وہ کون ہے جو آسمان کے پار سے ہمیں دیکھ رہا ہے؟ سیدہ فضہ بتول
”رات کی تاریکی میں جب آپ اکیلے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں، تو ایک لمحے کے لیے رک کر سوچئے… کیا واقعی اس وقت کوئی اور بھی کسی نامعلوم سیارے سے بالکل اسی طرح ہماری طرف دیکھ رہا ہے، یا ہم انسان اس بے انتہا اور بھیانک سنسان کائنات میں بالکل تنہا اور اکیلے ہیں؟”
یہ وہ تاریخی اور سنسنی خیز سوال ہے جس نے عظیم ماہرِ فلکیات کارل ساگن (Carl Sagan) سے لے کر آج کے جدید سائنس دانوں تک، ہر سوچنے والے ذی روح کو شدید حیرت اور تذبذب میں ڈال رکھا ہے۔ کارل ساگن نے ایک بار کہا تھا: “اگر اس لامتناہی کائنات میں صرف ہم ہی رہتے ہیں… تو سوچئیے کہ باقی تمام وسعتیں کس قدر بے مقصد اور ضائع ہیں!” جب ہم رات کے سناٹے میں آسمان پر چمکتے ہوئے بے شمار ستاروں کو دیکھتے ہیں، تو انسان کے دل و دماغ میں خود بخود یہ سوال سر اٹھانے لگتا ہے کہ کیا اس اتنی وسیع اور بھری ہوئی کائنات کی کسی نامعلوم گہرائی میں کوئی اور بھی موجود ہے؟
سائنس کی دنیا میں اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے محض مفروضوں اور خیال آرائی پر انحصار نہیں کیا جاتا، بلکہ جدید ترین سائنسی آلات، فلکیاتی ریاضی اور معتبر اعداد و شمار کا سہارا لیا جاتا ہے۔ فلکیات کے ماہرین کے مطابق ہماری اپنی کہکشاں، یعنی ملکی وے (Milky Way) میں اندازاً 100 سے 400 ارب ستارے موجود ہیں۔ ناسا کی مشہور ‘کیپلر خلائی ٹیلی سکوپ’ اور حالیہ ‘جیمز ویب ٹیلی سکوپ’ کے بھیجے گئے سائنسی ڈیٹا نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہماری کہکشاں میں ستاروں سے بھی زیادہ سیارے موجود ہیں۔ سائنسی تخمینوں کے مطابق، صرف ہماری کہکشاں میں کم از کم 300 ملین (30 ارب) ایسے سیارے ہو سکتے ہیں جو اپنے متعلقہ ستارے سے بالکل مناسب فاصلے پر واقع ہیں۔ سائنسی اصطلاح میں اس مخصوص فاصلے کو “قابلِ رہائش زون” (Habitable Zone) یا “گولڈی لاکس زون” کہا جاتا ہے، جہاں کا درجہ حرارت نہ تو بہت زیادہ گرم ہوتا ہے اور نہ ہی بہت سرد، اور جہاں سطح پر پانی کا مائع حالت میں موجود ہونا ممکن ہوتا ہے۔
اگر ہم اپنی کہکشاں سے باہر نکل کر مشاہدہ کریں، تو قابلِ مشاہدہ کائنات (Observable Universe) میں دو کھرب سے زائد کہکشائیں موجود ہیں۔ ریاضیاتی نقطہ نظر سے اگر ہر کہکشاں میں زندگی کے امکان کو محض صفر کے قریب بھی مان لیا جائے، تب بھی کائنات کا حجم اتنا بڑا ہے کہ اربوں سیاروں پر زندگی کے پنپنے کے حالات بنتے ہیں۔ ماہرِ فلکیات فرینک ڈریک نے 1961 میں “ڈریک مساوات” (Drake Equation) پیش کی تھی، جس کے ذریعے ہم اپنی کہکشاں میں ایسی متوقع خلائی تہذیبوں کی تعداد کا حساب لگا سکتے ہیں جو ہم سے رابطہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ اس مساوات کے نتائج بھی یہی بتاتے ہیں کہ کائنات میں ہم اکیلے نہیں ہو سکتے۔
لیکن پھر ایک بہت بڑا اور اہم سوال سامنے آتا ہے: اگر اس لامتناہی کائنات میں زندگی کے وجود کے امکانات اتنے زیادہ ہیں، تو ہم سے آج تک کسی بھی خلائی مخلوق یا باہر کی تہذیب نے رابطہ کیوں نہیں کیا؟ فلکیات کی تاریخ میں اس تضاد اور معمے کو “فرمی پیراڈوکس” (Fermi Paradox) کہا جاتا ہے۔ سنہ 1950 میں مشہور اطالوی فزکس دان اینریکو فرمی نے اپنے ساتھی سائنس دانوں سے ایک سادہ مگر گہرا سوال پوچھا تھا: “اگر کائنات میں ذہین زندگی اتنی ہی عام ہے، تو آخر باقی سب کہاں ہیں؟”
سائنس دانوں اور فلکیاتی محققین نے اس گہرے سائنسی معمے کے کئی منطقی اور تکنیکی جوابات فراہم کیے ہیں:
فاصلوں کی لامتناہی دیوار: کائنات کا حجم ہماری سوچ سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ سب سے قریب ترین ستارہ بھی ہم سے کئی نوری سال کی دوری پر ہے۔ اگر کسی دوسرے سیارے سے کوئی سگنل یا پیغام روانہ بھی کیا جائے، تو اسے ہم تک پہنچنے میں لاکھوں یا کروڑوں روشنی کے سال (Light Years) درکار ہوں گے۔
وقت کا عظیم تفاوت: کائنات کی عمر تقریباً 13.8 ارب سال ہے۔ انسان نے ریڈیو اور خلائی ٹیکنالوجی صرف پچھلی ایک صدی میں حاصل کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم سے پہلے کئی عظیم خلائی تہذیبیں وجود میں آ کر ختم ہو چکی ہوں، یا پھر ابھی شروعاتی مرحلے میں ہوں۔
تکنیکی وسائل کی حدود: ہم انسان ابھی تک خلا میں معلومات کے لیے زیادہ تر ریڈیو لہروں اور روایتی سگنلز پر انحصار کر رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ دیگر جدید تہذیبیں کسی ایسے ذرائع ابلاغ یا ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہوں جس کا تصور یا ادراک کرنے کی صلاحیت ابھی ہمارے پاس موجود ہی نہ ہو۔
فلکیاتی تحقیقات، حیاتیاتی کیمیا اور خلائی سائنس کے تمام معتبر دلائل یہ ثابت کرتے ہیں کہ مادے سے زندگی کا وجود میں آنا محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں، بلکہ کائنات کا ایک قدرتی اور باقاعدہ کیمیائی عمل ہو سکتا ہے۔ سائنس کا یہ عزم برقرار ہے کہ جب تک کوئی حتمی ثبوت یا رابطہ قائم نہیں ہو جاتا، یہ لامتناہی اور پراسرار خلا انسان کو ہمیشہ عاجزی، تجسس اور آگے بڑھ کر نئی حقیقتیں تلاش کرنے کا درس دیتی رہے گی۔
سپریم کورٹ کا بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آج ہی شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم
اوصاف شاہین بھید سرفرازی. محمد اقبال شافی
بے مقصد اور بامقصد زندگی میں فرق . شبیر حسین کمال
عنوان :دل کے چار خانے . ثمرین بی بی
ہجرت کے بعد اردو سے میرا رشتہ: امریکا میں اردو ادب کی نئی جہات. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
Watching Us from Beyond the Sky




