دلوں سے کردار تک، رحمت للعالمین . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
تاریخ کے افق پر بے شمار شخصیات طلوع ہوئیں۔ کچھ نے تلوار کے زور پر سلطنتیں قائم کیں، کچھ نے علم و فلسفے سے ذہنوں کو متاثر کیا، کچھ نے سیاست کے میدان میں اپنی دھاک بٹھائی مگر ایک ہستی ایسی ہے جس کی عظمت کا دائرہ نہ کسی خطۂ زمین تک محدود ہے، نہ کسی عہد کی سرحد تک محیط ہے۔ وہ ہستی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے، جنہیں ربِ کائنات نے محض ایک قوم، ایک خطے یا ایک زمانے کے لیے نہیں بلکہ تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔
قرآنِ مجید کا اعلان ہے: ترجمہ: اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔
یہ آیت دراصل سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرکزی عنوان ہے۔ آپ کی زندگی کا ہر گوشہ رحمت سے روشن ہے۔ عبادت میں رحمت، معاملات میں رحمت، تعلیم میں رحمت، قیادت میں رحمت، دشمنوں کے ساتھ رحمت، بچوں کے ساتھ رحمت، عورتوں کے ساتھ رحمت، کمزوروں کے ساتھ رحمت، حتیٰ کہ بے زبان مخلوق کے ساتھ بھی رحمت۔
لیکن آج، جب ہم رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتے ہیں، تو ایک سوال ہمارے سامنے پوری شدت سے کھڑا ہوتا ہے، کیا یہ رحمت ہمارے دلوں سے گزر کر ہمارے کردار تک بھی پہنچی ہے؟
یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ محبت کا سب سے معتبر ثبوت زبان نہیں، عمل ہوتا ہے۔ چراغ کی روشنی کا ثبوت یہ نہیں کہ ہم اس کی تعریف کریں، اصل ثبوت یہ ہے کہ اس کے گرد کا اندھیرا کم ہو۔ اسی طرح عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حقیقی ثبوت یہ ہے کہ ہماری ذات سے کسی دوسرے انسان کے لئے آسانی، خیر، امن اور محبت پیدا ہو۔
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں نعتیں پڑھتے ہیں، درود و سلام بھیجتے ہیں، محافل سجاتے ہیں اور عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں، یہ سب محبت کے خوبصورت اظہار ہیں مگر سیرت کا اصل تقاضا اس وقت سامنے آتا ہے جب زندگی ہمیں آزماتی ہے۔۔جب غصہ آتا ہے، جب کوئی ہمارے حق پر قابض ہو جاتا ہے، جب کوئی ہماری مخالفت کرتا ہے، جب ہمارے پاس کسی کمزور پر اختیار آ جاتا ہے، جب سچ بولنے سے نقصان اور جھوٹ بولنے سے فائدہ ہونے لگتا ہے، تو پھر وہیں فیصلہ ہوتا ہے کہ ہمارے دل میں سیرت کتنی اتری ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ اخلاق کوئی اضافی خوبی نہیں بلکہ ایمان کے حسن کا بنیادی اظہار ہے۔ آپ نے لوگوں کے دلوں کو صرف الفاظ سے نہیں جیتا، آپ کے کردار نے لوگوں کو اپنی طرف کھینچا۔ صداقت، امانت، عفو، عدل، شفقت، تواضع اور حسنِ معاشرت آپ کی شخصیت میں ایسے گھلے ملے تھے جیسے خوشبو پھول میں۔
نبوت سے پہلے بھی اہلِ مکہ آپ کو صادق و امین کہتے تھے۔ غور کیجیے، وحی کے نزول سے پہلے ہی آپ کا کردار آپ کی سچائی کی گواہی دے رہا تھا۔ گویا سیرت کا پہلا سبق یہی ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کی آواز، لباس یا دعوے نہیں بلکہ اس کا کردار ہے۔
آج ہمارے معاشرے کو اسی کردار کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ہم شکایت کرتے ہیں کہ معاشرے میں بدعنوانی ہے، جھوٹ ہے، ملاوٹ ہے، ناانصافی ہے، عدم برداشت ہے، رشتوں میں تلخی ہے، زبانوں میں زہر ہے مگر معاشرہ آخر بنتا کن افراد سے ہے؟ اگر ہر شخص دوسرے کی اصلاح کا منتظر رہے اور اپنی اصلاح کو مؤخر کرتا رہے تو تبدیلی کا آغاز کہاں سے ہوگا؟
سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں بتاتی ہے کہ تبدیلی کا سفر ہمیشہ فرد کے اندر سے شروع ہوتا ہے۔
ایک نرم دل انسان ایک گھر بدل سکتا ہے۔ ایک دیانت دار شخص ایک ادارے کا ماحول بدل سکتا ہے۔ ایک منصف مزاج حاکم ایک معاشرے کی سمت بدل سکتا ہے۔
اور ایک باکردار نسل پوری قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسان کی تعمیر کو بنیادی اہمیت دی۔ آپ نے ایک ایسی جماعت تیار کی جس کے افراد کے دل اللہ سے جڑے ہوئے اور معاملات انسانوں کے ساتھ درست تھے۔ عبادت نے انہیں زمین سے کاٹا نہیں بلکہ زمین پر ذمہ دار بنایا۔
یہاں سیرت کا ایک نہایت اہم پہلو سامنے آتا ہے: رحمت کمزوری نہیں، اخلاقی قوت کا نام ہے۔
طائف میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لہولہان کیا گیا۔ جسم زخمی تھا، دل پر غم کے پہاڑ تھے مگر زبان پر بددعا کے بجائے خیرخواہی تھی۔ یہ منظر انسانی تاریخ میں رحمت کی ایسی بلند مثال ہے جس کی کوئی دوسری مثال آسانی سے نہیں ملتی۔ انسان عموماً طاقت نہ ہونے پر صبر کرتا ہے لیکن جب بدلہ لینے کی طاقت حاصل ہو اور پھر بھی معافی اختیار کرے، تو یہ اصل کردار کی بلندی ہے۔
پھر فتحِ مکہ کا منظر دیکھیے۔
وہی مکہ جس نے آپ اور آپ کے ساتھیوں پر ظلم کے دروازے کھولے تھے، وہی مکہ آج آپ کے سامنے تھا۔ فاتح کے پاس مکمل اختیار تھا مگر انتقام کی جگہ عفو نے لے لی۔ تاریخ نے دیکھا کہ جس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ سے ہجرت پر مجبور کیا گیا تھا، وہ فاتح بن کر واپس آئے تو فتح کو انتقام کا ذریعہ نہیں بلکہ دلوں کی فتح کا وسیلہ بنا دیا۔ یہ واقعہ ہمارے لیے صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، ایک زندہ اخلاقی دستور ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں کتنے ہی چھوٹے چھوٹے مکے آباد ہیں۔ گھر میں، خاندان میں، دفتر میں، کاروبار میں، سیاست میں، سوشل میڈیا پر۔ کہیں معمولی اختلاف دشمنی بن جاتا ہے، کہیں انا رشتوں کو کھا جاتی ہے، کہیں ایک غلط فہمی برسوں کی محبت پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ ہم معاف کرنے سے پہلے سو دلیلیں مانگتے ہیں مگر سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ دل بڑا ہو تو انسان ماضی کے زخموں پر مستقبل کے پھول اگا سکتا ہے۔
رحمت کا یہی مفہوم ہمارے گھروں کے لئے بھی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچوں سے محبت فرماتے، ان کے جذبات کا خیال رکھتے، ان کے ساتھ شفقت سے پیش آتے۔ آپ نے عورتوں کے حقوق کو اہمیت دی، غلاموں اور کمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی، پڑوسی کے حق کو بار بار اجاگر کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیرت کسی مخصوص عبادت گاہ تک محدود نہیں، یہ گھر کی دہلیز سے بازار کی گلی، بازار سے دفتر، دفتر سے عدالت اور عدالت سے اقتدار کے ایوان تک پھیلنے والا اخلاقی نظام ہے۔
اگر ایک شخص مسجد میں نرم اور گھر میں سخت ہے تو سیرت کا نور ابھی اس کے کردار تک نہیں پہنچا۔
اگر کوئی شخص عبادت میں آگے اور معاملات میں دھوکے باز ہے تو اسے اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔
اگر کوئی شخص اپنے نظریے کی محبت میں دوسروں کی عزت بھول جائے تو اسے رحمتُ للعالمین ﷺ کی سیرت دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔
کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اختلاف کے باوجود انسان کی حرمت کو پامال نہیں ہونے دیا۔
آج ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہماری انگلیاں چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ ایک جملہ لکھتے ہیں اور وہ لمحوں میں پھیل جاتا ہے۔ یہی زبان اگر خیر کا ذریعہ بن جائے تو کتنے دلوں کو جوڑ سکتی ہے اور اگر نفرت کا ہتھیار بن جائے تو کتنے دل زخمی کر سکتی ہے۔
ایسے دور میں سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔
ہمیں اپنی زبان کو نبوی اخلاق سے، اپنی تجارت کو نبوی دیانت سے، اپنی سیاست کو نبوی عدل سے، اپنے گھروں کو نبوی شفقت سے اور اپنے اختلافات کو نبوی حلم سے آراستہ کرنا ہوگا۔ فطرت کا نظام بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔ سورج اپنی روشنی تقسیم کرتے ہوئے یہ نہیں پوچھتا کہ کون مستحق ہے۔ بادل برسنے سے پہلے زمین کی حیثیت نہیں دیکھتا۔ درخت اپنے سائے میں آنے والے سے شناخت نہیں پوچھتا۔ دریا اپنے کنارے پر کھڑے شخص کا مرتبہ معلوم نہیں کرتا۔ فطرت کا حسن اس کی فیاضی میں ہے اور رحمت کا حسن بھی اس کی وسعت میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت بھی ایسی ہی وسیع تھی۔
اسی لئے آپ کی سیرت کو محض ماضی کا قصہ سمجھنا ایک بڑی فکری غلطی ہے۔ سیرت آج بھی زندہ ہے مگر کتاب کے صفحات میں نہیں؛ اس انسان کے کردار میں جو سچ بولتا ہے، اس شخص کے ہاتھ میں جو کمزور کو سہارا دیتا ہے، اس تاجر کے ترازو میں جو کمی نہیں کرتا، اس حاکم کے فیصلے میں جو انصاف کرتا ہے، اس باپ کی شفقت میں جو بچے کی عزتِ نفس محفوظ رکھتا ہے اور اس شخص کے دل میں جو بدلہ لینے کی طاقت کے باوجود معاف کر دیتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں محبت عقیدت سے عمل بنتی ہے۔
ہمیں آج ایک نئے عہد کی ضرورت ہے۔ ایسا عہد جس میں سیرت صرف تقریروں کا موضوع نہ ہو بلکہ کردار کی بنیاد بنے۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں بتانا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرو؛ انہیں یہ بھی دکھانا چاہیے کہ محبت کیسے انسان کو سچا، نرم، دیانت دار، باحیا، عادل اور بااخلاق بناتی ہے۔
انہیں بتانا ہوگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا مطلب یہ ہے کہ کمزور تم سے محفوظ رہے، پڑوسی تم سے مطمئن رہے، تمہارا کاروباری شریک تمہاری دیانت پر اعتماد کرے، تمہارا ماتحت تمہارے ظلم سے خوف زدہ نہ ہو اور تمہاری زبان کسی بے گناہ کے لیے تلوار نہ بنے۔
ہم اگر واقعی رحمت للعالمین کی امت ہیں تو ہماری ذات سے بھی رحمت کا کوئی چشمہ پھوٹنا چاہئے ۔
اگر ایک مسافر کو راستہ ملے،
ایک غریب کو سہارا ملے،
ایک یتیم کو شفقت ملے،
ایک مقروض کو مہلت ملے،
ایک غلطی کرنے والے کو اصلاح کا موقع ملے،
ایک مخالف کو انصاف ملے،
اور ایک ٹوٹے ہوئے دل کو ہماری زبان سے تسلی ملے۔
تب سیرت ہمارے اندر زندہ ہوگی۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دلوں میں ایک آئینہ رکھیں اور ہر روز خود سے پوچھیں: کیا میرے کردار میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی جھلک دکھائی دیتی ہے؟
اگر جواب ہاں ہے تو شکر کیجئے اور سفر جاری رکھیے۔ اگر جواب نفی میں ہے تو مایوس نہ ہوں، رحمت کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔ سیرت کا راستہ ہمیشہ واپسی کا راستہ بھی ہے، دل سے کردار کی طرف، دعوے سے عمل کی طرف، محبت سے اطاعت کی طرف اور فرد سے معاشرے کی اصلاح کی طرف، آخرکار ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا سب سے خوبصورت پھول ہماری زبان پر نہیں، ہمارے کردار میں کھلتا ہے۔
محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر دل میں چراغ ہے تو اخلاق اس کی روشنی ہے؛ اگر سیرت راستہ ہے تو کردار اس کے قدم ہیں اور اگر رحمتُ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری نسبت کا اعزاز ہیں تو رحمت، عدل، دیانت اور شفقت ہماری زندگی کی پہچان ہونی چاہئے ۔
یہی سفر ہے۔۔۔ دلوں سے کردار تک،کردار سے معاشرے تک
اور معاشرے سے ایک ایسے روشن مستقبل تک جہاں انسان، انسان کے لیے خوف نہیں بلکہ رحمت بن جائے۔
شاید یہی وہ لمحہ ہوگا جب ہماری زبان سے ادا ہونے والا درود ہمارے عمل سے بھی سنائی دے گا اور دنیا ہمیں صرف یہ کہتے ہوئے نہیں دیکھے گی کہ ہم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتے ہیں بلکہ ہمارے کردار کو دیکھ کر محسوس کرے گی کہ ہم نے رحمتُ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے کچھ سیکھا بھی ہے۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں. حادثے بے سبب نہیں ہوتے. نجف علی اسکردو
شادیاں اور اسکردو! . طہٰ علی تابش بلتستانی
Mercy to the Worlds




