column in urdu Free Nation, Not a Symbol

شاٹی اور ٹوپی آزاد قوم کا تاج ہیں، غلاموں کی وردی نہیں! افسانہ ناصر
گلگت بلتستان کی شاٹی اور ٹوپی صرف ایک لباس نہیں بلکہ ہماری ہزاروں سال پرانی تہذیب، ثقافت، غیرت، خودداری اور آزادی کی علامت ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے اس لباس کو عزت، وقار اور فخر کے ساتھ پہنا۔ یہ لباس کسی ماتحتی یا غلامی کی نہیں بلکہ ایک آزاد، بہادر اور باوقار قوم کی شناخت ہے۔
انتہائی افسوس کی بات ہے کہ آج گلگت بلتستان کے بعض سرکاری اور نجی اداروں میں شاٹی اور ٹوپی کو صرف نچلے درجے کے ملازمین کی وردی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اعلیٰ افسران خود یہ لباس نہیں پہنتے۔ اس عمل سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ہماری قومی ثقافت کو صرف ماتحت طبقے سے جوڑ دیا گیا ہے، جو گلگت بلتستان کے عوام کی توہین اور ثقافتی وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
اگر شاٹی اور ٹوپی ہماری شناخت ہیں تو پھر یہ عزت سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے، نہ کہ صرف چھوٹے ملازمین تک محدود۔ کسی بھی باوقار قوم کا قومی لباس کسی مخصوص درجے یا ملازمت کی علامت نہیں بنایا جاتا۔
ہم وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور تمام سرکاری اداروں کو ہدایت جاری کی جائے کہ شاٹی اور ٹوپی کو صرف نچلے درجے کے ملازمین کی لازمی وردی بنانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔ ہماری ثقافتی شناخت کو محکومی کی علامت بنانے کی ہر کوشش کی روک تھام حکومت کی ذمہ داری ہے۔
گلگت بلتستان کے عوام اپنی تہذیب، ثقافت اور قومی لباس پر فخر کرتے ہیں۔ ہم کسی صورت یہ برداشت نہیں کریں گے کہ ہماری شناخت کو ایک مخصوص ملازم کی وردی بنا کر اس کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو کم کیا جائے۔
شاٹی اور ٹوپی عزت، وقار اور آزادی کی علامت ہیں۔ ان کا احترام ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

مسیحا صرف علم سے نہیں، اخلاق سے بنتا ہے

تفریح کی دنیا کے نئے رجحانات. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا

” ہمیشہ اچھا وہی نہیں ہوتا جو مفید ہو . فروا وسیم اسوہ گرلز کالج سکردو

column in urdu Free Nation, Not a Symbol

50% LikesVS
50% Dislikes

شاٹی اور ٹوپی آزاد قوم کا تاج ہیں، غلاموں کی وردی نہیں! افسانہ ناصر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں