تحریکِ توازن اردو ادب کے ساتویں سالانہ جشن کے موقع پر چند احساسات احباب کی نذر. سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
اتوار، ۱۹ جولائی ۲۰۲۶ء
الحمدللہ رب العالمین!
زندگی میں بعض وابستگیاں محض رسمی نہیں ہوتیں، بلکہ رفتہ رفتہ انسان کی شخصیت، فکر اور احساس کا حصہ بن جاتی ہیں۔ میرے لیے تحریکِ توازن اردو ادب بھی ایسی ہی ایک بابرکت اور خوش نصیب وابستگی ہے۔ آج جب یہ تحریک اپنے قیام کے سات سال مکمل کر رہی ہے تو دل بے اختیار شکر، محبت اور افتخار کے جذبات سے لبریز ہے۔
قریباً پانچ برس قبل محترم معین الدین قریشی صاحب کی سفارش پر مجھے اس ادبی قافلے میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ ابتدا میں میں نے اپنی طبیعت اور مزاج کے مطابق ادبی ترسیلات کا سلسلہ جاری رکھا۔ کبھی یہ خیال بھی نہ تھا کہ یہ تعلق اتنا مضبوط ہو جائے گا کہ تحریکِ توازن میری ادبی شناخت کا اہم حصہ بن جائے گی۔ احباب کی بے لوث محبت، پذیرائی اور حوصلہ افزائی نے میرے اندر مزید بہتر لکھنے، سیکھنے اور اس ادبی سفر میں فعال کردار ادا کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔
وقت کے ساتھ احساس ہوا کہ تحریکِ توازن اردو ادب صرف ایک ادبی گروہ نہیں بلکہ ایک ایسا باوقار خاندان ہے جہاں قلم کی حرمت، اختلاف میں تہذیب، رفاقت میں خلوص اور ادب میں توازن کو بنیادی اقدار کی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جنہوں نے اس پلیٹ فارم کو منفرد بنایا اور دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے اہلِ قلم کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ اس سفر میں رئیس التحریک محترم احمد منیب صاحب کی ٹڑڑشفقت، اعتماد اور حوصلہ افزائی ہمیشہ میرے لیے باعثِ فخر رہی۔ ان کی قیادت میں اعلیٰ انتظامیہ نے پہلے مجھے منتظم اور پھر منتظمِ اعلیٰ کی ذمہ داری سونپی۔ بعد ازاں 2023ء میں مجھے اساسی اراکین میں شامل کرتے ہوئے “مرابطِ اساسی” مقرر کیا گیا۔ میرے لیے یہ صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک امانت، ایک اعتماد اور ایک ایسی ذمہ داری ہے جسے میں ہمیشہ اپنے ادبی سفر کا قیمتی سرمایہ سمجھوں گا۔ میں خصوصی طور پر سرپرست محترم مسعود حساس صاحب، محترم عامر حسنی صاحب، محترم ڈاکٹر ارشاد خان، محترم کامل جنیٹوی صاحب، محترمہ روبینہ میر صاحبہ، محترمہ ڈاکٹر لبنیٰ آصف صاحبہ، محترمہ عظمیٰ گوندل صاحبہ، محترم احمر جان اور ان تمام مخلص احباب کا تہہ دل سے ممنون ہوں جنہوں نے ہر مرحلے پر میری رہنمائی کی، میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے اپنی دعاؤں اور محبتوں میں یاد رکھا۔ اگر کسی کا نام رہ گیا ہو تو وہ بھی میرے دل کی دعاؤں میں برابر شریک ہے کیونکہ تحریکِ توازن اردو ادب کا ہر رکن اس سفر کی خوبصورتی میں اپنا حصہ رکھتا ہے۔
اس جشنِ سالگرہ کے موقع پر میں گزشتہ سال شامل ہونے والی نئی متحرک ساتھی اور منتظمہ، ریسرچ اسکالر، گوجرہ پاکستان محترمہ یاسمین اختر طوبیٰ صاحبہ کا خصوصی ذکر ضرور کرنا چاہوں گا جو اس وقت سب سے زیادہ فعال رکن ہیں اور انہوں نے تحریکِ توازن اردو ادب کی رونق کو نہ صرف قائم رکھا ہوا ہے بلکہ اس میں اضافہ کیا ہے۔ آپ ایک قابل تبصرہ و کالم نگار، افسانہ نگار، شاعرہ، ادیبہ، محققہ اور معلمہ ہیں۔ دعا ہے اللّٰہ پاک انہیں بہترین کامیابیاں عطا فرمائے، آمین۔ آپ ہماری تحریک کا ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔
ایک نہایت اہم اور قابلِ احترام شخصیت، جو عرصہ دراز سے خاموش مگر مسلسل جدوجہد اور بھرپور فعالیت کے ساتھ اپنا مثبت کردار ادا کر رہی ہیں، محترم کامل جنیٹوی ہیں۔ میرے نزدیک ان کی خدمات، اخلاص اور مسلسل وابستگی کا ذکر کیے بغیر میرا یہ پیغام ہرگز مکمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے جس استقامت، دیانت اور احساسِ ذمہ داری سے اپنا کام کرتے ہیں، اس کے لیے وہ بجا طور پر خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ ایسی شخصیات ہی کسی بھی اجتماعی سفر کا حقیقی سرمایہ اور مضبوط ستون ہوتی ہیں۔
اوائل 2024ء میں امریکہ منتقل ہونے کے بعد فاصلہ ضرور بڑھ گیا مگر دل کی قربت میں کوئی کمی نہ آئی۔ وقت اور ملک بدلنے کے باوجود تحریکِ توازن اردو ادب سے میری وابستگی پہلے کی طرح مضبوط رہی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں مجھے ہمیشہ عزت، اعتماد، اپنائیت اور اظہار کی آزادی ملی۔ یہی وہ احساسات ہیں جو کسی بھی ادارے کو محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک گھر بنا دیتے ہیں۔
تحریکِ توازن اردو ادب کا سات سالہ سفر اس بات کا گواہ ہے کہ اگر نیت خالص ہو، قیادت مخلص ہو اور رفقا باہمی احترام کے جذبے سے سرشار ہوں تو محدود وسائل بھی بڑے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ اس تحریک نے نہ صرف نئی ادبی آوازوں کو متعارف کرایا بلکہ سینئر اہلِ قلم اور نوآموز لکھنے والوں کے درمیان ایک ایسا خوبصورت ربط قائم کیا جس سے اردو ادب کی خدمت کا دائرہ وسیع ہوا۔
یہ امر باعثِ مسرت ہے کہ کچھ عرصے کے تعطل کے بعد تحریکِ توازن اردوو ادب نئے عزم، نئی توانائی اور نئی منصوبہ بندی کے ساتھ دوبارہ اپنی ادبی سرگرمیوں کا آغاز کر رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ نیا دور پہلے سے زیادہ تابناک، زیادہ فعال اور زیادہ ثمرآور ثابت ہوگا۔
میں دل کی گہرائیوں سے رئیس التحریک محترم احمد منیب صاحب، سرپرستوں، منتظمین، مہمانانِ خصوصی، مہمانانِ اعزازی، شرکائے محفل اور دنیا بھر میں موجود تحریکِ توازن کے تمام رفقا کو ساتویں سالانہ جشن کی دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اخلاص، اتحاد، رواداری اور ادب کے فروغ کے اس سفر میں ہمیشہ یکجا رکھے۔
میری دعا ہے کہ تحریکِ توازن اردو ادب آنے والے برسوں میں اسی محبت، وقار اور خلوص کے ساتھ ترقی کی نئی منازل طے کرے، اردو زبان و ادب کی خدمت میں مزید مؤثر کردار ادا کرے، اور دنیا بھر کے اہلِ قلم کے لیے امید، اعتماد اور تخلیقی اظہار کا مضبوط مرکز بنی رہے۔ اللہ تعالیٰ اس ادبی چراغ کو ہمیشہ روشن رکھے، اس کے تمام وابستگان کو سلامت رکھے اور اس تحریک کو اردو ادب کی تاریخ میں ایک روشن اور باوقار باب کے طور پر ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ آمین۔
جنت نظیر وادی گلگت بلتستان . محمد حسین حسرتؔ (روندو خمراہ)
urdu news Celebrating Seven Years of Tehreek-e-Tawazun Urdu




