جنسی استحصال، معصوم بچیوں پر ظلم، عورتوں کا قتل اور گھریلو تشدد آخر ہم کب تک خاموش رہیں گے؟ بتول فاطمہ
جنسی استحصال، معصوم بچیوں پر ظلم، عورتوں کا قتل اور گھریلو تشدد آخر ہم کب تک خاموش رہیں گے؟
یہ تحریر شاید آپ کو تلخ لگے گی، مگر یہ تلخی آج کی نہیں۔ یہ ان بے شمار واقعات کی تلخی ہے جنہوں نے ہمارے معاشرے کے ضمیر کو بار بار جھنجھوڑا، مگر ہم چند دن آنسو بہا کر، چند پوسٹیں لکھ کر اور چند نعرے لگا کر دوبارہ خاموش ہو گئے۔
کہیں ایک معصوم بچی جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہے، کہیں کسی بیٹی کی زندگی برباد کر دی جاتی ہے، کہیں ایک عورت کو اس کا اپنا شوہر بے دردی سے قتل کر دیتا ہے اور معاملے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کہیں بچوں کے سامنے ان کی ماں کی عصمت پامال ہوتی ہے۔ ایسے واقعات کی فہرست بنائیں تو دل کانپ اٹھتا ہے۔
زینب کا سانحہ ہمیں آج بھی یاد ہے۔ اس کے بعد بھی واقعات رکے نہیں۔ ہم نے احتجاج کیے، انصاف کے مطالبے کیے، سوشل میڈیا پر آوازیں اٹھائیں، مگر سوال وہیں کھڑا ہے:
آخر کب تک؟
کب تک ہم چپ رہیں گے؟
کب تک ظلم سہتے رہیں گے؟
سب سے زیادہ دکھ ان معصوم بچیوں کے لیے ہوتا ہے جو نہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھا سکتی ہیں، نہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا دفاع کر سکتی ہیں۔ ان کے چہروں پر معصومیت ہوتی ہے، دل میں اعتماد ہوتا ہے، اور وہ بڑوں کو اپنا محافظ سمجھتی ہیں۔ پھر جب کوئی درندہ اسی اعتماد کو روندتا ہے تو صرف ایک بچی زخمی نہیں ہوتی، پورا معاشرہ زخمی ہوتا ہے۔
جس شخص کے پاس طاقت ہے، اختیار ہے یا کسی کمزور پر دسترس ہے، اگر وہ اسی طاقت کو ظلم کے لیے استعمال کرے تو معاشرہ اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتا جب تک قانون واقعی اس کے سامنے کھڑا نہ ہو جائے۔
ہمیں ایسے جرائم پر ایسی سخت، یقینی اور بلاامتیاز قانونی سزا چاہیے جو مجرم کو یہ یقین دلا دے کہ وہ قانون سے بچ نہیں سکتا۔ سزا غصے اور انتقام کے تحت نہیں، بلکہ قانون، عدالت اور شریعت کے اصولوں کے مطابق ہو؛ ایسی سزا جس میں مظلوم کو انصاف ملے اور دوسرے مجرموں کے لیے عبرت پیدا ہو۔
ہم مسلمان ہیں۔ ہمیں اپنے دین کے عدل، حرمتِ جان، حرمتِ عزت اور حقوق العباد کے اصولوں کو سمجھنا ہوگا۔ اسلام ظلم کو معمول بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ کسی کی جان، عزت یا جسم پر زیادتی معمولی جرم نہیں کہ چند سال بعد مجرم واپس معاشرے میں آ جائے اور متاثرہ خاندان عمر بھر اس صدمے کو اٹھاتا رہے۔
ہمیں اپنے عدالتی نظام، تفتیش، پولیس، استغاثہ اور قانون کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ صرف قانون کی کتاب میں سزا لکھ دینا کافی نہیں؛ سزا کا یقینی اور منصفانہ نفاذ بھی ضروری ہے۔
ہم ہر واقعے کے بعد دو دن روتے ہیں۔
دو دن پوسٹیں لکھتے ہیں۔
دو دن انصاف مانگتے ہیں۔
پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔
پھر اگلی خبر آتی ہے۔
پھر ایک اور بچی۔
پھر ایک اور عورت۔
پھر ایک اور گھر اجڑتا ہے۔
اور ہم پھر چند دن کے لیے جاگتے ہیں۔
آخر کب تک؟
خدارا! اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔ اپنے مسلمان ہونے پر غور کریں، اپنے معاشرے پر غور کریں، اپنے نظامِ انصاف پر غور کریں اور سب سے بڑھ کر اس سوال پر غور کریں کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیسا معاشرہ چھوڑ رہے ہیں۔
ہمیں صرف مجرم کو سزا دینے کی بات نہیں کرنی؛ ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہے جہاں بچی محفوظ ہو، عورت محفوظ ہو، گھر محفوظ ہو اور کمزور انسان طاقتور کے رحم و کرم پر نہ ہو۔
یہ صرف کسی ایک زینب، کسی ایک عورت یا کسی ایک خاندان کا مسئلہ نہیں۔
یہ ہماری بیٹیوں کا مسئلہ ہے۔
یہ ہماری ماؤں کا مسئلہ ہے۔
یہ ہماری بہنوں کا مسئلہ ہے۔
یہ ہمارے معاشرے کا مسئلہ ہے۔
اور آخرکار یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کا مسئلہ ہے۔
آواز اٹھائیے، مگر قانون کے دائرے میں۔
انصاف مانگیے، مگر مسلسل۔
مجرم کو بچانے کے بجائے مظلوم کا ساتھ دیجیے۔
اور ایسا نظامِ انصاف مانگیے جہاں جرم کے بعد برسوں تک فائلیں نہ سوئیں، بلکہ مظلوم کو بروقت انصاف ملے۔
آخر کب تک ہم صرف تماشائی بنے رہیں گے؟
کب تک چپ رہیں گے ہم؟
کب تک ظلم سہتے رہیں گے؟
اب خاموشی بھی ایک سوال ہے۔
اور اس سوال کا جواب ہمیں دینا ہوگا۔
شریعت یعنی اللہ کا حکم۔ جب ہم اللہ کے حکم کو ترجیح نہیں دیں گے تو پھر حقیقی عدل و انصاف کیسے قائم ہوگا؟ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ اس روئے زمین پر اللہ کے احکامات کو مقدم رکھا جائے اور عدل کا نظام قائم کیا جائے۔
خون کا بدلہ خون، جان کا بدلہ جان یہ انتقام نہیں، بلکہ عدل کے اصول کی طرف اشارہ ہے؛ ایسا عدل جو مظلوم کا حق محفوظ کرے اور ظالم کو اس کے جرم کی قانونی سزا دے۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اللہ کے احکام کو چھوڑ کر آخر کس نظام میں انصاف تلاش کر رہے ہیں؟ اگر ہم واقعی ایک پُرامن اور محفوظ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اللہ کے مقرر کردہ اصولِ عدل کو سمجھنا اور قانون کے دائرے میں نافذ کرنا ہوگا۔
نبی کریم ﷺ کا پیغامِ محبت و امن. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
Violence Against Innocent Girls




