قرض مؤخر پر جشنِ کیسا ۔ایس ایم مرموی
قومیں بھی عجیب ہوتی ہیں مگر ہم شاید ان سب میں بھی انوکھے ہیں ہمارے ہاں اگر قرض اتر جائے تو خوشی سمجھ میں آتی ہے مگر اب تو قرض کی صرف تاریخ آگے بڑھ جائے تو ڈھول بجنے لگتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خزانے سونے سے بھر گئے ہوں غربت تاریخ کا حصہ بن گئی ہو اور معاشی انقلاب دروازے پر دستک دے رہا ہو حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرض نہ ختم ہوا ہے نہ معاف ہوا ہے نہ اس میں کوئی معجزاتی کمی آئی ہے صرف اتنا ہوا ہے کہ قرض خواہ نے کہا ابھی نہیں، کچھ عرصہ بعد دے دینا
یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی ساہوکار مقروض کے دروازے پر آئے مقروض ہاتھ جوڑ کر ایک مہینے کی مہلت مانگے اور ساہوکار مان جائے اگر اس کے بعد پورا محلہ مبارک باد دینے آ جائے تو یقیناً لوگ اس محلے کی عقل پر سوال اٹھائیں گے لیکن قومی سطح پر یہی منظر ہمیں معمول لگنے لگا ہے بلکہ ہم اس ادھوری خوشی کے عادی مجرم بن گئے ہیں ہم نے اپنی سوچ کا معیار اس قدر گرا لیا ہے کہ اصل کامیابی اور وقتی ریلیف میں فرق کرنا بھول گئے ہیں۔ قرض لینا مجبوری ہو سکتی ہے مگر قرض پر فخر کرنا یا اس کی قسط مؤخر ہونے پر جشن منانا ذہنی غلامی کی بدترین علامت ہے غلام صرف زنجیروں سے نہیں پہچانے جاتے بعض اوقات وہ مسکراتے ہوئے اپنی زنجیروں کو ہی زیور سمجھنے لگتے ہیں۔
افسوس اس بات کا بھی ہے کہ ہمیں خوشیوں کے نئے پیمانے سکھا دیے گئے ہیں کبھی خوشی اس وقت ہوتی تھی جب نئی فیکٹری لگتی نئی یونیورسٹی بنتی کوئی سائنسی ایجاد ہوتی برآمدات بڑھتیں یا بے روزگار کو روزگار ملتا آج خوشی اس بات پر ہوتی ہے کہ مزید قرض مل گیا قسط مؤخر ہو گئی یا ایک اور مالیاتی بیساکھی ہاتھ آ گئی یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر وہ کون سے معاشی جادوگر ہیں جو ہر چند سال بعد قوم کو اسی مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں خزانہ خالی، صنعت کمزور، مہنگائی بے قابو اور دروازہ پھر کسی قرض دینے والے کے سامنے کھلا ہوتا ہے اگر ہر بار قرض ہی نجات ہے تو پھر ترقی کہاں ہے؟ اگر ہر حکومت اپنے بعد قرضوں کا پہاڑ چھوڑ جاتی ہے تو جشن کس بات کا؟
اصل خوشی اس دن ہوگی جب کسی وزیر کو بیرونِ ملک قرض مانگنے نہ جانا پڑے جب قومی بجٹ کسی عالمی ادارے کی شرائط پر نہیں بلکہ عوام کی ضرورتوں کے مطابق بنے جب نوجوان نوکری کے لیے دربدر نہ پھریں جب صنعت کار اعتماد سے سرمایہ کاری کرے اور کسان اپنے کھیت میں خوشحال نظر آئے قرض کی مؤخر قسط پر خوشی منانا دراصل اس مریض کی مسکراہٹ ہے جسے دوا نہیں ملی صرف ڈاکٹر نے اگلی تاریخ دے دی بیماری وہیں کی وہیں ہے درد بھی باقی ہے اور علاج بھی ابھی شروع نہیں ہوا قوموں کی عظمت قرض کے کاغذات پر نہیں لکھی جاتی بلکہ محنت، دیانت، علم، انصاف اور خود انحصاری کے اوراق پر رقم ہوتی ہے جس دن ہم یہ فرق سمجھ گئے شاید اس دن قرض کی مہلت پر نہیں بلکہ قرض سے نجات پر جشن منائیں گے اور وہی دن حقیقی آزادی، حقیقی خودداری اور حقیقی خوشحالی کا دن ہوگا۔
ہماری اجتماعی نفسیات کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم اصل کامیابی اور وقتی ریلیف میں فرق کرنا بھول چکے ہیں ہمیں وقتی مہلت بھی فتح محسوس ہوتی ہے حالانکہ یہ صرف سانس لینے کے لیے چند لمحوں کی گنجائش ہوتی ہے قرض لینے والا اگر خوشی منائے تو سمجھ آتی ہے مگر قرض مؤخر ہونے پر جشن منانا ایسی ذہنی کیفیت کی علامت ہے جو قوموں کو ترقی کے بجائے خود فریبی کی طرف لے جاتی ہے قرض کبھی بھی ترقی کی علامت نہیں ہوتا ترقی اس وقت ہوتی ہے جب ایک ملک اپنے وسائل۔اپنی صنعت اپنی زراعت، اپنی تعلیم اپنی ٹیکنالوجی اور اپنی افرادی قوت کے بل بوتے پر کھڑا ہو جب بجٹ بنانے سے پہلے عالمی مالیاتی اداروں کی طرف دیکھنا پڑے جب ہر بڑے منصوبے کے لیے بیرونی قرض درکار ہو جب تنخواہیں اور اخراجات بھی ادھار سے پورے کیے جائیں تو یہ جشن کا نہیں خود احتسابی کا لمحہ ہوتا ہے بلکہ ڈوب مرنے کا لمحہ ہوتا ہے حقیقت یہ ہے کہ قرض کی مؤخر ادائیگی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کی مدت میں اضافہ ہے اصل سوال یہ ہے کہ آخر وہ حالات کیوں پیدا ہوتے ہیں کہ ایک ریاست بار بار قرض لینے پر مجبور ہو؟ وسائل کہاں جاتے ہیں؟ بدعنوانی کا احتساب کیوں نہیں ہوتا؟ قومی دولت چند ہاتھوں تک کیوں محدود رہتی ہے؟ ٹیکس دینے والے کم اور مراعات لینے والے زیادہ کیوں ہیں؟ جب تک ان سوالات کے جواب نہیں ڈھونڈے جائیں گے ہر مؤخر شدہ قرض آنے والی نسلوں کے گلے میں ایک نیا طوق بن کر لٹکتا رہے گا۔
قوموں کی عزت قرضوں کے انبار سے نہیں بلکہ خود انحصاری سے بنتی ہے تاریخ گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنے وسائل کو درست سمت دی محنت، دیانت اور منصوبہ بندی کو شعار بنایا وہ دنیا کی صفِ اول میں جا کھڑے ہوئے اور جنہوں نے قرضوں کو ترقی کا متبادل سمجھ لیا وہ ہمیشہ دوسروں کے دروازوں پر دستک دیتے رہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وقتی خبروں پر بے جا جشن منانے کے بجائے اصل حقائق کو سمجھیں قرض مؤخر ہونا کوئی اقتصادی معجزہ نہیں بلکہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہماری معیشت ابھی اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکی حقیقی خوشی اس دن ہوگی جب ہمیں قرض لینے یا مؤخر کرانے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو، جب ہماری معیشت اتنی مضبوط ہو کہ ہم اپنے فیصلے خود کریں اپنی ترجیحات خود طے کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو قرضوں کے بوجھ کے بجائے خوشحال مستقبل دے کر جائیں ورنہ قرض کی ہر مؤخر قسط پر خوشیاں منانے والے یہ یاد رکھیں کہ قرض کی تاریخ ضرور بدلتی ہے، لیکن قرض کبھی اپنا راستہ نہیں بھولتا.
شگر کے ٹو بیس کیمپ سے سکردو تک چار روز میں دوڑ، ایشین چیمپئن جمال سیڈ نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
column in urdu Celebrating Loan Deferrals




