محمد رفیعؔ: وہ آواز جو آج بھی دلوں کی دھڑکن ہے. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
موسیقی کی دنیا میں کچھ آوازیں صرف کانوں تک نہیں پہنچتیں بلکہ دلوں میں گھر کر لیتی ہیں۔ وقت گزرتا رہتا ہے، نسلیں بدلتی رہتی ہیں مگر ایسی آوازیں اپنی تازگی، کشش اور اثر کھونے کے بجائے مزید معتبر ہوتی چلی جاتی ہیں۔ برصغیر کی فلمی موسیقی میں اگر کسی ایک آواز کو یہ مقام حاصل ہوا تو وہ محمد رفیعؔ کی آواز ہے۔ وہ صرف ایک گلوکار نہیں تھے بلکہ جذبات کے ایسے ترجمان تھے جنہوں نے محبت کو بھی آواز دی، جدائی کو بھی، عقیدت کو بھی اور وطن سے محبت کو بھی۔
24 دسمبر 1924ء کو امرتسر کے قریب کوٹلہ سلطان سنگھ میں پیدا ہونے والے محمد رفیع کا تعلق ایک سادہ گھرانے سے تھا لیکن قدرت نے انہیں ایک غیر معمولی نعمت عطا کی تھی۔ کلاسیکی موسیقی کی تربیت نے اس قدرتی صلاحیت کو مزید نکھارا اور پھر 1940 کی دہائی میں فلمی دنیا میں ان کا آغاز ہوا۔ یہ ایک ایسے سفر کی ابتدا تھی جو آگے چل کر برصغیر کی موسیقی کی تاریخ کا روشن ترین باب بن گیا۔
رفیع صاحب کی اصل انفرادیت ان کی آواز کی وسعت تھی۔ وہ صرف گاتے نہیں تھے بلکہ ہر لفظ کو محسوس کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پردے پر جس اداکار کے لیے وہ گاتے، یوں محسوس ہوتا جیسے وہی اداکار اپنی کیفیت خود بیان کر رہا ہو۔ دلیپ کمار کی سنجیدگی ہو، شمی کپور کی شوخی، دیو آنند کی دلکشی یا راجیش کھنہ کی رومانویت، رفیع صاحب ہر کردار میں اپنی آواز کو اس مہارت سے ڈھال دیتے کہ حقیقت اور اداکاری کی حد مٹ جاتی تھی۔
1950ء سے 1970ء تک کا دور بجا طور پر محمد رفیع کا سنہری زمانہ کہلاتا ہے۔ اسی عرصے میں انہوں نے نوشاد، شنکر جے کشن، ایس ڈی برمن، او پی نیر، روی، روشن، غلام محمد، لکشمی کانت پیارے لال اور آر ڈی برمن جیسے نامور موسیقاروں کے ساتھ وہ شاہکار تخلیق کیے جو آج بھی موسیقی کی معراج سمجھے جاتے ہیں۔ “چودھویں کا چاند ہو”، “جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا”، “بہاروں پھول برساؤ”، “کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیوں”، “من تڑپت ہری درشن کو آج” اور “کیا ہوا تیرا وعدہ” جیسے نغمے محض گیت نہیں بلکہ برصغیر کی ثقافتی یادداشت کا حصہ بن چکے ہیں۔
رفیع صاحب کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو ان کی ہمہ گیری تھی۔ انہوں نے محبت، غم، قوالی، غزل، بھجن، کلاسیکی موسیقی اور قومی نغموں سمیت ہر صنف میں اپنی بے مثال صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔ ان کی آواز میں نہ تصنع تھا، نہ بناوٹ۔ وہ درد گاتے تو سامع کا دل بھیگ جاتا، خوشی گاتے تو محفل میں زندگی دوڑ جاتی، اور دعا گاتے تو عقیدت کی کیفیت طاری ہو جاتی۔
یہی وجہ ہے کہ انہیں صرف فلمی گلوکار کہنا ان کے فن کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ وہ ایک ایسا عہد تھے جس نے پلے بیک سنگنگ کو فن کی معراج تک پہنچایا۔ سات ہزار سے زائد گیت، متعدد زبانوں میں گائیکی، بے شمار سپر ہٹ نغمے، فلم فیئر ایوارڈز، پدم شری اور قومی اعزازات ان کی کامیابی کی داستان ضرور سناتے ہیں، مگر ان کا سب سے بڑا اعزاز عوام کی وہ محبت ہے جو آج بھی نصف صدی گزرنے کے باوجود کم نہیں ہوئی۔
31 جولائی 1980ء کو دل کا دورہ پڑنے سے یہ عظیم فنکار دنیا سے رخصت ہوگیا مگر فن کی دنیا میں بعض لوگ جسمانی طور پر نہیں، اپنی آواز کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔ محمد رفیع بھی انہی خوش نصیب فنکاروں میں شامل ہیں۔ آج بھی ریڈیو پر ان کا کوئی نغمہ بجے، کسی شادی میں “بہاروں پھول برساؤ” سنائی دے، کسی محفل میں “چودھویں کا چاند ہو” گونجے یا قومی دن پر “کر چلے ہم فدا” کی دھن ابھرے تو محسوس ہوتا ہے کہ رفیع صاحب کہیں گئے ہی نہیں۔
جدید موسیقی کے شور میں بھی اگر کوئی آواز سکون، سادگی اور خلوص کی علامت بن کر ابھرتی ہے تو وہ محمد رفیع کی آواز ہے۔ ان کی گائیکی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ سچا فن نہ زمانے کا محتاج ہوتا ہے اور نہ ہی نسلوں کا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی موسیقی کے سنجیدہ شائقین کے نزدیک محمد رفیع صرف ایک نام نہیں، ایک معیار ہیں؛ ایسا معیار جس تک پہنچنا آسان نہیں، اور جسے فراموش کرنا ممکن نہیں۔
urdu news update Muhammad Rafi voice




