فاصلے تھے بہت یہ سچ ہے مگر.. روز خوابوں میں بھی جناب آئے یاسمین اختر طوبیٰ(گوجرہ پاکستان)
غزل
گِھر کے جب درد کے سحاب آئے
‘آج تم یاد بے حساب آئے’
میں ہی کیا چاند بھی اداس رہے
ان کے خط کا نہ جب جواب آئے
فاصلے تھے بہت یہ سچ ہے مگر
روز خوابوں میں بھی جناب آئے
حوصلہ جب مرا جواں ہے تو پھر
کیوں مرے رخ پہ اضطراب آئے
تیری یادوں کی نرم بارش سے
خشک موسم میں پھر گلاب آئے
جس کے دل کی اجڑ گئی دنیا
آنکھ میں اس کی کیسے خواب آئے
میں نے چاہا اسے دعا کی طرح
اور مرے حصے میں عتاب آئے
دیکھا ‘طوبیٰ’ جو زندگی کو کبھی
سامنے کتنے ہی عذاب آئے
Urdu Ghazal




