پاکستان کی کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک نیا اور سنہرا باب رقم، آٹھ پاکستانی خواتین کوہ پیماؤں نے 6,040 میٹر بلند خسر گنگ چوٹی کامیابی سے سر کر کے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا۔
پاکستان کی کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک نیا اور سنہرا باب رقم ہو گیا ہے۔ عزم، حوصلے اور ہمت کی ایک ایسی داستان جس نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ الپائن کلب آف پاکستان کی دوسری ویمنز مہم کے دوران آٹھ پاکستانی خواتین کوہ پیماؤں نے 6,040 میٹر بلند خسر گنگ چوٹی کامیابی سے سر کر کے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا۔
وی او ۔ الپائن کلب آف پاکستان کی دوسری ویمنز خسر گنگ مہم کامیابی سے مکمل ہو گئی۔ ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والی آٹھ خواتین کوہ پیماؤں نے 17 جولائی کی صبح 6,040 میٹر بلند خسر گنگ چوٹی سر کر کے پاکستان میں خواتین کی کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک نیا سنگِ میل قائم کیا۔ کامیاب ٹیم میں گلگت بلتستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل تھیں۔ مہم کی قیادت بی بی افزون نے کی، جبکہ معروف ہائی آلٹیٹیوڈ گائیڈز علی محمد سادپارہ، صادق حسین سادپارہ اور الیاس ہُشے نے تکنیکی رہنمائی فراہم کی۔ خسر گنگ پر روپ فکسنگ کے فرائض قائد شگری نے انجام دیے، جن کی مہارت نے ٹیم کی محفوظ پیش قدمی میں اہم کردار ادا کیا۔الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ایاز شگری نے کامیاب خواتین کوہ پیماؤں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ خواتین نے ہمت، عزم، ٹیم ورک اور پیشہ ورانہ مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق خسر گنگ کی کامیاب سمٹ پاکستان میں خواتین کی کوہ پیمائی کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے، اور الپائن کلب مستقبل میں بھی خواتین کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے مزید مواقع فراہم کرتا رہے گا۔ الپائن کلب آف پاکستان نے تمام کامیاب خواتین کوہ پیماؤں، گائیڈز، تکنیکی عملے اور معاون اسٹاف کو اس تاریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔
فیفا ورلڈ کپ 2026(فتح، تنازع اور عالمی تاثر) سیدہ تسکین بخت
عنوان: یہ کہانی ہم سب کی ہے . ماہ نور کنول
تحریکِ توازن اردو ادب کے ساتویں سالانہ جشن کے موقع پر چند احساسات احباب کی نذر. سلیم خان
urdu news update Historic Milestone in Pakistan’s Mountaineering




