تصور کریں کہ آپ اسلام آباد ایئرپورٹ پر نہایت جوش و خروش کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن اچانک بادلوں کی گرج اور ‘فلائٹ کینسل’ کی اطلاع آپ کے تمام سفری منصوبوں کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ گلگت بلتستان کا سفر کرنے والے ہر سیاح کے لیے یہ ایک ایسا تلخ تجربہ ہے جو کسی بھی وقت پیش آ سکتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ موسم کی غیر یقینی صورتحال اور پروازوں کے حوالے سے مستند معلومات کا نہ ہونا آپ کے لیے کتنا پریشان کن ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر جب آپ ایک محدود وقت کے لیے چھٹیاں گزارنے نکلے ہوں۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!اسی لیے 5CNTV آپ کے لیے گلگت کا موسم اور فلائٹ اپڈیٹس 2026 کے حوالے سے یہ خصوصی گائیڈ پیش کر رہا ہے تاکہ آپ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچ سکیں۔ اس مضمون میں آپ پی آئی اے کی ہفتہ وار چھ پروازوں کے شیڈول، جولائی کے متوقع درجہ حرارت اور فلائٹ منسوخی کی صورت میں بابوسر پاس جیسے متبادل زمینی راستوں کی مکمل تفصیلات جان سکیں گے۔ ہمارا مقصد آپ کو وہ تمام ماہرانہ مشورے فراہم کرنا ہے جو آپ کے اس پہاڑی سفر کو محفوظ، منظم اور یادگار بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
اہم نکات
- گلگت کے جغرافیائی محل وقوع اور بلند و بالا پہاڑوں کا پروازوں پر اثر سمجھیں تاکہ آپ فضائی سفر کی پیچیدگیوں سے آگاہ رہ سکیں۔
- پی آئی اے کی پروازوں کے لیے مخصوص ‘وی ایف آر’ (VFR) قوانین اور موسم کی کم از کم شرائط کے بارے میں مستند معلومات حاصل کریں۔
- گلگت کا موسم اور فلائٹ اپڈیٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کے لیے بہترین مہینوں اور اوقات کا درست انتخاب کرنا سیکھیں۔
- پرواز کی منسوخی کی صورت میں شاہراہ قراقرم اور بابوسر پاس جیسے متبادل زمینی راستوں کے لیے ‘پلان بی’ کی تیاری کے طریقے جانیں۔
- غیر یقینی موسمی حالات میں سرکاری ذرائع سے معلومات کی تصدیق اور حفاظتی تدابیر کے ذریعے اپنے سفر کو محفوظ بنائیں۔
گلگت کا موسم اور فضائی سفر: آپ کو کیا جاننے کی ضرورت ہے؟
گلگت بلتستان کی فضائی حدود میں داخل ہونا کسی مہم جوئی سے کم نہیں ہے۔ یہاں کی پروازیں مکمل طور پر قدرت کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔ جب ہم گلگت کا موسم اور فلائٹ اپڈیٹس کی بات کرتے ہیں، تو اس کا مطلب صرف بارش یا دھوپ نہیں، بلکہ بادلوں کی اونچائی اور ہوا کی رفتار بھی ہے۔ گلگت ایئرپورٹ دنیا کے ان چند ہوائی اڈوں میں شامل ہے جہاں جہاز اتارنے کے لیے پائلٹ کو غیر معمولی مہارت اور بالکل صاف موسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کا سفر کرنے سے پہلے جغرافیائی حالات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔
گلگت کے موسم کی منفرد جغرافیائی خصوصیات
گلگت ایک ایسی وادی ہے جو دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے سنگم پر واقع ہے۔ یہاں کا جغرافیہ براہ راست فضائی سفر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ نانگا پربت اور راکاپوشی جیسے دیو ہیکل پہاڑ ہواؤں کے رخ کو تبدیل کرنے اور اچانک بادل بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گلگت کا موسم اپنی خشک سردی اور کم بارشوں کے باوجود بادلوں کی نیچی سطح کی وجہ سے فضائی آپریشنز کے لیے اکثر مشکل ثابت ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں نے یہاں کے درجہ حرارت میں غیر یقینی اتار چڑھاؤ پیدا کر دیا ہے، جس سے پروازوں کے شیڈول میں اچانک تبدیلی اب ایک عام بات بن چکی ہے۔ وادی میں ہوا کا دباؤ بھی تیزی سے بدلتا ہے جو چھوٹے طیاروں کے لیے پرواز کو مزید حساس بنا دیتا ہے۔
فلائٹ کینسل ہونے کی بڑی وجوہات
مسافروں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ فلائٹ کی منسوخی محض ایئر لائن کی مرضی نہیں بلکہ بین الاقوامی حفاظتی پروٹوکولز کا حصہ ہے۔ گلگت کے لیے پروازیں ‘ویژول فلائٹ رولز’ (VFR) کے تحت چلتی ہیں، یعنی پائلٹ کو راستہ دیکھنے کے لیے صاف آسمان کی ضرورت ہوتی ہے۔ منسوخی کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
- کم حدِ نگاہ (Low Visibility): اگر رن وے پر حدِ نگاہ مقررہ حد سے کم ہو، تو لینڈنگ ناممکن ہو جاتی ہے۔
- بادلوں کی نیچی سطح: پہاڑوں کے درمیان اڑتے ہوئے اگر بادل چوٹیوں کو ڈھانپ لیں، تو پائلٹ کے لیے راستہ تلاش کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
- تیز ہوائیں: لینڈنگ کے وقت ہوا کی رفتار اور رخ میں اچانک تبدیلی جہاز کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
- حفاظتی معیارات: مسافروں کی جان کی حفاظت کو کسی بھی تجارتی فائدے پر ترجیح دی جاتی ہے، اس لیے معمولی شک کی صورت میں بھی پرواز منسوخ کر دی جاتی ہے۔
5CNTV کے تجزیوں کے مطابق، مسافروں کو چاہیے کہ وہ سفر سے کم از کم 24 گھنٹے پہلے محکمہ موسمیات کی رپورٹ ضرور دیکھیں۔ موسم کی معمولی سی خرابی بھی پورے سفری شیڈول کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی لیے گلگت کا موسم اور فلائٹ اپڈیٹس پر مسلسل نظر رکھنا آپ کے وقت اور پیسے دونوں کی بچت کا باعث بنتا ہے۔ یاد رکھیں کہ پہاڑی علاقوں میں موسم کسی بھی وقت کروٹ بدل سکتا ہے، اس لیے ذہنی طور پر لچکدار رہنا ہی بہترین حکمتِ عملی ہے۔
پی آئی اے فلائٹ شیڈول اور موسم کے اثرات
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) اسلام آباد اور گلگت کے درمیان فضائی پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ جولائی 2026 کے تازہ ترین شیڈول کے مطابق، اسلام آباد سے گلگت کے لیے ہفتے میں تقریباً چھ پروازیں چلائی جا رہی ہیں، جن میں PK602 اور PK604 قابلِ ذکر ہیں۔ ان پروازوں کا دورانیہ محض ایک گھنٹہ 15 منٹ ہے، مگر یہ مختصر سفر اکثر گھنٹوں کی تاخیر یا منسوخی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ گلگت کا موسم اور فلائٹ اپڈیٹس کا وہ گہرا تعلق ہے جسے سمجھے بغیر سفر کا آغاز کرنا کسی خطرے سے کم نہیں ہے۔ مسافروں کو چاہیے کہ وہ اپنی بکنگ کرواتے وقت اس بات کو مدِ نظر رکھیں کہ پہاڑی علاقوں میں پروازوں کا انحصار مکمل طور پر صاف آسمان پر ہوتا ہے۔
وی ایف آر (VFR) پروازیں کیا ہیں؟
بصری پرواز کے قوانین (Visual Flight Rules) گلگت کے فضائی روٹ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پائلٹ کو جہاز کی سمت برقرار رکھنے اور لینڈنگ کے لیے زمین، پہاڑوں اور رن وے کا واضح نظر آنا ضروری ہے۔ چونکہ گلگت ایئرپورٹ بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ وادی میں واقع ہے، اس لیے یہاں ‘انسٹرومنٹ لینڈنگ سسٹم’ (ILS) کا استعمال ممکن نہیں ہوتا۔ جدید ترین طیاروں کے باوجود، پائلٹ کو اپنی آنکھوں سے راستہ دیکھ کر جہاز اتارنا پڑتا ہے۔ اگر بادلوں کی تہہ نیچی ہو یا دھند کی وجہ سے حدِ نگاہ متاثر ہو، تو حفاظتی بنیادوں پر پرواز کو فوری طور پر منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی سفری ہدایات اور احتیاطی تدابیر بھی اسی بات پر زور دیتی ہیں کہ مسافروں کو خراب موسم میں فضائی سفر کے بجائے زمینی راستوں کی تیاری رکھنی چاہیے۔
فلائٹ اپڈیٹس حاصل کرنے کا بہترین طریقہ
سفر سے پہلے کی تیاری آپ کو ایئرپورٹ پر ہونے والی پریشانی سے بچا سکتی ہے۔ پی آئی اے کی ویب سائٹ اور آفیشل ہیلپ لائن معلومات کا بنیادی ذریعہ ہیں، لیکن مقامی صورتحال جاننے کے لیے 5CNTV جیسے پلیٹ فارمز پر تازہ ترین خبروں کا جائزہ لینا زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ فلائٹ ریڈار جیسی ایپس طیارے کی لوکیشن تو بتا سکتی ہیں، لیکن وہ موسم کی وجہ سے ہونے والی اچانک منسوخی کی پیشگوئی نہیں کر سکتیں۔ ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہونے سے پہلے درج ذیل امور کا خیال رکھیں:
- ہمیشہ پرواز سے 3 گھنٹے پہلے پی آئی اے کال سینٹر سے رابطہ کر کے کنفرمیشن حاصل کریں۔
- اپنے فون پر ایئر لائن کی جانب سے آنے والے ایس ایم ایس الرٹس کو ہر وقت فعال رکھیں۔
- محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ پر گلگت اور اسلام آباد دونوں شہروں کی ‘ایوی ایشن فورکاسٹ’ کا مطالعہ کریں۔
یاد رکھیں کہ گلگت کا موسم اور فلائٹ اپڈیٹس ہر لمحہ بدل سکتے ہیں۔ ایک ذمہ دار مسافر کی حیثیت سے آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ فلائٹ کا چلنا محض ایک تکنیکی عمل نہیں بلکہ قدرت کی مرضی کے تابع ہے۔ اگر آپ کی پرواز منسوخ ہو جاتی ہے، تو اسے مایوسی کے بجائے ایک حفاظتی ضرورت کے طور پر قبول کریں اور متبادل انتظامات کی طرف رجوع کریں۔

گلگت بلتستان میں سیاحت کے لیے بہترین موسم کا انتخاب
گلگت بلتستان کی خوبصورتی ہر موسم میں جداگانہ رنگ بکھیرتی ہے، لیکن ایک باشعور سیاح کے لیے اس حسن کو دیکھنے کا بہترین وقت وہ ہے جب موسم اور سفری سہولیات دونوں سازگار ہوں۔ عموماً اپریل سے اکتوبر تک کا عرصہ سیاحت کے لیے آئیڈیل سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران آسمان صاف رہنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور پروازوں کی باقاعدگی برقرار رہتی ہے۔ خاص طور پر موسمِ خزاں یعنی ستمبر سے نومبر کے دوران جب وادی زرد اور نارنجی رنگوں میں ڈھل جاتی ہے، تو فضائی سفر کا تجربہ سحر انگیز ہوتا ہے۔ تاہم، ہر موسم اپنے ساتھ کچھ ایسے چیلنجز بھی لاتا ہے جن کا براہ راست اثر گلگت کا موسم اور فلائٹ اپڈیٹس پر پڑتا ہے۔ ان تبدیلیوں کو سمجھے بغیر سفر کا آغاز کرنا آپ کے منصوبوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
موسمِ سرما کی برفباری اور پروازیں
دسمبر سے فروری تک گلگت شدید سردی اور برفباری کی لپیٹ میں رہتا ہے۔ اس دورانیے میں پروازوں میں تعطل آنا ایک معمول کی بات ہے۔ برفباری کی صورت میں ایئرپورٹ کا رن وے عارضی طور پر بند کر دیا جاتا ہے تاکہ طیاروں کی محفوظ لینڈنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اگر آپ سردیوں میں سفر کا ارادہ رکھتے ہیں، تو آپ کے پاس وقت کی گنجائش ہونی چاہیے کیونکہ ایک بار پرواز منسوخ ہونے کے بعد دوبارہ نشست کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ سردیوں کے مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ گرم ملبوسات کے ساتھ ساتھ اپنے سفری شیڈول میں کم از کم دو سے تین دن کا اضافی مارجن ضرور رکھیں۔
موسمِ گرما اور مون سون کے اثرات
جولائی کا مہینہ سیاحت کے عروج کا وقت ہے، لیکن یہ مون سون کی بارشوں کا آغاز بھی ہے۔ جولائی 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق، گلگت میں اوسط بلند ترین درجہ حرارت 36.2°C تک جا سکتا ہے۔ اگرچہ گرمیوں میں پروازوں کے کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، لیکن جولائی میں اوسطاً 7 دن ہونے والی بارشیں کبھی کبھار فلائٹ آپریشنز میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔ اس کے باوجود، گرمیاں وہ وقت ہیں جب آپ کو گلگت بلتستان میں سیاحت کے مواقع بھرپور طریقے سے میسر آتے ہیں، کیونکہ تمام بلند پہاڑی درے اور جھیلیں اس وقت سیاحوں کے لیے کھلی ہوتی ہیں۔
موسم کی ان تبدیلیوں کو مدنظر رکھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ آپ کا قیمتی وقت اور سرمایہ ضائع نہ ہو۔ اگر آپ اپنی چھٹیوں کو یادگار بنانا چاہتے ہیں، تو روانگی سے پہلے مقامی حالات اور پروازوں کی تازہ ترین صورتحال سے باخبر رہنا آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ تازہ ترین موسمی صورتحال اور ماہرانہ سفری مشوروں کے لیے 5CNTV کی ویب سائٹ وزٹ کریں تاکہ آپ کا ہر قدم باخبر اور محفوظ رہے۔ یاد رکھیں کہ پہاڑوں کا سفر جتنا خوبصورت ہے، اس کے لیے اتنی ہی بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔
سفر کی منصوبہ بندی اور احتیاطی تدابیر
گلگت بلتستان کا سفر جتنا سحر انگیز ہے، اس کی منصوبہ بندی اتنی ہی توجہ طلب ہے۔ پہاڑی علاقوں میں موسم کسی بھی وقت کروٹ بدل سکتا ہے، اس لیے ایک تجربہ کار مسافر ہمیشہ اپنے پاس ‘پلان بی’ رکھتا ہے۔ جب آپ گلگت کا موسم اور فلائٹ اپڈیٹس چیک کرتے ہیں اور پرواز کی منسوخی کا معمولی سا خدشہ بھی نظر آئے، تو آپ کو فوری طور پر زمینی راستے کی طرف رجوع کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ فضائی سفر کی منسوخی کی صورت میں مایوس ہونے کے بجائے اسے ایک نئے زمینی مہم جوئی کے موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے، بشرطیکہ آپ کے پاس درست معلومات اور ضروری سامان موجود ہو۔
متبادل سفری ذرائع: شاہراہ ریشم
اگر موسم کی خرابی کی وجہ سے پی آئی اے کی پرواز اڑان نہ بھر سکے، تو شاہراہ قراقرم یا شاہراہ ریشم آپ کی واحد لائف لائن ہے۔ اسلام آباد سے گلگت تک کا زمینی سفر تقریباً 14 سے 16 گھنٹے کا وقت لیتا ہے۔ جولائی کے مہینے میں بابوسر پاس کا راستہ سیاحوں کے لیے کھلا ہوتا ہے، جو نہ صرف سفر کا دورانیہ کم کرتا ہے بلکہ ناران اور لولو سر جھیل کے دلفریب مناظر بھی پیش کرتا ہے۔ تاہم، مون سون کی بارشوں کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شاہراہ ریشم کی تازہ صورتحال سے باخبر رہنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ انتظامیہ عموماً لینڈ سلائیڈنگ کے بعد سڑک کی بحالی میں 24 سے 48 گھنٹے لیتی ہے۔
سفر کے دوران درج ذیل سامان اور تدابیر آپ کے سفر کو آسان بنا سکتی ہیں:
- ضروری ادویات: بلندی پر آکسیجن کی کمی (Altitude Sickness)، متلی اور سر درد کی ادویات ہمیشہ ساتھ رکھیں۔
- موسم کے مطابق لباس: گلگت میں دن کے وقت درجہ حرارت 36 ڈگری تک جا سکتا ہے لیکن راتیں اب بھی خنک ہوتی ہیں، اس لیے ہلکی جیکٹ لازمی رکھیں۔
- پاور بینک اور ٹارچ: طویل زمینی سفر یا موسم کی خرابی کی صورت میں بجلی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
- نقد رقم: پہاڑی علاقوں میں اکثر اے ٹی ایم مشینیں نیٹ ورک کی وجہ سے کام نہیں کرتیں، اس لیے مناسب نقد رقم پاس رکھیں۔
تازہ ترین خبروں تک رسائی
کسی بھی غیر یقینی صورتحال میں مستند معلومات ہی آپ کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر تصدیق شدہ افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے مقامی اور معتبر ذرائع پر بھروسہ کریں۔ گلگت بلتستان کی تازہ ترین خبریں اور علاقائی صورتحال جاننے کے لیے 5CNTV ایک ذمہ دار میڈیا پلیٹ فارم کے طور پر آپ کی رہنمائی کرتا ہے۔ ہم نہ صرف گلگت کا موسم اور فلائٹ اپڈیٹس فراہم کرتے ہیں بلکہ سڑکوں کی بندش اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات کو بھی بروقت آپ تک پہنچاتے ہیں۔
یاد رکھیں، گلگت کا سفر محض ایک منزل تک پہنچنا نہیں بلکہ راستے کے بدلتے ہوئے رنگوں اور جغرافیائی تنوع کو سمجھنے کا نام ہے۔ اگر آپ کا سفری منصوبہ لچکدار ہے اور آپ تازہ ترین معلومات سے لیس ہیں، تو موسم کی کوئی بھی تبدیلی آپ کے جوش و خروش کو کم نہیں کر سکے گی۔ ایک ذمہ دار سیاح بنیں اور سفر کے دوران مقامی ثقافت اور ماحول کا احترام یقینی بنائیں۔
ایک محفوظ اور باخبر سفر کی جانب قدم
گلگت بلتستان کی وادیوں کا سفر جتنا سحر انگیز ہے، اتنا ہی یہ آپ سے بہتر منصوبہ بندی اور مستند معلومات کا تقاضا کرتا ہے۔ اس جامع گائیڈ میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح جغرافیائی حالات اور وی ایف آر قوانین فضائی سفر پر اثر انداز ہوتے ہیں اور کیوں ایک لچکدار ‘پلان بی’ رکھنا ضروری ہے۔ گلگت کا موسم اور فلائٹ اپڈیٹس سے مستقل آگاہی آپ کو نہ صرف غیر ضروری پریشانی سے بچاتی ہے بلکہ آپ کے وقت اور سرمائے کے درست استعمال کو بھی یقینی بناتی ہے۔ پہاڑوں کا سفر ہمیشہ سے غیر یقینی رہا ہے، لیکن درست معلومات کے ساتھ آپ اس چیلنج کو ایک خوشگوار مہم جوئی میں بدل سکتے ہیں۔
ایک مستند علاقائی آواز کی حیثیت سے 5CNTV آپ کو نہ صرف تازہ ترین اردو خبریں اور گہرے تجزیے فراہم کرتا ہے بلکہ سیاحوں کے لیے ایک قابل بھروسہ گائیڈ کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔ اپنے اگلے سفر کو محفوظ اور باخبر بنانے کے لیے گلگت بلتستان کی تازہ ترین خبروں اور اپڈیٹس کے لیے 5CNTV وزٹ کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ درست معلومات اور بہتر تیاری کے ساتھ آپ کا یہ سفر زندگی کے خوبصورت ترین تجربات میں سے ایک ثابت ہوگا۔ ہم آپ کے محفوظ اور خوشگوار سفر کے لیے دعا گو ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا گلگت کی فلائٹ موسم کی وجہ سے اکثر کینسل ہوتی ہے؟
جی ہاں، گلگت کے لیے فضائی سفر کا انحصار مکمل طور پر صاف موسم پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے پروازیں اکثر منسوخ ہو جاتی ہیں۔ چونکہ یہ روٹ ‘بصری پرواز کے قوانین’ (VFR) کے تحت آتا ہے، اس لیے بادلوں کی نیچی سطح یا خراب حدِ نگاہ کی صورت میں پائلٹ کے لیے جہاز اڑانا ناممکن ہوتا ہے۔ خاص طور پر جولائی کے مون سون اور سردیوں کی شدید برفباری کے دوران منسوخی کے امکانات کافی حد تک بڑھ جاتے ہیں۔
فلائٹ کینسل ہونے کی صورت میں پی آئی اے کیا سہولیات فراہم کرتی ہے؟
جب پرواز موسم کی خرابی کی وجہ سے منسوخ ہوتی ہے، تو پی آئی اے عام طور پر مسافروں کو ٹکٹ کی رقم کی مکمل واپسی (Refund) یا اگلی دستیاب پرواز میں ترجیحی بنیادوں پر نشست فراہم کرتی ہے۔ چونکہ موسم کی خرابی ایک قدرتی عمل ہے اور ایئر لائن کے اختیار میں نہیں، اس لیے مسافروں کو ہوٹل یا رہائش کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔ مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایسی صورتحال کے لیے اپنا متبادل انتظام پہلے سے تیار رکھیں۔
گلگت کے لیے پرواز کا بہترین وقت کون سا ہے؟
گلگت کا موسم اور فلائٹ اپڈیٹس کے طویل مشاہدے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ صبح سویرے کی پروازوں کے کامیاب ہونے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ دن چڑھنے کے ساتھ ہی پہاڑوں کے درمیان ہوا کا دباؤ بڑھنے لگتا ہے اور بادل بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے جو فضائی سفر میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اسی لیے پی آئی اے بھی اپنی زیادہ تر پروازیں صبح کے وقت ہی شیڈول کرتی ہے تاکہ صاف موسم کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔
کیا بادل ہونے کی صورت میں بھی جہاز لینڈ کر سکتا ہے؟
گلگت ایئرپورٹ پر بادلوں کے درمیان لینڈنگ کرنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں ہے کیونکہ یہاں ‘انسٹرومنٹ لینڈنگ سسٹم’ (ILS) کی سہولت موجود نہیں ہے۔ تنگ وادی اور بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے پائلٹ کو رن وے اور ارد گرد کی چوٹیاں اپنی آنکھوں سے واضح دیکھنی ہوتی ہیں۔ اگر بادلوں کی تہہ نیچی ہو یا دھند چھائی ہو، تو جہاز کو حفاظتی بنیادوں پر واپس اسلام آباد موڑ دیا جاتا ہے۔
فلائٹ کینسل ہو جائے تو زمینی سفر میں کتنا وقت لگتا ہے؟
پرواز کی منسوخی کی صورت میں اسلام آباد سے گلگت تک زمینی سفر میں عموماً 14 سے 16 گھنٹے لگتے ہیں۔ جولائی کے مہینے میں بابوسر پاس کا راستہ کھلا ہوتا ہے جو کہ ایک تیز رفتار متبادل فراہم کرتا ہے۔ تاہم مسافروں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بارشوں کے دوران شاہراہ قراقرم پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے اس وقت میں غیر متوقع اضافہ بھی ہو سکتا ہے، اس لیے سفر سے پہلے سڑک کی صورتحال جاننا ضروری ہے۔
موسم کی تازہ ترین صورتحال کے لیے کون سی ویب سائٹ مستند ہے؟
موسمیاتی پیشگوئی کے لیے پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (PMD) کی ویب سائٹ سب سے مستند ذریعہ ہے، لیکن مقامی حالات اور فلائٹ آپریشنز کی تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے 5CNTV ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔ یہاں آپ کو گلگت بلتستان کی جغرافیائی صورتحال کے مطابق بروقت اردو خبریں اور تجزیے فراہم کیے جاتے ہیں جو آپ کے سفری فیصلے کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔




