Four Chambers of the Heart 0

عنوان :دل کے چار خانے . ثمرین بی بی
اللّٰہ پاک نے ہمارے جسم کے سارے آرگن بڑے ہی خوبصورت انداز میں بنائے ہیں ہر آرگن اپنا کام بہت ہی خوبصورت انداز سے سر انجام دے رہا ہے ہمارے جسم کا سب سے خوبصورت اور پیارا آرگن دل ہے ۔ اب جسم کا سب سے پیارا آرگن تو میں کہہ رہی ہوں لیکن سب سے ذیادہ بوجھ بھی یہ ہی اٹھاتا ہے بظاہر تو اگر دیکھا جائے تو اس کا سائز بند مٹھی کے برابر ہے مگر پھر بھی سب سے مضبوط ہوتا سارے جہاں کا درد اپنے اندر سمیٹ لیتا ہر چیز کو برداشت کرتا اور تو اور ٹوٹنے کے بعد خود ہی جڑ جاتا خاموشی سے سب کچھ سہہ جاتا ۔۔ ہمارے جسم کے آرگن کے ذمے کوئی نا کوئی کام ہے اب ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں دل کا کام بڑا آسان ہے خون کو پمپ کرنا سارے جسم تک آکسیجن والا صاف خون پہچانا دماغ،گردے،ہاتھ،پاؤں ۔۔۔۔ ہر جگہ اور گندا خون واپس لا کر پھیپڑوں میں بھیجنا تاکہ وہاں صاف ہو جائے ۔۔۔۔ ہم سب کام کرتے ہیں ہمیں پھر چھٹی بھی مل جاتی ہے پھر ہم آرام بھی کرتے ہیں مگر دل کو چھٹی بھی نہیں ملتی 24 گھنٹے کام کرتا ہے سوتے ہوئے بھی ، جاگتے ہوئے بھی ،روتے ہوئے بھی ایک منٹ میں 72 مرتبہ اور ایک دن میں تقریباً ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے اور اپنا یہ کام ایمانداری سے کرتا ہے ۔ڈاکٹر کہتے ہیں دل کے چار خانے ہیں لیکن صوفی کہتے ہیں اس کے چار خانے اور بھی ہیں۔پہلا خانہ یادوں کا خانہ ہے اس میں ہم ان لوگوں کو رکھتے ہیں جو اب ہمارے پاس نہیں بہت دور ہیں ہم سے ہمارے پچپن کی یادیں، ہمارے اساتذہ کے کہے ہوئے خوبصورت جملے، ہمارے والدین کا پیار ، ہمارے پچپن کے ریت کے بنائے ہوئے گھر شاید دل کا یہ خانہ کبھی خالی نہیں ہوتا جب دنیا ہمیں ستائےتو اس خانے کا دروازہ خود ہی کھل جاتا ہے دوسرا خانہ دعاؤں کا ہوتا ہے اس میں وہ خوش قسمت لوگ رہتے ہیں جن کا نام ہم سجدوں میں روتے ہیں یا اللّٰہ میرے والدین کو صحت دے، مجھ سے وابستہ ہر رشتے کو سکون دے، ،بھٹکے ہوئے کو ہدایت دے ، میرے ملک کو ترقی دے اسی خانے کی بدولت ہمیں اپنے لیے کچھ مانگنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تیسرا خانہ محبت کا خانہ ہوتا یہ سب سے نرم اور نازک خانہ ہوتا ہے اس میں ہم ان لوگوں کی محبت جوڑ کر رکھتے ہیں جن کے لیے ہمارا دل دھڑکتا ہے ہمارے والدین،دوست ہمارا پیارا وطن پاکستان اور سب سے بڑھ کر اللّٰہ پاک اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ۔ اس دل کے خانے میں پھر نفرت کی گنجائش نہیں بچتی اگر ہمارے دل کا یہ خانہ صاف ہو تو اس کی روشنی سے باقی تینوں خانے خود ہی روشن ہو جاتے ہیں ۔چوتھا خانہ صبر کا خانہ ہوتا ہے بظاہر تو یہ خانہ خالی لگتا ہو گا لیکن اصل میں سوچا جائے تو سب سے بھرا ہوا یہی ہوتا ہے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں جس طرح خفیہ ایجنسی ہوتی ہیں اسی طرح ہمارے دل کا یہ ایک خفیہ خانہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں ہم اپنے وہ آنسو چھپا کر رکھتے ہیں جو ہم کسی کے آگے ظاہر نہیں کر سکتے وہ زخم چھپا کر رکھتے ہیں جن پر کبھی ہم شکوہ نہیں کرتے جن کو ہم مسکرا کر برداشت کر جاتے ہیں یہی وہ خانہ ہے جو انسان کو بہت بڑا بنا دیتا اللّٰہ پاک کی نظر میں اور اللّٰہ پاک کے بہت قریب لے جاتا ۔ ڈاکٹر ECG سے ہمارے دل کے چار خانے چیک کرتے ہیں اور اللّٰہ پاک ہمارے دل کے چار خانے ہمارے نیت سے چیک کرتے ہیں اس لیے دل کو پھر ہمیشہ صاف رکھو کیونکہ اگر ہمارا ایک خانے میں بھی میل ہوئی تو وہ باقی خانوں کو بھی میلا کر دے گا اس کو حسد ، بغض ،لالچ ، جھوٹ جیسی بیماریوں سے دور رکھو ہمیشہ دل کو نرم رکھو کیونکہ اللّٰہ کو دل کا سخت ہونا نا پسند ہے تب ہی تو ہڈی کے بغیر بنایا دل کو دل چونکہ خوبصورت آرگن ہے تو پھر اس میں نفرت تو ہونی بھی نہیں چاہیے دل تو صرف محبتوں کی سر زمین ہے ۔
یوں ہی لکھتے ہوئے میرے ذہن میں خیال آیا کہ شکر گزاری کا بھی خانہ ہونا چاہیے اور یہ ان دلوں کے پاس ہونا چاہیے جن کے چاروں خانے روشن ہیں اور روشن دلوں والے خاص لوگ ہوتے ہیں جن کو اللّٰہ پاک خود چنتے ہیں ۔
دلوں کو خوبصورت بنانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں شاید بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس یہ صفت ہوتی ہے ۔ اس لیے دل کو ہلکا رکھو خوبصورت یادوں سے ، دعاؤں سے ، محبت،صبر اور شکر گزاری سے جس دن دل کےچاروں خانے آباد ہو جاتے ہیں تو ذندگی جنت لگنے لگتی ہے۔
اختتام میں میرے پاس یہی الفاظ ہیں کے دل چھوٹا ہونے کے باوجود بہت بوجھ سارے بوجھ کر خود کو بہت بڑا بنا دیتا ہے اور ہمیں یہ بتاتا ہے کے اصل طاقت سائز میں نہیں برداشت،صبر اور محبت میں ہوتی ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں بہت سے لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کے ہماری ذندگی میں سکون نہیں میرا ماننا ہے سکون کا تعلق دل سے ہوتا ہے اگر ہم چاہتے ہیں کے ہماری ذندگی سکون والی بن جائے تو ہمیں اپنے دل کے چاروں خانوں کی صفائی کرنی ہو گی ۔ یادوں کو خوبصورت بنانا ہو گا ، دعاؤں کا سچا بنانا ہو گا ،محبتوں کو خالص اور صبر کو اور مضبوط کرنا ہو گا کیونکہ دل جب دل صاف ہوتا ہے تو دنیا خوبصورت لگتی ہے اور اگر دل میں اللّٰہ ہو تو یہی دنیا جنت لگتی ہے اس لیے اس کو نفرت کے لیے کبھی بھی استمعال نا کریں یہ تو محبت کی سر زمین ہے اسے اللّٰہ سے جوڑ کر رکھیں پھر دیکھیں کے ذندگی کس قدر خوبصورت اور سکون والی بن جاتی ہے ۔

ہجرت کے بعد اردو سے میرا رشتہ: امریکا میں اردو ادب کی نئی جہات. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا

ایک گفتگو جس نے میری سوچ بدل دی. بتول فاطمہ

Four Chambers of the Heart

50% LikesVS
50% Dislikes

دل کے چار خانے . ثمرین بی بی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں