column in urdu Beyond Knowledge

مسیحا صرف علم سے نہیں، اخلاق سے بنتا ہے

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

طب صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت کا ایک مقدس عہد ہے۔ ڈاکٹر کے ہاتھ میں دوا ضرور ہوتی ہے، مگر اس کے لہجے میں نرمی، رویے میں احترام اور دل میں ہمدردی ہو تو یہی چیز مریض کے لیے پہلی دوا بن جاتی ہے۔ کئی مرتبہ ایک مسکراہٹ، تسلی کا ایک جملہ اور توجہ سے سنی گئی چند باتیں وہ اثر دکھا دیتی ہیں جو مہنگی دوائیں بھی نہیں کر پاتیں۔ افسوس کہ ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں بعض ڈاکٹر اپنے رویے سے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے مزید اذیت کا باعث بن جاتے ہیں، حالانکہ سفید کوٹ کی اصل شان علم کے ساتھ اعلیٰ اخلاق بھی ہیں۔

ایسے ماحول میں گلگت کے مادر اینڈ چائلڈ (MNCH) کمپلیکس میں خدمات انجام دینے والی لیڈی ڈاکٹر ابیہہ شاہد امید کی ایک روشن مثال ہیں۔ ان کا تعلق گلگت بلتستان کے تاریخی علاقے بونجی سے ہے۔ انہوں نے ایف ایس سی آرمی پبلک اسکول (APS) جٹیال، گلگت سے مکمل کی، جس کے بعد اپنی محنت اور قابلیت کی بدولت راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کیا۔ آج وہ مادر اینڈ چائلڈ کمپلیکس گلگت میں نہ صرف ایک قابل معالج کے طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں بلکہ اپنے اعلیٰ اخلاق، عاجزی اور خوش مزاجی سے مریضوں کے دل بھی جیت رہی ہیں۔

ڈاکٹر ابیہہ شاہد کی سب سے نمایاں خوبی ان کی انسان دوستی ہے۔ وہ ہر مریض کو پوری توجہ سے سنتی ہیں، اس کی کیفیت کو سمجھتی ہیں اور نہایت شفقت سے رہنمائی کرتی ہیں۔ ان کے کمرے سے صرف مریض ہی مطمئن ہو کر نہیں نکلتے بلکہ ان کے ساتھ آنے والے تیماردار بھی یہ احساس لے کر واپس جاتے ہیں کہ آج انہیں ایک ایسا ڈاکٹر ملا جس نے علاج کے ساتھ عزت، احترام اور اعتماد بھی دیا۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک ڈاکٹر کو محض معالج نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں مسیحا بناتے ہیں۔

طب کے شعبے میں آنے والی نئی نسل کے لیے ڈاکٹر ابیہہ شاہد ایک قابلِ تقلید مثال ہیں۔ وہ اپنے کردار سے یہ پیغام دیتی ہیں کہ بہترین ڈاکٹر وہ نہیں جس کے پاس صرف ڈگریاں ہوں، بلکہ وہ ہے جس کے پاس علم کے ساتھ اخلاق، انکساری، صبر اور خدمتِ خلق کا جذبہ بھی ہو۔ اگر ہمارے ہسپتالوں میں زیادہ ڈاکٹر اسی سوچ اور رویے کو اپنا لیں تو مریض صرف صحت یاب ہی نہیں ہوں گے بلکہ سرکاری ہسپتالوں پر عوام کا اعتماد بھی پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگا۔

معاشرے کو ایسے معالجوں کی قدر کرنی چاہیے جو اپنے علم سے جسم کا علاج اور اپنے اخلاق سے دلوں کا مرہم بنتے ہیں۔ ڈاکٹر ابیہہ شاہد ان خوش نصیب ڈاکٹروں میں شامل ہیں جنہیں مریض صرف نسخوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے حسنِ سلوک، خلوص اور انسان دوستی کی وجہ سے دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں۔ یہی ایک سچے مسیحا کی اصل پہچان ہے، اور یہی وہ معیار ہے جسے ہر نوجوان ڈاکٹر کو اپنا نصب العین بنانا چاہیے۔

column in urdu Beyond Knowledge

50% LikesVS
50% Dislikes

مسیحا صرف علم سے نہیں، اخلاق سے بنتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں