وقت کا خاموش احتساب. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
دن بھر کی تمازت کے بعد سورج جب مغرب کی سمت ڈھلنے لگتا ہے تو زمین پر ایک عجیب سی خاموشی اترنے لگتی ہے۔ سائے لمبے ہو جاتے ہیں، روشنی مدھم پڑ جاتی ہے، پرندے اپنے گھونسلوں کا رخ کرتے ہیں اور انسان، چاہے وہ کسی بازار میں ہو یا کسی دفتر میں، بے اختیار گھڑی پر ایک نظر ضرور ڈالتا ہے۔ شاید اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ صرف وقت نہیں دیکھ رہا بلکہ اپنی زندگی کا ایک اور حصہ گزرتا ہوا دیکھ رہا ہوتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جسے قرآن نے صرف ایک لفظ میں سمیٹ دیا ہے: “وَالْعَصْرِ”۔
یہ محض ایک لفظ نہیں، ایک آئینہ ہے،ایسا آئینہ جس میں ہر انسان اپنی گزرتی ہوئی عمر، اپنے ادھورے خواب، اپنی بھولی ہوئی دعائیں اور اپنے اعمال کی صورت دیکھ سکتا ہے۔
قرآن کا اعجاز یہی ہے کہ وہ کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ کائنات آباد کر دیتا ہے۔ سورۂ العصر صرف تین آیات پر مشتمل ہے لیکن انسانی زندگی کا پورا فلسفہ اس کے دامن میں سمٹ آیا ہے۔ شاید اسی لیے امام شافعیؒ نے فرمایا کہ اگر لوگ صرف اسی سورہ پر غور کر لیتے تو ان کی ہدایت کے لیے یہی کافی تھی۔
ہم عام طور پر “العصر” کا ترجمہ “زمانے کی قسم” کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ نے قسم کے لیے “وقت” ہی کو کیوں منتخب فرمایا؟ آسمان، زمین، پہاڑ، سمندر اور بے شمار عظیم مخلوقات موجود تھیں، پھر وقت ہی کیوں؟
اس لیے کہ وقت وہ خاموش دریا ہے جس میں ہر انسان اپنی پوری زندگی بہا دیتا ہے۔
عربی زبان میں “ع ص ر” کا مادہ ایک اور لطیف مفہوم بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس سے رس نچوڑنے، کسی چیز کا جوہر نکالنے اور اس کے اندر چھپی حقیقت کو ظاہر کرنے کا تصور وابستہ ہے۔ اگرچہ مفسرین نے سورۂ العصر میں بنیادی معنی “زمانہ” ہی بیان کیے ہیں لیکن یہی لغوی مناسبت ہمیں ایک گہری معنوی حقیقت تک پہنچاتی ہے کہ وقت انسان کو بھی آہستہ آہستہ نچوڑتا رہتا ہے۔ وہ ہماری طاقتیں، ہماری جوانی، ہمارے مواقع اور ہماری مہلت کو خاموشی سے اپنے اندر سمیٹتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر میں صرف ہمارے اعمال باقی رہ جاتے ہیں۔
انگور جب تک خوشے میں ہوں، اپنی خوبصورتی پر ناز کرتے ہیں لیکن جب انہیں نچوڑا جاتا ہے تو ان کا اصل سامنے آتا ہے۔ اسی طرح انسان بھی آسائش، اقتدار اور جوانی میں اپنے بارے میں بہت کچھ سوچتا ہے مگر وقت جب اس پر اپنا ہاتھ رکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایمان کتنا تھا، صبر کتنا تھا، اخلاص کتنا تھا اور حقیقت کتنی تھی۔
شاید اسی لیے زندگی کو اگر ایک دن سے تشبیہ دی جائے تو بچپن اس کی فجر ہے، جوانی ظہر ہے، ادھیڑ عمر عصر ہے اور بڑھاپا مغرب۔ اس کے بعد رات آتی ہے اور ہر رات کے بعد ایک نئی صبح ضرور ہوتی ہے مگر انسان کی اس دنیا والی شام کے بعد جو صبح طلوع ہو گی وہ قیامت کی صبح ہو گی۔
عصر کا وقت عجیب ہوتا ہے۔ یہ نہ دن کی ابتدا ہے اور نہ اختتام بلکہ دونوں کے درمیان وہ پل ہے جہاں انسان پہلی مرتبہ محسوس کرتا ہے کہ واپسی کا سفر بھی شروع ہو چکا ہے۔ یہی کیفیت عمر کے ایک مرحلے پر بھی طاری ہوتی ہے۔ انسان ایک دن آئینے میں اپنے سفید ہوتے بال دیکھتا ہے، سیڑھیاں پہلے سے زیادہ تھکا دیتی ہیں، دوستوں کی محفلوں میں مرحوم لوگوں کا ذکر بڑھنے لگتا ہے اور دل کے کسی گوشے سے ایک آواز ابھرتی ہے کہ سفر اب آگے نہیں بلکہ پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔
لیکن قرآن صرف یہ نہیں کہتا کہ وقت گزر رہا ہے بلکہ فوراً اعلان کرتا ہے: “بے شک انسان خسارے میں ہے۔”
کتنا حیران کن اعلان ہے! دنیا کا ہر انسان اپنے آپ کو کچھ نہ کچھ حاصل کرنے والا سمجھتا ہے مگر قرآن کہتا ہے کہ اصل حقیقت خسارہ ہے۔ اس خسارے کی وجہ دولت کی کمی نہیں بلکہ عمر کے سرمائے کا کم ہوتے جانا ہے۔ دنیا کا ہر سرمایہ دوبارہ کمایا جا سکتا ہے مگر ایک گزرا ہوا لمحہ پوری کائنات کی دولت دے کر بھی واپس نہیں خریدا جا سکتا۔
پھر قرآن امید کا دروازہ بھی بند نہیں کرتا۔ خسارے سے نکلنے کے چار راستے بتاتا ہے: ایمان، نیک عمل، حق کی تلقین اور صبر کی تلقین۔ گویا کامیاب وہ نہیں جو صرف لمبی عمر پا لے بلکہ وہ ہے جو اپنی عمر کو معنی دے دے۔
یہی وجہ ہے کہ عصر کی نماز بھی محض ایک عبادت نہیں، ایک تربیت ہے۔ دن کی مصروفیت اپنے عروج پر ہوتی ہے، تجارت گرم ہوتی ہے، دفتر باقی ہوتا ہے، ملاقاتیں جاری ہوتی ہیں مگر انہی مصروف لمحوں میں مؤذن کی آواز انسان کو یاد دلاتی ہے کہ تمہاری سب سے بڑی مصروفیت تمہارا رب ہے اگر تم وقت کے مالک کو بھول گئے تو وقت تمہیں ضرور بھلا دے گا۔
آج کا انسان شاید پوری انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ مصروف ہے لیکن اسی قدر منتشر بھی ہے۔ اس کے دماغ میں دنیا کا علم تو موجود ہے مگر دل میں سکون کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے پاس رابطوں کے بے شمار ذرائع ہیں مگر تعلقات کمزور پڑ رہے ہیں۔ اس نے وقت بچانے والی ہزاروں ایجادات کر لیں، مگر وقت کی برکت کہیں کھو گئی۔ وجہ صرف ایک ہے کہ اس نے گھڑی کو سنبھال لیا مگر عمر کو سنبھالنے کا ہنر بھول گیا۔
سورۂ العصر دراصل انسان کو گھڑی دیکھنا نہیں خود کو دیکھنا سکھاتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ تم نے کتنے سال زندگی گزاری بلکہ یہ ہے کہ زندگی نے تمہارے اندر سے کیا نکالا؟ تمہاری روح میں کیا باقی رہ گیا؟ جب وقت نے تمہیں نچوڑا تو ایمان نکلا یا خواہش؟ خدمت نکلی یا خود غرضی؟ صبر نکلا یا شکایت؟
آخرکار ہر انسان کی زندگی میں ایک ایسا عصر ضرور آتا ہے جب وہ ماضی کے راستے پر کھڑا ہو کر پیچھے دیکھتا ہے۔ اس لمحے دولت، شہرت اور عہدے ساتھ نہیں چلتے، صرف اعمال ساتھ ہوتے ہیں۔ شاید اسی حقیقت کو قرآن نے صرف تین آیات میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔
وقت کبھی شور نہیں مچاتا، نہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ وہ خاموشی سے آتا ہے، خاموشی سے گزر جاتا ہے اور جاتے جاتے انسان کی پوری زندگی کا حساب اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔
سو خوش نصیب وہ ہے جو اس کے گزرنے سے پہلے اپنے رب کو پا لے۔ ورنہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب گھڑی تو چلتی رہتی ہے مگر مہلت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔
پس دانش مندی یہ نہیں کہ ہم صرف آنے والے کل کی منصوبہ بندی کرتے رہیں بلکہ یہ ہے کہ آج کے لمحے کو ابدی کامیابی کا وسیلہ بنا لیں کیونکہ قیامت کے دن انسان سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اس کے پاس کتنا وقت تھا بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ اسے جو وقت عطا کیا گیا، اس نے اسے کس مقصد کے لیے صرف کیا۔
شاید اسی لیے سورۂ العصر محض ایک سورت نہیں، ہر دھڑکتے دل کے لیے ایک مسلسل تنبیہ ہے، ایک ایسی صدا جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ہمیں پکارتی ہے کہ ابھی مہلت باقی ہے، ابھی دروازۂ توبہ کھلا ہے، ابھی اعمال کی کھیتی بوئی جا سکتی ہے لیکن یاد رہے، ایک دن ایسا بھی آئے گا جب وقت ختم ہو جائے گا، حساب شروع ہو جائے گا اور پھر حسرت کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان خوش نصیب لوگوں میں شامل فرمائے جو وقت کی قدر پہچانتے ہیں، ایمان و عملِ صالح کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، حق کی گواہی دیتے ہیں، صبر کو اپنا شعار بناتے ہیں اور جب ان کی زندگی کا سورج غروب ہو تو وہ اپنے رب سے اس حال میں جا ملیں کہ وہ ان سے راضی ہو اور وہ اپنے رب سے راضی ہوں۔
آمین ثم آمین یارب العالمین۔
column in urdu The Quiet Judgment of Time




