کمسن بچے غیر محفوظ کیوں؟ بڑھتے جرائم پر ایک سنجیدہ سوال . اشرف حسین شگری۔
پچھلے کچھ عرصے سے اخبارات کی سرخیاں ہوں یا سوشل میڈیا کی ٹائم لائنز، ہر طرف ایک ہی تشویشناک رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے: کمسن اور معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ۔ یہ خبریں پڑھ کر دل دہل جاتا ہے کہ آخر وہ بچے جو ابھی دنیا کو سمجھنا بھی شروع نہیں کر پائے، کس بے دردی سے ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ سوال زیادہ شدت سے سر اٹھاتا ہے کہ آخر ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے، اور ہم اپنے بچوں کو کس ماحول میں پروان چڑھا رہے ہیں۔
اس صورتحال پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے، لیکن صرف افسوس کافی نہیں، ضروری ہے کہ ہم ٹھنڈے دل سے ان وجوہات کا جائزہ لیں جو اس بگاڑ کو جنم دے رہی ہیں۔
اگر غور کیا جائے تو اس کی چند بنیادی وجوہات سامنے آتی ہیں۔ ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔ جو پلیٹ فارم آگاہی اور اصلاح کا ذریعہ بننا چاہیے تھا، وہ اکثر اس کے برعکس کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔ کسی واقعے کی خبر پھیلتے ہی اسے اس طرح دکھایا اور دہرایا جاتا ہے کہ وہ سبق بننے کے بجائے کمزور اور ناپختہ ذہنوں کے لیے ایک راستہ بن جاتی ہے۔ ایسے مواد کی بھرمار جو نہ عمر کا لحاظ رکھتی ہے، نہ شائستگی کا، معاشرتی سوچ کو مزید بگاڑنے کا سبب بن رہی ہے۔ دوسری بڑی وجہ والدین کی جانب سے نگرانی میں کمی ہے۔ رات گئے تک بچوں اور نوجوانوں کا بلا مقصد باہر گھومنا، غیر ضروری صحبتیں اختیار کرنا، اور موبائل فون پر گھنٹوں گزارنا، یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گھروں میں پوچھ گچھ کا سلسلہ کمزور پڑ چکا ہے۔ جب بچے کے آس پاس کے ماحول، دوستوں اور سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھی جاتی، تو یہی بے خبری مجرم ذہنیت کے لیے موقع بن جاتی ہے۔ تیسری وجہ تربیت کا خلا ہے۔ کبھی گھروں میں بڑے بزرگوں کی موجودگی میں بچوں کو اخلاقیات، دین، اور محتاط رویے کا سبق دیا جاتا تھا۔ آج یہ جگہ اسکرین نے لے لی ہے۔ ہر ہاتھ میں موبائل ہے، مگر ہر گھر میں نگرانی نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے جسمانی طور پر موجود ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں والدین کی رسائی نہیں ہوتی۔ اس نازک مسئلے کا حل کسی ایک فریق کے پاس نہیں۔ سب سے پہلے یہ ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ باقاعدہ بات چیت رکھیں، ان کے دوستوں اور سرگرمیوں سے آگاہ رہیں، اور انہیں محفوظ رہنے کے بنیادی اصول سکھائیں۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا پر پھیلنے والے مواد کو ذمہ داری سے پیش کرنا اور بچوں کی انٹرنیٹ تک رسائی کو مانیٹر کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسکولوں اور معاشرتی اداروں کو بھی بچوں کی حفاظت سے متعلق آگاہی کے پروگرام ترتیب دینے چاہئیں تاکہ بچے خود بھی اپنی حفاظت کے بنیادی اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
اس ضمن میں ریاستی اداروں اور عدالتی نظام کی ذمہ داری کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جو عناصر اس گھناؤنے جرم میں ملوث پائے جائیں، انہیں سزاوار اور مستقل بنیادوں پر ایسی سخت سزا دی جائے جو ان کے جرم کے شایانِ شان ہو، اور اس میں کسی قسم کی نرمی یا کمی کی کوئی گنجائش نہ چھوڑی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جس طرح جرم کی خبر لمحوں میں میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچ جاتی ہے، بالکل اسی طرح مجرم کو دی جانے والی سزا کو بھی سرِعام اور نمایاں طور پر پیش کیا جائے تاکہ ہر شخص کو معلوم ہو کہ انصاف کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ جب لوگ جرم کے ساتھ ساتھ اس کی سزا کو بھی اسی شدت سے دیکھیں گے، تو یہی چیز ایک مؤثر عبرت بنے گی اور معاشرے میں یہ پیغام جائے گا کہ اس نوعیت کے جرم کا انجام یقینی اور سخت ہے، جس سے دیگر افراد اس گھناؤنے راستے پر جانے سے باز رہیں گے۔
یہ وقت خاموش تماشائی بننے کا نہیں، بلکہ عملی اقدام اٹھانے کا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے، اور اسے نبھانے میں جتنی تاخیر ہوگی، نقصان اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔
آیت نور اور ایزل کی چیخیں: کیا ہم ان کے خاموش قاتلوں کو پہچاننے کے لیے تیار ہیں؟ سیدہ فضہ بتول
محمد ﷺ 12 ربیع الاول، سرورِ انبیاء، تاجدارِ حرم.بتول فاطمہ
Young Children Unsafe




