کھل گیا۔ دروازہ کھلنے کی آواز سن کر عمر چونک اٹھے۔ انہوں نے دروازے کی طرف دیکھا اور فوراً کھڑے ہو کر بولے، “ماں! آپ؟” رقیہ اندر آئیں، انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی بیٹھ گئیں۔ پھر پوچھا، “عمر! تم ابھی تک سوئے نہیں؟” عمر نے مسکرا کر جواب دیا، “سویا تو تھا، مگر جلد آنکھ کھل گئی۔ سوچا، تلوار اور باقی سامان درست کر لوں۔ علی الصبح ہمیں روانہ ہونا ہے۔” رقیہ نے محبت سے پوچھا، “اچھا، میرے بہادر بیٹے! کیا کوئی خطرناک مہم ہے؟” عمر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ مبہم انداز میں جواب دیا، “ہے بھی… اور نہیں بھی۔” اتنے میں اذان کی آواز بلند ہوئی۔ رقیہ تہجد کی نماز ادا کرنے چلی گئیں اور عمر نے بھی نماز ادا کی۔ جب سورج ابھی پہاڑوں کی چوٹیوں سے جھانک ہی رہا تھا اور گلی چند سپاہی زریں پہنے اپنے گھوڑوں کی لگامیں سنبھال رہے تھے۔ رقیہ خاتون نے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر دعاؤں کے ساتھ عمر کو رخصت کیا۔
رات کا ایک پہر گزر چکا تھا، مگر نیند لیلی کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ وہ مخملی بستر پر کروٹیں بدلتے بدلتے تھک گئی تو اٹھ کر کمرے کی کھڑکی تک آئی اور پردہ ذرا سا ہٹا کر باہر دیکھا۔ لیلی کے کمرے سے محل کا صدر دروازہ نظر آتا تھا، اور اس کے ساتھ شہر کے باب النصر بھی دکھائی دیتا تھا، جہاں سے فوج کا زیادہ آنا جانا رہتا تھا۔ ہر طرف مشعلیں روشن تھیں ، “جن کی روشنی میں پہرہ داروں کے نیزوں کی دھار چمک چمک رہی تھی ، کچھ دیر وہ خاموش کھڑی رہی، پھر واپس بستر کے پاس آئی، چراغ روشن کیا اور برابر میں رکھی کتاب اٹھا کر پڑھنے لگی۔ لیلی مطالعے کی بے حد شوقین تھی، اسی لیے ہر ہفتے کی شام المدرسہ النور سے دو تین کتابیں لے آتی تھی۔ اس نے چند صفحات الٹے پلٹے، مگر دل نہ لگا۔ کتاب بند کر کے خود سے بولی، “پتہ نہیں کیا بات ہے، نیند بھی ٹوٹ گئی اور دل میں عجیب سی بے چینی ہے۔ اللہ اللہ! کتاب میں بھی دل نہیں لگ رہا۔ اب کیا کروں؟ کسی کنیز کو جگا کر باغ میں چہل قدمی کے لیے جاؤں؟ نہیں، رات کے وقت اس کی بھی اجازت نہیں۔ اے نیند! تو ہی مہربانی کر دے۔” وہ دوبارہ بستر پر دراز ہو گئی۔ شاید ابھی غنودگی طاری ہی ہوئی تھی کہ اس کے کانوں میں گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز گونجی۔ وہ یک دم جاگ بیٹھی اور “اللہ اللہ” پڑھتی ہوئی کھڑکی کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ کچھ فاصلے پر باب النصر کے دروازے کے سامنے” سپاہیوں کے نیزوں کی دھار مشعلوں کی روشنی میں چمک رہی تھی جبکہ گھوڑے بے صبری سے زمین کھرچ رہے تھے ۔” ان کے درمیان دراز قد، وجیہہ اور خوب صورت نقوش والے عمر اپنے سرخ و سفید گھوڑے پر سوار سپاہیوں سے کچھ کہہ رہے تھے۔ عمر کو دیکھتے ہی لیلی کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے بے اختیار ایک قدم دروازے کی طرف بڑھایا، مگر اگلے ہی لمحے رک گئی۔ دل میں سوچا، “میں ان تک کیسے پہنچ سکتی ہوں؟ محل کا دروازہ تو بند ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا بھی نہیں کہ آج وہ مہم پر جا رہے ہیں۔” وہ آہستہ سے بڑ بڑائی، پھر دوبارہ کھڑکی کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ شہر کا دروازہ کھلا اور عمر اپنے سپاہیوں کے ساتھ باہر نکل گئے۔ عمر کو دیکھ کر جو چمک اس کی آنکھوں میں اتر آئی تھی، اب اس کی جگہ اداسی نے لے لی۔ اتنے میں دروازے پر ہلکی ہلکی دستک ہونے لگی۔ وہ چند لمحے خاموش بیٹھی رہی، پھر اٹھ کر دروازہ کھولا۔ سامنے اپنی کنیز، ماریہ، کو دیکھتے ہی وہ ناراضی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر لے آئی۔
عمر کو خدا حافظ کہہ کر رقیہ نے ناشتے کے برتن دھو کر اپنی اپنی جگہ رکھ دیے۔ پھر چھوٹے سے گھر میں جھاڑو لگانے لگیں۔ جھاڑو لگاتے ہوئے ان کے ہاتھ عمر کی بچپن کی ایک چھوٹی سی تلوار آ گئی۔ تلوار کو ہاتھ میں لیتے ہی ان کی یادوں کے دریچے کھل گئے اور وہ عمر کے بچپن میں کھو گئیں۔ ارسلان ایک بہادر، فرض شناس، وطن پر جان نچھاور کرنے والا اور ایمان دار سپاہی تھا۔ دونوں ایک ہی طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ حلب کی گلی کوچوں میں کھیلتے کھیلتے جوان ہوئے تو دونوں خاندانوں کو محسوس ہوا کہ وہ ایک دوسرے کے لیے ہی بنے ہیں۔ یہی سوچ کر دونوں کو شادی جیسے مقدس بندھن میں باندھ دیا گیا۔ پہلی رات ارسلان نے گھونگھٹ اٹھاتے ہوئے رقیہ سے کہا، “ہمارا ملنا نصیب میں تھا، مگر یہ معلوم نہیں کہ ہم زندگی کی کتنی بہاریں ساتھ گزار سکیں گے، یا صرف چند دن اور چند مہینے۔” رقیہ نے سر اٹھا کر ارسلان کی طرف دیکھا اور مضبوط لہجے میں بولی، “میں حق کے راستے میں کبھی بھی آپ کے قدموں کی زنجیر نہیں بنوں گی، بلکہ ہر قدم پر آپ مجھے اپنے ساتھ پائیں گے۔ میں غریب ضرور ہوں، مگر اسلام کی بیٹی ہوں، اور اسلام کی بیٹیاں اپنی خواہشات سے پہلے دین کی پاسداری کو ترجیح دیتی ہیں۔” یہ سن کر ارسلان نے محبت سے رقیہ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور کہا، “مجھے فخر ہے کہ میری رقیہ کا دل کتنا امیر ہے اور اس میں اسلام کا درد موجزن ہے۔ اب میں مطمئن ہوں۔” رقیہ نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا تو ارسلان مسکرا کر بولے، “ایسی بہترین بیویاں ہی بہترین مائیں بنتی ہیں۔ جب میں میدانِ جنگ میں ہوں گا تو مجھے اپنے بچے کی پرورش کی چنداں فکر نہیں ہوگی۔” رقیہ نے مسکراتے ہوئے کہا، “اب بس بھی کریں۔” ارسلان ہنس کر بولے، “بولنے دو، یہ ایک سپاہی کی زندگی ہے۔ صبح ہو یا شام، کسی لمحے کی خبر نہیں ہوتی۔” مگر رقیہ نے انہیں مزید کچھ کہنے نہ دیا۔ ” اور یوں یہ خوشیوں بھری رات لمحہ بہ لمحہ بیت کر اپنے نقوش چھوڑتی جا رہی تھی۔” رقیہ کی شادی کو تین سال گزر چکے تھے۔ دونوں خاندان اور خود ارسلان بھی کسی خوش خبری کے منتظر تھے۔ جب بھی ارسلان میدانِ جنگ سے واپس آتے، محبت بھری نگاہوں سے رقیہ کو دیکھتے، مگر ہر بار صرف انتظار ہی ان کا مقدر بنتا۔ اسی دوران بادشاہ نے ایک لشکر دمشق روانہ کیا، جس میں ارسلان بھی شامل تھے۔رقیہ ارسلان کو خدا حافظ کہہ رہی تھی تو حلب کے باہر ” سپاہیوں کی کمر سے تلواریں لٹک رہی تھیں اور ڈھالیں صبح کی روشنی میں چمک رہی تھیں ۔” تین مہینے گزر گئے، مگر وہ واپس نہ آئے۔ اس بار رقیہ کو ان کی واپسی کا شدت سے انتظار تھا۔ یہ انتظار ان کے چہرے سے بھی عیاں ہونے لگا تو ساس اور سسر ایک دوسرے کی طرف معنی خیز مسکراہٹ سے دیکھتے۔ رقیہ شرما کر نظریں جھکا لیتیں، مگر یہ انتظار، انتظار ہی رہا۔ ارسلان واپسی کے سفر میں شہید ہو گئے اور ان کا جنازہ گھر پہنچا تو پورے گھر میں کہرام مچ گیا۔ رقیہ کو بار بار پہلی رات کی باتیں یاد آنے لگیں۔ وہ صبر کرنے کی کوشش کرتیں، مگر آنسو بے اختیار بہہ نکلتے۔ پھر خود کو سمجھاتیں، “ایک سپاہی کی بیوی بننا آسان نہیں۔ سپاہی کسی بھی لمحے اپنے وطن پر قربان ہو سکتا ہے۔” اب انہوں نے اپنی زندگی کا محور اپنے ہونے والے بچے کو بنا لیا۔ راتوں کو اپنے شکم میں پلنے والے بچے سے باتیں کرتیں، “میرے بیٹے! تمہیں معلوم ہے، میں تمہیں بھی ایک بہادر، ایمان دار سپاہی بناؤں گی۔ پھر تمہاری شادی ایک وزیر کی بیٹی سے کروں گی، تاکہ میرا بہادر بیٹا ایک عظیم سالار بنے۔”
بچے کی پیدائش پر رقیہ کو شدت سے ارسلان کی کمی کا احساس ہوا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ اگلے ہی لمحے نومولود کے رونے کی آواز سن کر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یوں باپ کے سائے سے محروم پیدا ہونے والے عمر نے پانچ چھ برس کی عمر ہی سے سیکھنا شروع کر دیا۔ شام کا وقت تھا۔ حلب کی گلی کوچوں میں زندگی رواں دواں تھی اور باب العزیزیہ کے محل میں بھی رونقیں بکھری ہوئی تھیں۔ لیلی اپنی ماں کے پاس جانے کے لیے مچل رہی تھی، مگر کنیز اسے بہلا پھسلا کر باغ کی طرف لے جا رہی تھی، کیونکہ ثریا بیگم کا حکم تھا کہ شام کے وقت کوئی انہیں پریشان نہ کرے۔ اگر لیلی ان کے پاس چلی جاتی تو کنیز کی خیر نہ تھی۔ ادھر عمر اپنے ننھے ہاتھوں سے ماں کے گال سہلاتے ہوئے کہہ رہا تھا، “ماں! میں خوب علم حاصل کروں گا، پورے حلب کے کتب خانوں کی کتابیں پڑھ ڈالوں گا، اور تلوار اس مہارت سے چلاؤں گا کہ کوئی میرا مقابلہ نہ کر سکے۔” ماں بیٹے کی حوصلہ افزا باتیں سن کر محبت سے مسکرا اٹھیں۔ عمر نے شرارت سے کہا، “اور ماں! جب میں تلوار چلاؤں گا تو کیا معلوم کسی شہزادی کو مجھ سے محبت ہو جائے۔ ہے نا؟” رقیہ ایک لمحے کے لیے ٹھٹک گئیں۔ پھر ان کی آواز میں ہلکی سی سنجیدگی ابھری، “کیا یہ سب تم کسی شہزادی کے لیے کرو گے؟” عمر فوراً بولا، “نہیں، ہرگز نہیں۔ میں یہ سب اسلام کی خدمت اور حق کی سربلندی کے لیے کروں گا۔ شہزادی والی بات تو میں نے ویسے ہی کہہ دی تھی۔” عمر کی یہی خواہش دیکھ کر رقیہ نے اسے علم اور فنونِ سپہ گری کی تعلیم کے لیے المدرسہ دارالفروسیہ میں داخل کرا دیا۔
دارُالفروسیہ کے استاد العزیز بن شمس کو عمر پہلے ہی دن سے پسند آ گیا تھا۔ وہ اس پر خاص شفقت فرماتے تھے۔ دارُالفروسیہ کے وسیع صحن میں ہر صبح نوجوان شاگرد علم اور فنونِ سپہ گری کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اکثر استاد آواز دیتے، “عمر! ذرا ادھر آؤ۔” “جی، استادِ محترم۔” عمر سر جھکا کر ادب سے حاضر ہو جاتا۔ استاد پوچھتے، “کیا تم نے آج کا سبق یاد کر لیا؟ اور ہاں، آج چھٹی کے بعد ہم دونوں تیر اندازی کی مشق کریں گے۔” وہ چھٹی کے بعد بھی شاگردوں کو تربیت دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے استاد العزیز کے دل میں عمر کے لیے خاص محبت ڈال دی تھی۔ عمر دوسرے بچوں کی نسبت نہایت تیزی سے سیکھتا تھا۔ علم حاصل کرنے کا بھی اسے بے حد شوق تھا۔ اس کا دل چاہتا تھا کہ حلب کے ہر کتب خانے کی کتابیں پڑھ ڈالے۔ اگلے ہی دن حلب کی گلیوں، کوچوں اور بازاروں میں ڈھول بجا کر اعلان کیا گیا کہ کل دارُالفروسیہ کے میدان میں تیر اندازی اور تلوار بازی کے مقابلے منعقد ہوں گے، جن میں بہترین کارکردگی دکھانے والے نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کیا جائے گا۔ بازار میں منادی کرنے والے کی آواز دور دور تک گونج رہی تھی اور لوگ اپنے اپنے کام چھوڑ کر اعلان غور سے سن رہے تھے۔ یہ خبر سن کر عمر نے استادِ محترم سے پوچھا، “کیا مجھے بھی فوج میں بھرتی ہونے کا موقع ملے گا؟” استاد نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور فرمایا، “یہ تمہاری محنت اور قابلیت پر منحصر ہے۔” عمر نے پُراعتماد لہجے میں کہا، “ان شاء اللہ! میں ضرور کامیاب ہوں گا۔” استاد نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا، “ان شاء اللہ، اللہ تمہیں کامیاب کرے۔” عمر خوشی خوشی گھر آیا۔ اس نے دیکھا کہ ماں مٹی کے چولہے پر کھانا پکا رہی تھیں۔ وہ دوڑ کر ان سے لپٹ گیا۔ رقیہ نے اس کا ماتھا چوما اور پوچھا، “میرے بیٹے! آج کون سی خوش خبری لائے ہو؟” عمر خوشی سے بولا، “ماں! اب میں بھی فوج میں بھرتی ہونے جا رہا ہوں۔” رقیہ نے حیرت سے پوچھا، “وہ کیسے؟” عمر نے انہیں ساری بات تفصیل سے بتا دی۔ یہ سن کر رقیہ خوش ہو گئیں اور بولیں، “میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں، بیٹا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ہمیشہ کامیاب و کامران رکھے۔” اسی خوشی میں عمر کو رات بھر نیند نہ آئی اور وہ صبح بھی معمول سے پہلے اٹھ گیا۔ رقیہ نے اسے دیکھا تو ان کا دل خوشی سے بھر گیا۔ انہوں نے دل ہی دل میں سورۂ ناس پڑھ کر اس پر دم کیا، پھر چھوٹے سے باورچی خانے میں بچھی دری پر ناشتہ لگا دیا۔ عمر آ کر خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا۔ ماں کو خاموش دیکھ کر اس نے پوچھا، “ماں! آپ خاموش کیوں ہیں؟ کیا آپ کو میری خوشی پر خوشی نہیں ہوئی؟” رقیہ نے محبت بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا اور بولیں، “ایسی بات نہیں، میرے لختِ جگر! میں تو بہت خوش ہوں۔ آج میرا بیٹا اپنے فن کا مظاہرہ کرے گا۔ اللہ کرے تم ایک بہادر، دیانت دار اور باکردار سپاہی بن کر دینِ اسلام اور اپنے وطن کی خدمت کروں ۔
اگلی صبح میدانُ الفروسیہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ سورج نکلنے سے پہلے ہی عمر میدانُ الفروسیہ پہنچ گیا، جہاں مقابلے کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں۔ میدان کے ایک طرف امرا کے لیے سایہ دار نشستیں سجائی گئی تھیں، جبکہ دوسری جانب نوجوان سپاہی اپنی باری کے انتظار میں کھڑے تھے۔ عمر کی نظر استادِ محترم العزیز بن شمس پر پڑی تو وہ ادب سے ان کی طرف بڑھ گیا۔ مقررہ وقت پر بادشاہ سلامت اور ان کے امرا تشریف لائے۔ بادشاہ احتشام الدین کے وزیر زریاب بھی اپنی جواں سال بیٹی لیلی کے ساتھ موجود تھے۔ جب سے لیلی نے سنا تھا کہ میدانُ الفروسیہ میں زیرِ تربیت نوجوانوں کے درمیان مقابلے ہونے والے ہیں، تب ہی سے اس نے اپنے والد سے وہاں جانے کی ضد کی تھی۔ پہلے تو انہوں نے انکار کیا، مگر آخرکار بیٹی کے اصرار پر اسے بھی ساتھ لے آئے۔ لیلی نے عبایا اوڑھ رکھا تھا۔ اس کا چہرہ نقاب میں چھپا ہوا تھا اور صرف اس کی بڑی بڑی روشن آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔ بادشاہ کے حکم پر دف بجا کر مقابلوں کا آغاز کیا گیا۔ ایک کے بعد ایک نوجوان آتا، اپنی مہارت کا مظاہرہ کرتا اور داد سمیٹتا جاتا۔ جب عمر بن ارسلان کا نام پکارا گیا تو اس نے ایک نظر استادِ محترم کی طرف دیکھا، پھر پُراعتماد انداز میں آگے بڑھ گیا۔ اسی لمحے لیلی بھی قدرے آگے سرک آئی تاکہ مقابلہ واضح طور پر دیکھ سکے۔ تیر اندازی کا مقابلہ شروع ہوا۔ عمر نے کمان سنبھالی، نشانے پر نظر جمائی اور تیر چھوڑ دیا۔ تیر سیدھا جا کر ہدف کے عین وسط میں پیوست ہو گیا۔ حاضرین کی طرف سے تحسین کی آوازیں بلند ہوئیں۔ لیلی کی آنکھوں میں بے اختیار خوشی کی ایک ہلکی سی چمک ابھری، جبکہ عمر نے بھی ایک لمحے کے لیے اس پراسرار نقاب پوش لڑکی کی طرف دیکھا۔ دونوں کی نگاہیں چند لمحوں کے لیے ملیں اور پھر خاموشی سے جدا ہو گئیں۔ اس کے بعد تلوار بازی کا مرحلہ آیا۔ عمر کے ہاتھ میں تلوار بجلی کی مانند گردش کر رہی تھی۔ وہ اپنے مدمقابل کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر پے در پے وار کرتا اور پھرتی سے اپنی جگہ بدل لیتا۔ حاضرین کا جوش بڑھتا جا رہا تھا۔ آخرکار دف بجا کر مقابلے کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔ جب بہترین کارکردگی دکھانے والے نوجوانوں کے نام پکارے گئے تو سب سے پہلے عمر بن ارسلان کا نام لیا گیا اور اسے فوج میں شامل کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ سن کر لیلی کے دل میں ایک عجیب سا سکون اتر آیا۔ وہ خود ہی چونک گئی۔ “یہ مجھے کیا ہو رہا ہے؟ یہ نوجوان کون ہے؟ مجھے اس کی کامیابی پر اتنی خوشی کیوں محسوس ہو رہی ہے؟ میرا اس سے کیا تعلق؟” وہ اپنے ہی سوالوں میں الجھ کر خاموش ہو گئی۔ اس بے نام احساس کی وجہ وہ خود بھی نہ سمجھ سکی۔ ادھر عمر نے بھی ایک بار پھر نقاب پوش لڑکی کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں سوچا، “یہ لڑکی کون ہے؟ مقابلے کو اتنی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔ یقیناً کسی امیر خاندان سے تعلق رکھتی ہوگی۔” پھر اس نے اس خیال کو جھٹک دیا اور استادِ محترم کی طرف بڑھ گیا۔ مقابلہ ختم ہونے پر عمر ادب سے استادِ محترم کے پاس آیا اور ان سے بغل گیر ہو گیا۔ استاد العزیز بن شمس نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، پیشانی چومی اور اس کی کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ بادشاہ احتشام الدین اپنے امرا کے ساتھ واپس روانہ ہوئے۔ لیلی بھی اپنے والد کے ہمراہ چل پڑی، مگر محل کی طرف جاتے ہوئے اس نے ایک بار مڑ کر پیچھے دیکھا، مگر عمر اب وہاں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ محل پہنچتے ہی لیلی نے اپنی قابلِ اعتماد کنیز ماریہ کو اپنے پاس بلایا، میدان کی ساری روداد سنائی اور آہستہ سے کہا، “عمر نامی اس نوجوان سپاہی کے بارے میں معلومات حاصل کرو۔” ادھر عمر جب گھر پہنچا تو اس نے اپنی ماں رقیہ کو سراپا انتظار پایا۔ رقیہ کی نظریں بیٹے کے چہرے پر جمی تھیں، جیسے وہ اس کے تاثرات ہی سے سب کچھ جان لینا چاہتی ہوں۔ ماں کے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی عمر نے جھک کر ان کے قدموں پر سر رکھ دیا۔ رقیہ گھبرا گئیں اور بولیں، “عمر! کیا ہوا؟” عمر مسکراتے ہوئے بولا، “ماں! آپ کی دعائیں قبول ہو گئیں۔ میں میدانُ الفروسیہ کے مقابلے میں پہلے نمبر پر آیا ہوں اور مجھے فوج میں شامل کرنے کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔” یہ سنتے ہی رقیہ نے بے اختیار اپنے بیٹے کو سینے سے لگا لیا۔ ان کی آنکھیں خوشی اور شکر کے آنسوؤں سے بھر آئیں، اور ان کے لب بے اختیار اللہ تعالیٰ کے شکر سے تر ہو گئے۔
وقت گزرتا گیا۔ عمر ایک کے بعد ایک مہم میں اپنی بہادری، حکمتِ عملی اور دیانت کا ثبوت دیتا گیا۔ کبھی دمشق کی سرحد پر دشمن کے حملے کو پسپا کیا، کبھی حلب کی تجارتی شاہراہوں کو محفوظ بنایا، تو کبھی اپنے زخمی ساتھیوں کو اپنی جان خطرے میں ڈال کر میدانِ جنگ سے واپس لے آیا۔ وہ ہمیشہ کہتا، “سپاہی کی پہلی ذمہ داری اپنی جان بچانا نہیں، حق کی حفاظت کرنا ہے۔” ہر کامیابی کے بعد لوگ اس کی بہادری کے قصے سناتے، مگر عمر ہر مرتبہ یہی کہتا، “اگر میری ماں کی دعائیں، استاد العزیز بن شمس کی تربیت اور اللہ کا فضل شامل نہ ہوتا تو میں کچھ بھی نہ کر سکتا تھا۔” ادھر ماریہ وقتاً فوقتاً لیلی کو عمر کی بہادری اور نیک نامی کی خبریں سناتی رہتی۔ ہر خبر کے ساتھ لیلی کے دل میں اس کے لیے احترام بڑھتا گیا۔ اسے یقین ہو چکا تھا کہ انسان کی اصل پہچان اس کا حسب و نسب نہیں بلکہ اس کا ایمان، عمل اور اخلاص ہوتا ہے۔ چند ہی برسوں میں عمر کو سپاہیوں کے ایک دستے کی قیادت سونپ دی گئی۔ اس نے ایسی حکمت اور انصاف سے اپنے فرائض انجام دیے کہ چھوٹے بڑے سب اس کے معترف ہو گئے۔ پھر ایک ایسا وقت آیا جب دشمن نے حلب پر بھرپور حملہ کر دیا۔ جنگ کئی روز تک جاری رہی۔ دشمن تعداد میں زیادہ تھا، مگر عمر نے ثابت قدمی، بہترین منصوبہ بندی اور اللہ پر کامل بھروسا رکھتے ہوئے اپنی فوج کی قیادت کی۔ اس معرکے میں اس نے نہ صرف دشمن کو پسپا کیا بلکہ بے شمار بے گناہ لوگوں اور اپنے ساتھیوں کی جانیں بھی بچائیں۔ جب فتح کی خبر محل تک پہنچی تو پورا حلب خوشی سے جھوم اٹھا۔ بادشاہ احتشام الدین نے دربار میں عمر کو طلب کیا۔ امرا، وزرا اور سپاہ سالار سب موجود تھے۔ بادشاہ نے سب کے سامنے اعلان کیا، “آج سے عمر بن ارسلان سلطنتِ حلب کا سپہ سالار ہوگا۔ اس نے ثابت کر دیا ہے کہ عزت دولت یا خاندان سے نہیں بلکہ اخلاص، شجاعت اور خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔” دربار تحسین کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ وزیر زریاب خاموش کھڑے عمر کو دیکھتے رہے۔ انہیں اپنی بیٹی کی باتیں یاد آنے لگیں۔ اب وہ جان چکے تھے کہ لیلی نے کسی عام نوجوان کو نہیں بلکہ ایک باایمان، فرض شناس اور بااخلاق انسان کو پسند کیا ہے۔ اسی شام وزیر زریاب نے لیلی سے کہا، “بیٹی! آج میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اصل عظمت منصب یا دولت میں نہیں بلکہ انسان کے عمل اور اخلاص میں ہوتی ہے۔” پھر وہ اسی وقت رقیہ خاتون کے گھر پہنچے۔ سادہ سے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی تو رقیہ نے دروازہ کھولا۔ سامنے وزیر کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں۔ وزیر نے ادب سے کہا، “میں آج کسی وزیر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک باپ کی حیثیت سے آیا ہوں۔ اگر آپ اجازت دیں تو اپنی بیٹی لیلی کا رشتہ آپ کے بیٹے عمر کے لیے مانگنا چاہتا ہوں۔” رقیہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ انہیں اپنے شہید شوہر ارسلان کی بات یاد آ گئی۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور خاموشی سے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ چند ہی دنوں میں وزیر زریاب کی رہائش گاہ پر نہایت سادگی اور وقار کے ساتھ نکاح کی تقریب منعقد ہوئی۔ نکاح کے بعد پہلی بار عمر اور لیلی تنہائی کے چند لمحوں میں آمنے سامنے ہوئے۔ لیلی نے نظریں جھکا کر کہا، “میں نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کی تھی کہ میرا ہم سفر دین، حق اور وطن کی سربلندی کو اپنی ذات پر مقدم رکھنے والا ہو۔” عمر مسکرایا اور بولا، “اور میں نے ہمیشہ یہ دعا مانگی تھی کہ اللہ مجھے ایسی رفیقۂ حیات عطا کرے جو ہر حال میں مجھے حق پر قائم رہنے کی دعا دیتی رہے۔” لیلی نے پُرسکون لہجے میں کہا، “اگر کبھی میری خوشی اور دین و وطن کی خدمت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو بلا جھجھک اپنے فرض کو چن لیجیے گا، کیونکہ ایک مجاہد کی کامیابی ہی میری خوشی ہے۔” عمر نے تشکر بھری نگاہوں سے اسے دیکھا ہی تھا کہ محل کے دروازے پر گھوڑوں کی تیز ٹاپیں سنائی دیں۔ ایک قاصد نے آ کر خبر دی، “سرحد پر دشمن نے اچانک حملہ کر دیا ہے۔ بادشاہ سلامت نے سپہ سالار عمر کو فوراً دربار میں طلب فرمایا ہے۔” عمر نے ایک لمحہ اپنی ماں اور لیلی کی طرف دیکھا۔ رقیہ آگے بڑھیں، بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا، دعا دی اور بولیں، “جاؤ بیٹا! اللہ تمہیں اپنی امان میں رکھے۔ مسلمان کی تلوار ہمیشہ حق کی سربلندی کے لیے اٹھتی ہے۔” لیلی نے دھیرے سے کہا، “اللہ آپ کو سرخرو واپس لائے، میری دعائیں ہر لمحہ آپ کے ساتھ ہیں۔” عمر نے دونوں کی دعائیں لے کر گھوڑے پر سوار ہوتے ہوئے کہا، “جب تک حق کو محافظوں کی ضرورت ہے، ایک سپاہ سالار کا سفر ختم نہیں ہوتا۔” وہ تیزی سے قلعے کی جانب روانہ ہو گیا۔ رقیہ اور لیلی دیر تک اسے جاتے دیکھتی رہیں۔ یوں ایک شہید کا بیٹا اپنی ماں کی تربیت، استاد کی رہنمائی، ایمان، مسلسل محنت اور اللہ پر کامل بھروسا رکھتے ہوئے سپاہی سے سپہ سالار بن گیا اور اس نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ انسان کو بلندی نہ حسب و نسب عطا کرتا ہے اور نہ دولت، بلکہ اخلاص، استقامت، خدمت اور اللہ پر بھروسا اسے عزت بخشتا ہے
گلگت بلتستان کا سفر کرنے والے ہر سیاح کے لیے یہ ایک ایسا تلخ تجربہ ہے
” مشہد سے مشہد تک ” تنویر حسین
وقت کا خاموش احتساب. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
منشیات اسمگلنگ کیس: ملزمہ پنکی نارمل کپڑے منگواکر پہن سکتی ہے ہمیں اعتراض نہیں، ویمن جیل سپرنٹنڈنٹ
column in urdu From Soldier to Leader




