column in urdu Mashhad to Mashhad A Journey of Faith

” مشہد سے مشہد تک ” تنویر حسین
تاریخ کے صفحات پر کچھ نام محض افراد کے نہیں ہوتے، وہ اپنے عہد کی شناخت بن جاتے ہیں۔ ان کے فیصلے سرحدوں سے آگے اثر ڈالتے ہیں، ان کی سوچ نسلوں کے درمیان بحث کا موضوع بنتی ہے، اور ان کی زندگی ریاستوں کی سمت متعین کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔ 19 اپریل 1939ء کو عالم دین و مجتہد جواد خامنہ ای کے ہاں مشہد میں پیدا ہونے والے آیت اللہ العظمیٰ علی خامنہ ای بھی ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی وفات کی خبر نے صرف ایران ہی کو نہیں، بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر ان کا سفرِ حیات مشہد سے شروع ہو کر اسی شہر کی خاک میں اختتام پذیر ہوا، تو یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ تاریخ کا ایک علامتی دائرہ ہے—مشہد سے مشہد تک۔
علمی و دینی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے علی خامنہ ای نے کم عمری ہی سے علم و فکر کی راہ اختیار کی۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے عہد کے سیاسی حالات کو بھی گہری نظر سے دیکھا۔ شاہِ ایران کی حکومت کے خلاف جدوجہد، گرفتاریوں، جلاوطنی اور مسلسل نگرانی کے باوجود ان کے قدم نہیں ڈگمگائے۔ یہی استقامت انہیں 1979ء کے اسلامی انقلاب کے نمایاں کرداروں میں لے آئی۔
انقلاب کے بعد ایران کی سیاست نے کئی نشیب و فراز دیکھے، مگر 1989ء میں سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد علی خامنہ ای نے ایک ایسے دور کی بنیاد رکھی جس نے ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر گہرے نقوش چھوڑے۔ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک وہ صرف ایک مذہبی رہنما نہیں رہے بلکہ ریاستی طاقت، نظریاتی سمت اور قومی حکمتِ عملی کی علامت بن گئے۔
ان کے دور میں ایران نے سخت ترین معاشی پابندیوں، سفارتی دباؤ، سکیورٹی بحرانوں اور علاقائی کشیدگی کا سامنا کیا۔ اس کے باوجود ایران نے دفاعی ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور خود انحصاری کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی۔ ان کے حامی اسے استقامت، خودداری اور قومی وقار کی علامت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین سیاسی آزادیوں، انسانی حقوق اور بعض علاقائی پالیسیوں کے حوالے سے سخت سوالات اٹھاتے رہے۔ یہی اختلافِ رائے کسی بھی بڑے رہنما کی تاریخ کا حصہ ہوتا ہے، اور علی خامنہ ای بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔
فلسطین کا مسئلہ ان کی سیاسی فکر کا بنیادی ستون رہا۔ انہوں نے مسلسل فلسطینی عوام کی حمایت کو اپنی پالیسی کا محور بنایا اور اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ لبنان، شام، عراق اور خطے کے دیگر تنازعات میں ایران کے کردار کو بھی انہی کی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا۔ یہی پالیسیاں بعض حلقوں میں انہیں “محورِ مزاحمت” کا فکری معمار بناتی ہیں، جبکہ دوسرے حلقے انہیں خطے کی پیچیدہ کشیدگیوں کا ایک اہم فریق تصور کرتے ہیں۔
لیکن تاریخ کسی شخصیت کا فیصلہ نعروں سے نہیں کرتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ جذبات مدھم ہو جاتے ہیں اور حقائق بولنے لگتے ہیں۔ آنے والے برسوں میں مؤرخین ان کی کامیابیوں، ناکامیوں، فیصلوں اور اثرات کا نئے زاویوں سے جائزہ لیں گے۔ یہی تاریخ کا مزاج ہے کہ وہ نہ اندھی عقیدت قبول کرتی ہے اور نہ اندھی مخالفت۔
مشہد سے مشہد تک کا یہ سفر ہمیں ایک گہرا سبق بھی دیتا ہے۔ اقتدار دائمی نہیں، قوت ابدی نہیں، اور دنیا کی کوئی کرسی ہمیشہ کے لیے کسی کی نہیں ہوتی۔ آخرکار ہر انسان اپنی مٹی کی طرف لوٹ جاتا ہے، جبکہ اس کے اعمال، فیصلے اور نظریات تاریخ کے حوالے ہو جاتے ہیں۔
آج جب ایران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست نئی صف بندیوں کی طرف بڑھ رہی ہے، دنیا کی نظریں اس سوال پر مرکوز ہیں کہ اس خلا کو کون پُر کرے گا اور ایران کی آئندہ سمت کیا ہوگی۔ ان سوالات کے جواب وقت دے گا، مگر ایک حقیقت اپنی جگہ قائم رہے گی کہ مشہد سے اٹھنے والا یہ شخص اپنے پیچھے ایک ایسا سیاسی، مذہبی اور فکری ورثہ چھوڑ گیا ہے جس پر بحث آنے والی کئی دہائیوں تک جاری رہے گی۔
مشہد سے مشہد تک کا یہ سفر دراصل ایک فرد کی داستان نہیں، ایک عہد کی کہانی ہے؛ ایسا عہد جو اپنے حامیوں کے لیے استقامت کی علامت اور ناقدین کے لیے مسلسل سوالات کا عنوان رہا۔ مگر اس میں شبہ نہیں کہ تاریخ جب اکیسویں صدی کے مشرقِ وسطیٰ کا ذکر کرے گی تو علی خامنہ ای کا نام اس کے اہم ابواب میں ضرور درج ہوگا۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

آخر کون ذمہ دار؟؟ تنویر حسین

50% LikesVS
50% Dislikes

” مشہد سے مشہد تک ” تنویر حسین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں